معیارِزندگی میں بہتری لانے کےلئے اقتصادی ،سماجی ترقی بھی لازم ہے:ورلڈبینک

معیارِزندگی میں بہتری لانے کےلئے اقتصادی ،سماجی ترقی بھی لازم ہے:ورلڈبینک
معیارِزندگی میں بہتری لانے کےلئے اقتصادی ،سماجی ترقی بھی لازم ہے:ورلڈبینک

  

 لندن (بیورورپورٹ)ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ میں خبر دار کیا گیا ہے کہ محض اقتصادی ترقی اس بات کی ضامن نہیں کہ لوگوں کی زندگی کے معیار میں بھی بہتری آئے گی۔ رپورٹ کے مطابق اگرچہ بے روزگاری سے نمٹنے کے لیے ملازمتوں کے مواقع فراہم کرنے سے کئی لوگوں کی زندگیوں میں بہتری آئے گی تاہم معاشرے میں مجموعی طور پر بہتری لانے کے لیے چند ملازمتیں دوسروں کے نسبت زیادہ اہمیت رکھتی ہیں۔ اس سلسلے میں ورلڈ بینک کی سالانہ ورلڈ ڈیویلپمنٹ رپورٹ کے ڈائریکٹر مارٹن راما کا کہنا ہے کہ صرف ملازمتوں کی تعداد ہی نہیں بلکہ یہ بھی اہم ہے کہ لوگ ملازمت کے طور پر کر کیا رہے ہیں ۔ورلڈ ڈیویلپمنٹ رپورٹ کے ڈائریکٹر مارٹن راما نے افریقی ملک موزمبیق کی مثال دی جہاں 'کموڈیٹیز' یا تجارت کے لیے مختص مصنوعات کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کی وجہ سے افریقہ کے اس خطے میں زبردست اقتصادی ترقی دیکھنے میں آئی ہے البتہ اس ملک کی 80 فیصد آبادی زرعی شعبے سے منسلک ہے جہاں غربت کی شرح اب بھی کافی بلند ہے رپورٹ کے مطابق حکومتوں کو اپنی توجہ ان شعبوں میں ملازمتیں پیدا کرنے پر مرکوز کرنی چاہیے جن سے معاشرے پر مثبت اثر مرتب ہوں مثال کے طور پر خواتین کے لیے ملازمتوں کی تعداد میں اضافے کو طبی اور تعلیمی شعبے میں زیادہ سرمایہ کاری سے جوڑا گیا ہے اسی طرح نوجوان مردوں کے لیے ملازمت کے مواقع سے منسلک رکاوٹوں میں کمی سے بہتر سماجی صورتحال پیدا ہونے کے امکانات ہیںورلڈ بینک کے مطابق اس وقت بے روزگاری ایک عالمی مسئلہ ہے اور دنیا بھر میں قریب دو سو ملین افراد ایسے ہیں جو بے روزگار ہیں اور ملازمت کی تلاش میں ہیں عالمی ادارے کے مطابق اس وقت 621 ملین نوجوان ایسے بھی ہیں جو بے روزگار ہیں لیکن ملازمتوں کے تعاقب میں بھی نہیں ہیں افریقی اور ایشیائی ممالک میں بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر دنیا بھر میں ملازمت کرنے والے افراد کی موجودہ شرح کو مستقبل میں صرف برقرار رکھنے کے لیے ہی آنے والے پندرہ برسوں میں چھ سو ملین مزید ملازمتیں درکار ہوں گی۔

مزید : انسانی حقوق