ایشین گیمز ہاکی کے فائنل میں پاکستان کی شکست پر دکھ ہوا: سابق اولمپیئنز

ایشین گیمز ہاکی کے فائنل میں پاکستان کی شکست پر دکھ ہوا: سابق اولمپیئنز

لاہور (سپورٹس رپورٹر) سابق اولمپئنز خواجہ جنید ،انجم سعید ،دانش کلیم، ڈاکٹر عاطف بشیر اور ارشد چوہدری نے کہا ہے کہ ایشین گیمز میں ہاکی کے فائنل میچ میں پاکستان کی بھارت کے ہاتھوں شکست سے پوری قوم کی طرح ہمیں بھی بہت دکھ ہوا ہے لیکن ہار جیت کھیل کا حصہ ہے اور پاکستان ہاکی ٹیم کو شکست کو بھول کر مستقبل کے ٹورنامنٹس کے لئے تیاری کرنی چاہئے ۔نیشنل ہاکی سٹیڈیم لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ جنید کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ہاکی ٹیم نے پورے ٹورنامنٹ میں بہترین کھیل کا مظاہرہ کیا لیکن فائنل میں پنلٹی شوٹ آﺅٹ کے دوران پاکستان کے گول کیپر کے خلاف بھارت کی حکمت عملی کامیاب رہی ۔بھارت کی ٹیم نے پاکستانی گول کیپر کی کمزوری کو پڑھ لیا تھا جس کی وجہ سے پنلٹی شوٹ آﺅٹ پر پاکستان کے خلاف گول ہوئے ۔خواجہ جنید نے کہاکہ ایشین گیمز کا فائنل ہارنے سے پاکستان کی ہاکی ٹیم کو دو نقصان ہوئے ۔

ایک تو پاکستان اپنے اعزاز کا دفاع نہیں کرسکا اور دوسرا وہ اولمپک کے لئے کوالیفائی نہیں کرسکا ۔پاکستان کو بھارت میں ہونے والی چیمپئنز ٹرافی ہاکی ٹورنامنٹ کے لئے بہترین ٹیم بھیجنی چاہئے ۔پاکستان کی موجودہ ہاکی ٹیم میں چار تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔دو ڈیفنس اور دو فارورڈز لائن میں تبدیلی ہونی چاہئے ۔انجم سعید کا کہنا تھا کہ پاکستانی ٹیم کے گول کیپر نے پورے ٹورنامنٹ میں بہترین پرفارمنس کا مظاہرہ کیا لیکن پنلٹی شوٹ آﺅٹ کے دوران اسکی کارکردگی بہتر نہ رہی جسکا خمیازہ پاکستان کو شکست کی صورت میں بھگتنا پڑا ۔ارشد چوہدری کا کہنا تھا کہ بھارتی ٹیم نے پنلٹی شوٹ آﺅٹ کے دوران پاکستانی ٹیم کے گول کیپر کی کمزوری کو بھانپ لیا تھا ۔پاکستان کی ٹیم نے پورے ٹورنامنٹ میں اچھی پرفارمنس دکھائی لیکن پنلٹی شوٹ آﺅٹ کے دوران اپنی پرفارمنس برقرار نہ رکھی ۔عاطف بشیر کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان ٹیم کی پرفارمنس سے مطمئن ہیں تاہم اولمپک میں رسائی اور اعزاز کے دفاع کے لئے فائنل میں جیت ضروری تھی ۔دانش کلیم کا کہنا تھا کہ فائنل میچ میں پاکستان ہاکی ٹیم نے گول کے مواقع ضائع کیئے ،گول کیپر اور پاکستان کی طرف سے پنلٹی شوٹ آﺅٹ لگانے والے کھلاڑیوں کی ناقص کارکردگی کے باعث پاکستان کو شکست ہوئی ۔ٹیم مینجمنٹ کو دیکھنا چاہئے کہ قومی ہاکی ٹیم کے کن شعبوں میں بہتری اور ٹیم میں تبدیلی کی ضرورت ہے ۔

مزید : کھیل اور کھلاڑی


loading...