جوہانسبرگ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بیورو چیف ندیم شبیر کی رپورٹ

جوہانسبرگ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بیورو چیف ندیم شبیر کی رپورٹ
جوہانسبرگ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بیورو چیف ندیم شبیر کی رپورٹ

  


ساﺅتھ افریقہ سمیت دیار غیر میں بسنے والے تارکین وطن کی تعداد 80لاکھ کے قریب ہے رزق کی تلاش میں نصیب نے انہیں ہزاروں میل دور اجنبیوں کے دیسوں میں پہنچا دیا مگر ان کی سوچ اور دل کی دھڑکن میںپاکستان اس قدر بس چکا ہوتا ہے کہ معمولی سی خوشخبری پر وہ پھولے سے سماتے ہیں اور معمولی سے دکھ پر اس قدر بے چین اور بے قرار ہو جاتے ہیں ایسے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے غموث اور دکھ کے پہاڑ گر گئے ہوں دراصل دیس سے دور پردیس میں اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کی خاطر رہنے والے انتہائی حساس ہو جاتے ہیں اور اپنے احساسات اور خواہشات کی قربانی دینے والے تارکین وطن اپنے والدین، عزیز و اقارب حتی کہ دوست احباب کیلئے خوشیاں سمیٹنے کے لئے اپنا دن کا سکون اور رات کی نیند کی قربانی دیتے ہوئے نظر آتے ہیں اب تصویر کا دوسرا رخ دیکھا جائے تو اک پردیسی کے وطن میں بسنے والے والدین، عزیز و اقارب اور دوست احباب کو ان کی مشکلات کا احساس نہیں ہوتا وہی باپ ، بیٹا جو اپنے گھر میں استری کے بغیر کپڑے اور ٹھنڈا کھانا ملنے پر ناراض ہو جاتے تھے پردیس میں بھوکے پیاسے اور اسی کھانا کھا کر بھی خوش ہوتے ہیں ٹرین اور بسوں میں سفر کرتے ہوئے اپنی نیندیں پوری کرتے ہیں تاکہ اپنے پیاروں کے لئے خوشیاں سمیٹ سکیں اور ان کے گھر والے اپنے حملے عزیز واقارب اور دوستوں سے اس کی عیش و عشرت سے بھری زندگی کے فیصلے سناتے ہیں کہ ان کا لخت جگر نوکر چاکر، خوبصورت کوٹھی اور قیمتی کاروں کے قصے اس قدر مشہور کرتے ہیں کہ میرے دیس میں نوکری کرنے والا انکا لخت جگر یا سربراہ ان کے خوابوں کے شیش محل کو تعمیر کرتے کرتے برس ہا برس ایک مشین بن کر کام کرتا رہتا ہے نئے ماڈلز کے موبائل فون، وفات پا جانے والے عزیز و اقارب کے لئے قربانی کے حصے، مہنگے سے مہنگا جانور مقابلے میں خرید کر علاقہ میں اپنے پردیسی پیارے کارعب جمانے کا سلسلہ عروج کو پہنچ جاتا ہے اسی طرح ساﺅتھ افریقہ میں بھی ہزاروں پاکستانی بلکہ لاکھوں پاکستانی محنت مشقت کر کے اپنے اہل خانہ کے لئے دو وقت کی روٹی کما رہے ہیں ان میں سے اکثریت 25سے 50ہزار روپے ماہانہ کما رہے ہیں جس میں سے انہوں نے رہائش کھانا اور ٹرانسپورٹ کا خرچہ نکال کر اہل خانہ کو بھی رقم بھجوائی ہوتی ہے فرمائش کا سلسلہ تہواروں پر زور پکڑتا ہے تو وہی پردیس بے چارہ اپنے خوشحال دوست رہا ہے یا کسی روز سے ادھار مانگنے پر مجبور ہو جاتا ہے اور خوشیاں بھرے تہوار اپنے گھر والوں کو خوش دیکھنے کی خاطر خود مقروض ہو جاتا ہے اگر تارکین وطن کے اہل خانہ اپنے پیاروں کو عرب ممالک، یورپ یا افریقہ میں کام کاج کرتے ہوئے دیکھ لیں تو شاید وہ کھانا کھانا بھی بھول جائیں ان کی راتوں کی نیند حرام اور دن کا سکون برباد ہو جائے مگر کہتے ہیں پردیس کی کوئی عید یا شب برات نہیں ہوتی اسے بس اتنا یاد ہوتا ہے کہ صبح 7بجے کام پر جانا ہے اور رات گئے گھر واپس کیسے جانا ہے یہ لوگ تو ایک روبوٹ کی مانند ہیں اور اس روبوٹ کو بس ایک ہی سبق سکھایا گیا ہے کام کام اور کام تیسری خواہشات اور احساسات کی ڈسک اس وقت نکال لی گئی تھی جب تجھے پردیس جانے کے لئے ائیرپورٹ پر ماتھا چوم کر خدا حافظ کہتے ہوئے یہ کہا تھا کہ اپنا خیال کرنا ہماری فکر نہ کرنا مگر معاملہ الٹ ہو جاتا ہے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر اہل وطن اپنے پردیسی پیاروں کے احساسات اور مجبوریوں کا خیال رکھیں بے وقت کی فرمائشیں فضول خرچی اور معاشرتی مقام کی دوڑ میں شامل ہونے سے گریز کریں اور خوشیاں بھرے تہوار پر اپنے پیاروں کا بھی خیال رکھیں کہ کیا انہوں نے بھی آج کے دن کوئی خوشی منائی یا پھر آج کے دن پر بھی وہ کام پر ہیں۔

مزید : عالمی منظر


loading...