فاﺅنٹین ہاﺅ س میں قیام پذیر بوڑھی نگاہیں ، عید پر اپنوں کی منتظر

فاﺅنٹین ہاﺅ س میں قیام پذیر بوڑھی نگاہیں ، عید پر اپنوں کی منتظر

   لاہور(دیبا مرزا ،فوٹو ذیشان منیر) ذہنی معذور اور نفسیاتی مسائل کے شکار خواتین و مرد کے لئے صوبائی دارالحکومت میں قائم کردہ سب سے بڑے طبی مرکز اور قیام گاہ ”فاﺅنٹین ہاﺅس“ میں سینکڑوں بزرگ مریض یہ عیدالاضحی بھی اپنے پیاروںکی جدائی میںمنائیں گے معصوم بچے اپنے والدین کی راہ تکتے، بزرگ اپنے جگرگوشوں اور اہل خانہ کی راہ تکتے اپنے جذبات اور احساسات کی قربانی دیں گے عیدالاضحی کے حوالے سے گزشتہ روز کئے گئے ”پاکستان“ سروے میں ان خواتین و مرد بزرگ لوگوں سے ملاقات کی گئی، ہر چند کے ان لوگوں کو فاﺅنٹین ہاﺅس میں ضرورت کی تمام اشیاءمیسر تھیں، پہننے کے لئے صاف کپڑے، کھانے کے لئے اچھے پکوان اور عیدالاضحی کی مناسبت سے تحائف بھی دیئے جائیں گے لیکن پھر بھی ان لوگوں کے دلوں میں اپنوں سے ملاقات کی خواہش کوئی نہیں ختم کر سکتا، گزرے ہوئے دنوں کی یادیں اور اپنوں کے ساتھ گزاری ہوئی عیدوں کا کوئی نعم البدل نہیں ان خیالات کا اظہار فاﺅنٹین ہاﺅس میں قیام پذیر بزرگ ارشاد اظہر، مغیرہ نے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یہاں آئے ہوئے حالانکہ کئی برس بیت گئے ہیں لیکن اپنوں کا پیار کوئی نہیں بھلایا جا سکتا انہوں نے کہا کہ ہر تہوار پر ہمیں یہاں تحائف دیئے جاتے ہیں لوگ ملنے بھی آتے ہیں لیکن اپنوں کے آنے کی آس کا دامن ہاتھ میں تھامیں ہماری آنکھیں ان کی منتظر ہوتی ہیں، انہوں نے کہا کہ ہم نے جن بچوں کی خاطر اپنی زندگی کی قربانیاں دی آج انہوں نے ہی ہمیں یہاں لا کر چھوڑ دیا، ثریا بی بی نے بتایا کہ میرا بیٹا مجھے یہاں پر یہ کہہ کر چھوڑ کر گیا تھا کہ میں ایک ہفتہ تک آکر واپس لے جاﺅں گاآج 5سال گزر گئے لیکن وہ واپس نہیں آیا ہے ہر سال ہی امید ہوتی ہے کہ شاید کسی تہوار پر وہ آئے اور مجھے لے جائے ثریا بی بی کی طرح فاﺅنٹین ہاﺅس میں ہزاروں خواتین اپنی زندگی کے دن گزار رہی ہیں جن کے دلوں میں روز ہی آس و امید کے جگنو ٹمٹاتے ہیں اور بجھتے ہیں لیکن یہ ہماری اور ہمارے معاشرے کی بھی ذمہ داری ہے کہ اپنی ان اقداروں، روایات اور رشتوں کی پاسداری کریں اور ان کے دلوں کو ٹھیس نہ پہنچائیں۔

مزید : میٹروپولیٹن 1