موسم حج کا روحانی منظر (2)

موسم حج کا روحانی منظر (2)
 موسم حج کا روحانی منظر (2)

  


حج میں قدم قدم پر جن امور کا سامنا کرنا پڑا ہے، ان میں صبر، سفر،انتظاراورقطارہے۔ آج کے ترقی یافتہ دور میں بھی جبکہ حج کے وی آئی پی پیکج متعارف ہو چکے ہیں، سڑکوں کا جال، ٹرانسپورٹ کی بہتات، مشاعر ٹرین اور پھر ہوٹلنگ کی سہولیات کے باوجود بھی حج مشقت اور صبر کا نام ہے اور حج حج ہی ہے اب اگرچہ اونٹنیوں کی جگہ لگثرری گاڑیوں نے لے لی ہے لیکن ٹریفک کی کئی گھنٹوں تک بلاکج (Blockage)ہی سے عصر حاضر کا برق رفتار انسان چیونٹی کی رفتار سے بھی سست ہو جاتا ہے۔ اسی لئے حدیث شریف میں حج کو جہاد کہا گیا چنانچہ اردو میں حج اور جہاد کی تعبیر ایک ہے جس کے ایک فعل میں کئی افعال آجاتے ہیں، نمازپڑھی جاتی ہے، روزہ رکھا جاتا ہے، زکوٰة دی جاتی ہے، مگر جہاد کی طرح حج کیا جاتا ہے۔ زمان و مکان کے ساتھ حج کی خصوصیت انسان کو یوں خاص کر دیتی ہے ساری زندگی پنجگانہ نماز تو کیا تہجد پڑھنے والے کے نام کے ساتھ نمازی،ہر سال زکوة دینے والے کے نام کے ساتھ مزکی اور کثیر الصیام انسان کے نام کے ساتھ صائم کا سابقہ نہیں لگتا ۔ لیکن ایک بار حج کرنے والا ابھی اپنے ملک سے احرام باندھتا ہے لوگ اس کو حاجی کہنا شروع کر دیتے ہیں۔

نمازمیں تکبیر تحریمہ سے جیسے انسان اپنے ماحول سے منقطع ہو کر اللہ کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔ احرام بھی حج کی ایک قسم کی تکبیر تحریمہ ہے جس میں انسان کی توجہ ہر طرف سے ہٹا کر اللہ کے ساتھ لولگانے کا سامان کیا گیا ہے۔ حالت روزہ میں کھانا، پینا بند کرنا حقیقت میں اللہ کی طرف متوجہ کرنے کے لئے ہے نفس جب خواہشات سے مجرد ہوتا ہے تو اس میں نور پیدا ہوتا ہے، حج میں گھر اور وطن سے دوری ،احباب و اقارب سے دوری اور احرام کی پابندیاں بھی بندے میں یکسوئی پیدا کرنے کے لئے ہیں مگرآج موبائل کے کثرت استعمال نے حج کی روحانی اقدار میں کافی بگاڑ پیدا کر دیا ہے ۔ مجھے تو منیٰ ، عرفات، مزدلفہ میں اس وقت بہت سرور آتا ہے جب مجھے پیدل چلنا پڑے اور ارد گرد کے ماحول میں مجھے کوئی جانتا نہ ہو۔

حج کے دوران کیمرے کا استعمال چند سالوں سے بڑی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ گذشتہ سال تو اس کے استعمال میں خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے،یہاں تک کہ مجھے اندیشہ ہو نے لگا ہے کہ کہیں انسان قبلے کو بھول کر کیمرے میں ہی مگن نہ ہو جائے، مَیں نے ستر، اسی سالہ بوڑھی عورتوں کو بھی موبائل کیمرے سے ایک دوسرے کی تصویریں بنا تے دیکھا، حالت طواف جس میں مڑ کر کعبہ کو دیکھنا بھی جائز نہیں۔ بعض لوگوں کو حالت طواف میں پیچھے منہ کرکے اپنی تصویر بناتے یا بنواتے دیکھا، مواجہ شریف جہاں دررسول ﷺ کی حاضری کے موقع پر مواجہ شریف کے سامنے جہاں انسان نگاہ حبیب ﷺ کے زیر سایہ گرد و پیش بلکہ اپنے آپ سے بے خبر ہو جاتا ہے وہاں کثرت سے میں نے ایسے لوگ دیکھے جو موبائل اور ٹیبلٹ سے تصویریں بنانے میں مصروف تھے۔

بلکہ پس منظر میں روضہ رسول کو لانے کے لئے رسول اللہ ﷺ کی طرف پشت کرکے کھڑے ہو جاتے ہیں حالانکہ عباسی حکمران ابو جعفر منصور نے حضرت امام مالک رحمة اللہ تعالیٰ سے پوچھا کہ روضہ رسول ﷺ پر حاضری کے وقت میں قبلہ کی طرف پشت کرکے اور در رسول ﷺ کی طرف منہ کرکے دعا مانگوں یا رسول اکرم ﷺ کی طرف پشت کرکے اور قبلہ کی طرف منہ کرکے دعا مانگوں تو آپ نے فرمایا کہ تم اس ذات سے اپنا چہرہ کیوں پھیرتے ہو؟ جو تمہارا ہی وسیلہ نہیں بلکہ تمہارے باپ حضرت آدم علیہ السلام کا بھی وسیلہ ہیں چنانچہ حضور اکرم ﷺ کی طرف منہ کرکے دعا مانگو۔

حج میں ہر سال بڑے بڑے عجیب و غریب، حیرت انگیز،عبرت ناک اور رقت آمیز مناظردیکھنے کو ملتے ہیں، کچھ لوگوں کی داستان بڑی دلدوز اور قابل رحم ہوتی ہے اور کچھ لوگوں کا انداز بڑاباعث رشک ہوتاہے۔ مَیں اس انسان کو بڑا عظیم سمجھتا ہوں جو اپنی بوڑھی والدہ کی وہیل چیئر کو چلا رہا ہو یا اپنے لاغرباپ کو کندھوں پر اٹھا ئے ہوئے ہو اور اسے کعبہ کے گرد چکر لگوا رہا ہو یا منیٰ ، عرفات کی راہوں میں موجود ہو۔حج میں جہاں بدن کے تھکنے سے گناہ جھڑتے ہیں وہاں عہد رفتہ میں بار بار جھانکنے سے لطف بڑھتا ہے۔ حج مخصوص کیفیات کا نام ہے جب تک وہ کیفیات حاجی اپنے اوپر طاری نہ کرے حقیقی مقاصد سے عاری رہتا ہے۔ حج حسین یادوں کا ایک سلیبس ہی نہیں، بلکہ صدیوں کی روحانی انجمنوں کی ایک کائنات بھی ہے، کتنے انبیائے کرام علیہ السلام مقربین اور صالحین کی جماعتوں نے یہاں پڑاﺅ ڈالا ہمارے آقا ﷺ نے تو صرف چشم تصور سے ہی نہیں، بلکہ حقیقی آنکھ سے دیکھ کر فرمایا کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام گذر رہے ہیں اور ادھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی سواری ہے ۔

حاجی کعبہ دیکھے تو جلال و جمال خداوندی کا تصور، مقام ابراہیم دیکھے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام کے کعبہ کوتعمیر کرنے کا تصور، حجر اسود کو دیکھے تو رسول اللہ ﷺ کے اسے نصب کرنے والے ہاتھوں کا تصور، طواف کرے تو رسول اللہ ﷺ اور جماعت صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا کندھے ہلا کر کفار مکہ کے دل دھلانے کا تصور صفا ومروہ کو دیکھتے ہی حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ان مضطرب لمحات کا تصور، زمزم کا گھونٹ بھرتے ہوئے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ننھی ننھی ایڑیوں کا تصور،منیٰ میں رسول اللہ کی چھری کی طرف لپکتے اونٹوں کا تصور،کیاپر نور زمانہ تھا جب منیٰ میں جمرہ عقبہ سے 500 میٹر کے فاصلے پر مسجد بیعت کے مقام پر مدینہ شریف سے آئے ہوئے لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی ،کیا حقیقت افروز لمحات تھے جب حجة الوداع کے موقع پر عرفات کے میدان میں جبل رحمت کی نچلی جانب مسجد صخرات کی جگہ قصواءاونٹنی پر کائنات کے رسول اعظم ﷺ قیامت تک کے انسانی ضابطوں کا متن ارشاد فرمارہے تھے۔

حج کے موقع پر بیت اللہ کی زیارت اور مشاعر مقدسہ کی حاضری میں جہاں سرور تسکین ہے وہاں مدینہ شریف کی حاضری بھی اس سفر کا خلاصہ ہے مدینہ منورہ دار الایمان ہی نہیں بلکہ ایمان بھی ہے۔سید المرسلین حضرت محمد مصطفیﷺ کی اس مقام پر جلوہ گری کی وجہ سے یہ سر زمین پوری کائنات میں منفرد ہے، یہاں کے دن تو کیا راتوں میں بھی روشنی ہے،یہاں کے پھول تو کیا کانٹوں میں بھی حسن ہے،یہاں کے گلزاروں ہی میں نہیں بیابانوں اورویرانوں میں بھی بہار رونق افروز ہے۔یہاں ماحول میں اپنے پن کا احساس اور فضاءمیں مٹھاس ہے،یہاں ہوائیں چلنے سے پہلے ادب و احترام کا قرینہ سیکھتی ہیں،چاند کی چاندنی باوضوہو کر اور سورج کی کرنیں سوبارغسل کرکے حاضر خدمت ہوتی ہیں مدینہ شریف تو مدینہ شریف ہے، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی قدس سرہ العزیز تو مطلقا عرب شریف کے بارے میں فرماتے ہیں:

تاب مر آت سحر گردبیابان عرب

غازہ روئے قمر دود چراغان عرب

مدینہ شریف میں صرف انسان ہی نہیں روزانہ ستر ہزار قدسی بھی حاضری کی سعادت پاتے ہیں۔ بانگ درا میں علامہ اقبال شھر نبی ﷺ مدینہ منورہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے لکھا ۔

وہ زمین ہے تو مگر اے خواب گاہ مصطفیﷺ

دید ہے کعبہ کو تیری حج اکبر سے سوا

خاتم ہستی میں تو تاباں ہے مانند نگیں

اپنی عظمت کی ولادت گاہ ہے تیری زمین

تجھ میں راحت اس شہنشاہ معظم کو ملی

جس کے دامن میں اماں اقوام عالم کوملی

جب تلک باقی ہے تو دنیا میں باقی ہم بھی ہیں

صبح ہے تو اس چمن میں گوہر شبنم بھی ہے

دنیا کی کوئی بہارگنبد خضریٰ پر جمی ہوئی نگاہ کو اپنی طرف متوجہ نہیں کرسکتی اوردنیا کا کوئی حاتم طائی مدینہ شریف کے منگتے کو اپنی طرف مائل نہیں کر سکتا کجکلا ہی بھی یہاں کی گدائی پر فخر کرتی ہے اور شام غریباں صبح وطن پہ شرف رکھتی ہے اس شہر میں جینے ہی کی نہیں بلکہ حالت ایمان میں مرنے کی بھی دعائیں مانگی جاتی ہیں کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ شریف کی مشکلات پر صبر کرنے والوں کو جنت کی بشارت دی ہے۔(ختم شد)

مزید : کالم


loading...