ہمیں جینے دو

ہمیں جینے دو

دل خون کے آنسو رو رہا ہے، ڈیڑھ ماہ سے زیادہ وقت گزر چکا ہے، ایک جلیل القدر شخصیت جس کی دنیا میں 500سے زائد فلاحی اور مذہبی تنظیمیں ہیں۔ دوسرا فریق اک نیا پاکستان بنانے چلا ہے ۔ ان کا آپس میں گٹھ جوڑ عجیب بات ہے۔ میڈیا نے ان کی کوریج پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے۔

حکومت اور دیگر تمام سیاسی جماعتوں نے بارہا میٹنگیں کی ہیں مگر کچھ حاصل نہ ہوا۔

فوج شمالی وزیرستان میں ضرب عضب کے نام سے اپنا فرض ادا کررہی ہے۔

ایک طرف پورا پاکستان قدرتی آفات سیلاب جیسی آفت میں مبتلا ہے۔ عوام کی کم تعلیم اور لاشعوری سے چندسو چالاک لوگ عوام کو بجائے ترقی کے دور جہالت میں دھکیل رہے ہیں ۔

آزادی کے باوجود ہم پر حکومت یورپی ممالک کی ہی چلی آرہی ہے ہمارے حکمران امریکہ کے لئے خدمات انجام دیتے ہیں اور قوم اور ملک کو لوٹ کر بڑی سرکار کو خوش کرتے ہیں۔

کسی حکمران کو نہ تو وطن عزیز سے لگاؤ ہے نہ قوم سے کوئی ہمدردی ہے، ہم ہمہ وقت 1964ء سے لے کر آج تک حکمرانوں کی کارکردگی کے خلاف لکھ رہے ہیں، کتابیں تصنیف کی ہیں۔ جسے قارئین کرام نٹ پر دیکھ سکتے ہیں۔

ہم جو بات عرض کرنا چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ ہم نے 1947ء سے لے کر آج تک کے حالات کو دیکھا ہے۔ تحریکیں ، جلسے جلوس، ہڑتالیں دیکھی ہیں، مگر یہ تحریک جو ڈیڑھ ماہ سے زائد عرصہ سے اپنا واویلا کررہی ہے ، اس نے 18کروڑ عوام کو ذہنی طورپر مریض بنا دیا ہے۔ ایک عالم فاضل اپنی شخصیت کو اس قدر گرا دے اور کینیڈا، امریکہ کو خوش کرنے کے لئے قوم اور ملک کے وقار اور آزادی کو اپنی انا پر قربان کررہا ہے ہمیں زیادہ دکھ قادری صاحب کے اس غیرجمہوری عمل سے ہوا ہے، ہم قادری کی بیک گراؤنڈ کو اچھی طرح جانتے ہیں۔

دوسرا جو نیا پاکستان بنانے کے لئے نوجوان عورتوں اور مردوں کے ساتھ کنٹینر پر راگ الاپتا ہے اور پوری قوم کی تذلیل کررہا ہے گالی، گلوچ ، ڈانس جذب ومستی میں جنگل میں اندھیرے میں کیا کچھ ہوتا ہے صاحب حیا اور باایمان لوگ سب نالاں ہیں ۔پوری دنیا میں اس قسم کی تحریکیں دیکھنے میں نہیں آتیں۔ ان دو بے دین انسانوں نے پوری قوم کو تگنی کا ناچ نچا دیا ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں، پولیس جو امن برقرار رکھنے والا ادارہ ہے وہ بلوائیوں کے ہاتھ سے مارکھاتی ہے اور پولیس کسی کو پکڑبھی نہ سکے اگر دوچارکو پکڑ بھی لے تو عدالت اسی وقت ان کی رہائی کا حکم دے دے۔

اب قوم جاگ چکی ہے اچھائی برائی کی تمیز کسی حد تک آچکی ہے آج تو گلی میں کھیلنے والے بچے کو بھی پتہ ہے کہ دھرنوں کے عزائم کیا ہیں۔

اب آئیے حقائق کی طرف یہ جو دو نام نہاد لیڈر ملک اور قوم کی تباہی کا سبب بن رہے ہیں یہ باقاعدہ ایک طے شدہ پروگرام لے کر آئے ہیں، کہ پاکستان کے وجود کو ورلڈ میپ سے خارج کرنا ہے۔

ہم پاکستان کی حکومتی پالیسیوں سے سخت بیزار ہیں کوئی حکمران بھی وطن کے لئے مخلص نہیں ۔

میری قوم سے اپیل ہے کہ خدا را آنکھیں کھولیں، امریکہ، انگلینڈ ، اسرائیل اور انڈیا کی پالیسی پر سب لوٹ مار ہورہی ہے انہوں نے اپنی واردات کا طریقہ بدل دیا ہے۔

مزید : کالم