قوم پر رحم کریں

قوم پر رحم کریں
قوم پر رحم کریں

  


وزارت خزانہ کی طرف سے دئیے گئے تازہ ترین اعداد و شمار سے ایک نئی صورتحال پیدا ہو گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ روپے کی قیمت گرنے اور ڈالر بڑھنے سے ملک کو 240ارب کے نقصان کا سامنا ہوا جبکہ دھرنا سیاست کی وجہ سے سرمایہ کاری رکی۔ چین کے صدر کا دورہ پاکستان موخر ہونا بھی بہت نقصان دہ ہے دھرنے والوں نے معیشت کو نقصان پہنچایا تو سیلاب کی صورت میں قدرتی آفت نے مزید وسعت دی اور یہ خدشہ بجا ہے کہ اس کے نتیجے میں مہنگائی مزید بڑھے گی۔

یہ امر کوئی راز تو نہیں کہ عمران خان اورڈاکٹرطاہر القادری کی مہم جوئی سے نواز شریف کااستعفیٰ تو نہیں آیا، کاروبار ضرور ٹھپ ہو گئے ہیں۔ صنعتی او ر کاروباری حلقے پریشان ہیں کہ جب کاروبار نہیں ہوگا ادائیگیاں بھی نہیں ہوںگی۔دھرنے ناکام ہو چکے ہیں اور اب ضد باقی ہے جس کی وجہ سے نقصان اور بڑھ رہا ہے اور اب تو عمران خان نے لاہور کو نشانہ بنا کر حالات کو اوربھی بگاڑنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے اور لوگ پوچھنے پر مجبور ہیں کہ یہ ان کے ساتھ کون سی بھلائی ہو رہی ہے۔

 ان دھرنا والوں کی وجہ سے عوام، تاجر پیشہ حضرات اور صنعتکاروں کے اصل مسائل نظروں سے اوجھل ہو گئے ہیں۔ وفاقی اورپنجاب حکومت نے کئی قسم کے ٹیکس بڑھا دئیے ، گاڑیوں پر ٹیکسوں کی صورت حال عجیب ہے کہ رجسٹریشن سے ٹوکن ٹیکس تک میں تین تین گنا اضافہ کر دیا، ٹرانسفر فیس بھی بڑھا دی ۔ کسی ماڈل کی بھی کوئی تخصیص نہیں رکھی گئی اور سب کو ایک لاٹھی سے ہانکا گیا ہے۔ پراپرٹی ٹیکس بھی بڑھا دیا گیا ہے۔ لوگ کہاں سے ٹیکس ادا کریں جوتخمینہ تجارتی حلقوں نے لگایا ان کے مطابق تو اب تک ایک ہزار ارب روپے کا نقصان ہو چکا ہوا ہے اور اس میں اضافہ ہو تا چلا جا رہا ہے۔ دھرنے والے ضد کر رہے ہیں حالانکہ ان کے اہم مطالبات مانے جا چکے ہیں یہ استعفیٰ استعفیٰ ہی کھیل رہے ہیں۔ان کو یہ سوچنا چاہیے کہ نواز شریف ووٹ لے کر وزیراعظم بنے ہیں ۔ ان کو ہٹانے کا بھی طریقہ موجود ہے یہ نہیں کہ آپ ملک کی معیشت کو برباد کرکے عوام کو نقصان پہنچائیں اور پھر حکومت ختم کرائیں۔ یہ ویسے بھی ممکن نظر نہیں آتا۔ اس لئے بہتر راستہ اختیار کیا جائے۔

ادھر پنجاب کے عوام سیلاب میں گھرے ہوئے ہیں۔ ان کے گھر بار کھیتیاں سب سیلاب کی نذر ہو گئے ۔ یہ سلسلہ کب سے جاری ہے اور اب تک کئی بار تباہی ہو چکی ایسے میں تو پوری قوم کو متحد ہونا چاہیے، لیکن یہ کیوں نہیں اورجو نہیں کرتا اس کے بارے میں کیا کہیں گے؟

میری ذاتی طور پر ملک کے تمام سیاسی لیڈروں سے درخواست ہے کہ وہ عوام کی مصیبت اور مسائل پر تو سیاست نہ کریں کتنے افسوس کی بات ہے کہ بھارت درجنوں ڈیم بنا چکا ہے ہم ابھی تک تربیلا، منگلا کے بعد کچھ نہیں کر سکے ، کالا باغ ڈیم کو متنازعہ بنادیا حالانکہ اس کی بہت ضرورت ہے ۔ اس کا نام بدل لیں اگر اس کا نام برا لگتا ہے تو اس کا نام پاکستان ڈیم رکھ لیں۔ اسے بھی اور بہت سے دوسرے ڈیم بھی بنا لیں نہریں بنائیں اور زمین بھی سیراب کریں ان قومی امور پر سیاست نہیں کرنا چاہیے۔

دھرنے والوں سے تو اب پوری قوم تنگ آ چکی ۔ دونوں جماعتوں کو فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہوا ہے۔ بہتر ہے کہ یہ سلسلہ ترک کریں اور احتجاج کا مہذب طریقہ اختیار کریں جس سے عوام متاثر نہ ہوں، اگر ایسا ہوا تو خود ان جماعتوں کو عوامی حمایت کھودینے کا نقصان برداشت کرنا ہوگا۔

مزید : کالم


loading...