ماں بچوں کے حق سے دستبردار نہیں ہو سکتی لاہور ہائیکورٹ

ماں بچوں کے حق سے دستبردار نہیں ہو سکتی لاہور ہائیکورٹ

                    لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے بچوں کے خرچے کے دعوﺅںکے لئے نئی رولنگ جاری کر تے ہوئے قرار دیا ہے کہ "کمسن بچوں کے خرچے کے حق کا تحفظ کرنا گارڈین عدالت کی ذمہ داری ہے، گارڈین عدالت کی منظوری کے بغیر والدہ بچوں کے خرچے کے حق سے دستبردار نہیں ہو سکتی ،علاوہ ازیں والد سے خرچہ وصول کرنا بچوں کا حق ہے جس کے بارے میں ان کی والدہ فیصلہ کرنے کی مجاز نہیں ہے "۔لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس شہزادہ مظہر کی طرف سے جاری کردہ12صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں یہ طے کیا گیا ہے کہ والدہ کی طرف سے بچوں کو اپنے ساتھ رکھنے کے عوض انکے خرچے کے حق سے دستبردار ہونا اور ایسی کسی صورت میں خاتون کا اپنے سابق شوہر کے ساتھ معاہدہ غیرقانونی اقدام ہے ، فیصلے کے مطابق آئندہ اگر خاندانی تنازع میں والدہ بچوں کو اپنے ساتھ رکھنے کے عوض انکے خرچے کے حق سے دستبردار ہو گی تو اس کیلئے متعلقہ گارڈین عدالت کی منظوری لازمی ہوگی، فیصلے کے مطابق کمسن بچوں کے خرچے کے حق کا تحفظ کرنا اوربچوں کے مفادات کا خیال رکھناگارڈین جج کی بنیادی ذمہ داری ہے، مسٹرجسٹس شہزادہ مظہر کی طرف یہ فیصلہ دو بہن بھائی شمیم اختر اور شاہدعلی کی اپیل میں دیا گیا ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ 1993میں انکی والدہ کوثر بی بی نے بچوں کو اپنے پاس رکھنے کیلئے سابق شوہر انور علی سے معاہدہ کیا اور انکے خرچے کے حق سے دستبردار ہو گئی، درخواست گزار بہن بھائی کے مطابق والدہ کوایسا کوئی معاہدہ کرنے کا اختیار نہیں تھالہذا انکے سابق والد سے 10ہزار ماہانہ کے عوض گزشتہ 21برسوں کا خرچہ دلوایا جائے، عدالت نے بہن بھائی کی اپیل منظور کرتے ہوئے گارڈین عدالت کو حکم دیا ہے کہ وہ دونوں اپیل کنندگان کے خرچہ کے دعویٰ کو نئے سرے سے سن کر فیصلہ کرے۔

بچوں کا خرچہ

مزید : صفحہ آخر