پیپلزپارٹی کا ایجنڈا؟

پیپلزپارٹی کا ایجنڈا؟
پیپلزپارٹی کا ایجنڈا؟

  

تحریک انصاف کے بڑے بڑے جلسوں کے بعد پیپلزپارٹی نے بھی جلسے کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ان جلسوں کا مقصد اور ایجنڈا کیا ہو گا، ابھی تک یہ بات راز میں ہے۔ ایک عام خیال یہ ہے کہ پیپلزپارٹی کی قیادت نے مزید نقصان سے بچنے کے لئے عوام سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نقصان سے یہ مراد سب جانتے ہیں کہ کیا ہے۔ پیپلزپارٹی اس وقت جمعہ چیخ نال کی عملی تصویر بنی ہوئی ہے۔ ان کا اپنا کوئی کردار ہے اور نہ رائے، وہ حکومت کے دم چھلے کی مانند سب کچھ وہی کر رہی ہے جو حکومت چاہتی ہے۔ اب بہت کچھ گنوانے کے بعد آصف علی زرداری اور سینئر قیات کو ہوش آیا ہے کہ حالات اِسی طرح رہے تو پیپلزپارٹی شائد سندھ سے بھی آﺅٹ ہو جائے۔ پہلے ہی پیپلزپارٹی نے ہوا کے مخالف موقف اپنا کر خود کو سیاسی دوڑ سے محروم کر دیا ہے۔ اب اگر اس بدلے ہوئے منظر نامے میں پیپلزپارٹی وہی میثاق جمہوریت والی مفاہمت جاری رکھتی ہے، تو پھر اللہ ہی حافظ ہے۔

میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ پیپلزپارٹی کے کو چیئرمین آصف علی زرداری جن کے بارے میں لوگوں کا خیال ہے کہ وہ سیاست میں پی ایچ ڈی ہیں، یہاں حالات کو پڑھنے میں کچھ ناکام رہے ہیں، وہ جب دھرنوں کے ابتدائی دِنوں میں دبئی سے آئے تھے تو اُن کی چال ڈھال بہت پُراعتماد اور خود پسندی کا اظہار کر رہی تھی۔ اُن دِنوں انہوں نے دھرنے والوں کو سخت پیغامات بھی دیئے اور واشگاف الفاظ میں حکومت کی حمایت کا اعلان بھی کر دیا۔ وہ وزیراعظم محمد نواز شریف سے ملنے جاتی امراءبھی آئے اور یہ کہہ کر واپس گئے کہ دھرنوں سے تبدیلی آتی ہے اور نہ ہم پارلیمنٹ کو کچھ ہونے دیں گے۔ ان کا خیال تھا کہ اس دورے کے بعد سب کچھ ختم ہو جائے گا، دھرنے والے گھروں کو چلے جائیں گے، اسٹیبلشمنٹ ہاتھ ملتی رہ جائے گی اور بالآخر میثاق جمہوریت والی تمام شرائط پوری ہوں گی، مگر جب پی ٹی آئی نے کراچی کا جلسہ کیا اور پورا کراچی اس میں اُمنڈ آیا، نیز اُسی جلسے میں عمران خان نے یہ اعلان بھی کر دیا کہ وہ جلد ہی اندرون سندھ بھی جائیں گے اور سندھی عوام کو سالہا سال کے سیاسی جبر سے نجات دلائیں گے تو پیپلزپارٹی والوں کے کان کھڑے ہوئے۔”نی سسیئے بے خبرے تیرا لٹیا شہر بھنبھور“ کی کیفیت نے انہیں گھیر لیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے سب سے پہلے سوشل میڈیا پر یہ خبر بریک کر دی کہ18اکتوبر کو پیپلزپارٹی کراچی میں جلسہ کرے گی، اس کے بعد پارٹی کی اعلیٰ قیادت بلاول ہاﺅس کراچی میں جمع ہوئی اور خوابِ غفلت سے جاگنے کا اعلان کر دیا۔

کل تک اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ مڈٹرم انتخابات کو خارج از امکان قرار دیتے تھے، اب خود وزیراعظم کو یہ مشورہ دے رہے ہیں کہ انہیں مڈ ٹرم انتخابات کے بارے میں سوچنا چاہئے۔ اب زرداری صاحب نے بھی کہہ دیا ہے کہ ہم حکومت نہیں جمہوریت بچا رہے ہیں۔ دلچسپی کا حامل سوال یہ ہے کہ پیپلزپارٹی جو جلسے کرنے جا رہی ہے، ان کا ایجنڈا کیا ہو گا؟ کیا وہ حکومت کو ہدف بنائے گی یا دھرنے والوں کو۔ دھاندلی کا واویلا کرے گی یا فوج کی مداخلت اور پشت پناہی کا تذکرہ۔ ایجنڈے کے بغیر جلسے بے وقت کی راگنی محسوس ہوں گے۔ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ صرف سیاسی طاقت کے اظہار کو بنیاد بنا کر ان جلسوں کو کامیاب کرا سکے گا تو یہ اُس کی خوش فہمی ہے۔ کراچی کا جلسہ تو کامیاب ہو سکتا ہے کہ وہاں اُس کی حکومت بھی ہے اور اندرون سندھ میں مقبولت بھی۔ تاہم پنجاب میں جلسے کیسے اور کس بنیاد پر کامیاب ہوں گے؟ اس کا جواب شاید وہ نہ دے سکیں۔ پھر یہ بات بھی نہیں بھولنی چاہئے کہ عمران خان کے جلسوں نے کامیابی کے معیار کو بہت بلند کر دیا ہے اب کوئی عام جلسہ سیاسی جماعت کے وقار میں کوئی اضافہ نہیں کرے گا، الٹا اس کی جگ ہنسائی ہو گی، اس لئے پیپلزپارٹی نے خود کو زندہ رکھنے کا جو راستہ اختیار کیا ہے وہ کانٹوں سے بھرا ہوا ہے۔

ایک ایسے دور میں کہ جب بلاول بھٹو زرداری خود تسلیم کر چکے ہیں کہ کارکن پیپلزپارٹی سے ناراض ہیں اور اُسے چھوڑ کر جا رہے ہیں، انہوں نے کارکنوں کو راضی رکھنے کے لئے اُن سے کوتاہیوں کی معافی بھی مانگی ہے، کیا یہ ممکن ہے کہ پیپلزپارٹی کسی بڑے نعرے کے بغیر بڑے بڑے جلسے کر سکے۔ 18اکتوبر کے جلسے میں تو لوگ شہید بے نظیر بھٹو اور دیگر شہداءکی یاد میں آ جائیں گے، باقی جلسوں خصوصاً پنجاب میں شو آف کا کیا بنے گا۔ اگر پیپلزپارٹی ایسے ماحول میں کہ جب عوام موجودہ نظام کے خلاف بپھرے پڑے ہیں، جمہوریت بچانے کا نعرہ لگا کر پنجاب کو تسخیر کرنے آئی ہے، تو معاف کیجئے مجھے اس کے حالات کچھ اچھے نظر نہیں آتے، جس طرح مسلم لیگ (ن) نے حالات کو سمجھنے میں بہت دیر کر دی ہے اُسی طرح پیپلزپارٹی بھی بہت کچھ کھو چکی ہے۔ اُس نے ایک عرصہ ہوا عوام کے دُکھوں اور محرومیوں کے حوالے سے کوئی آواز نہیں اٹھائی، فرینڈلی اپوزیشن کے طور پر کھیلتی رہی، بجلی کے نرخ بڑھے، پیپلزپارٹی کے کان پر جُوں تک نہیں رینگی، مہنگائی نے عوام کا جینا عذاب کر دیا، پیپلزپارٹی جمہوریت بچانے پر لگی رہی۔ سب سے بڑا نقصان اُس وقت ہوا جب مشترکہ پارلیمنٹ کے اجلاس میں خورشید شاہ وزیراعظم سے بھی زیادہ اُن لوگوں پر گرجے جو باہر دھرنا دیئے بیٹھے ہیں۔ اس طرح پیپلزپارٹی بھی اُس مہم کی زد میں آ گئی جو نظام اور حکومت کے خلاف چل ہی ہے۔

مَیں سمجھتا ہوں آصف علی زرداری جیسے جہاندیدہ سیاست دان بھی اس تبدیلی کو نہیں سمجھ سکے، جو عوام کو متاثر کر چکی ہے، وہ سمجھتے تھے کہ وقتی اُبال جلد بیٹھ جائے گا اور ایک تیسری سیاسی قوت درمیان میں نہیں اُبھرے گی۔ جب یہ قوت نہیں اُبھرے گی تو نظام اور موجودہ جمہوریت کو بھی کوئی چیلنج درپیش نہیں ہوگا۔اس خیال کی وجہ سے پیپلزپارٹی ایک خاص موقف سے چمٹی رہی، لیکن اب جبکہ خود اس کے پَر جلنے لگے ہیں اور پارٹی کی ساکھ بُری طرح متاثر ہو رہی ہے تو یوٹرن لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، مگر یہ سب کچھ اتنا آسان نہیں۔پیپلزپارٹی اگر اپنی اس مہم کو انتخابات میں دھاندلی کے خلاف احتجاج قرار دیتی ہے تو بالواسطہ طور پر اس کا فائدہ دھرنے والوں کو ہوگا۔اگر وہ مہنگائی، بےروزگاری اور لوڈشیڈنگ کو اس احتجاج کی بنیاد بناتی ہے تو اس سے پہلے ہی بحران کی زد میں آئی ہوئی حکومت مزید مشکلات سے دوچار ہو جائے گی، جس کا فائدہ بھی دھرنے والوں کو ہوگا، اگر بالفرض بلاول بھٹو زرداری پنجاب کو فتح کرنے آئے ہیں تو اس کے لئے بھی انہیں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو ہدف بنانا پڑے گا، جو آسان نہیں، کیونکہ میثاق جمہوریت اس کی راہ میں رکاوٹ ہے۔یوں دیکھا جائے تو پیپلزپارٹی ایک مشکل سفر کا آغاز کرنے جا رہی ہے۔

البتہ اگر اس بات کو درست مان لیا جائے کہ آصف علی زرداری اُڑتی چڑیا کے پر گن چکے ہیں اور انہیں اندازہ ہو گیا کہ جلد ہی مڈٹرم انتخابات کا نقارہ بجنے والا ہے، تو پھر ان کی یہ سیاسی چال سمجھ میں آئی ہے۔وہ میدان سے باہر نہیں رہنا چاہتے اور نہ ہی تحریک انصاف کو یہ موقع دینا چاہتے ہیں کہ وہ پیپلزپارٹی کی جگہ لے۔ اس صورت حال میں سب سے زیادہ نقصان مسلم لیگ (ن) کو پہنچے گا، جو حکومت میں ہونے کے باوجود عوام سے کٹی ہوئی ہے اور ایک بڑی سیاسی مخالفت کی زد میں ہے۔مَیں سمجھتا ہوں وقت آ گیا ہے کہ مسلم لیگی قیادت اپنے خاص ذہنی خمار سے باہر نکلے اور بدلتے ہوئے سیاسی حالات کا ادراک کرکے ایسے فیصلے کرے جو اسے سیاسی تنہائی سے نکال سکیں۔

مزید : کالم