کیا صرف معافی مانگنا کافی ہے ؟

کیا صرف معافی مانگنا کافی ہے ؟
 کیا صرف معافی مانگنا کافی ہے ؟

  


لاہور میں تحریک انصاف کے جلسے کی دھوم ہے۔ حاضرین کی تعداد نے سب ہی کو حیران کر دیا، جو لوگ یہ کہہ رہے تھے کہ دھرنے کی ناکامی کے بعد عمران خان کی مقبولیت میں کمی آئے گی، انہیں لاہور کا جلسہ دیکھ کر اندازہ ہو گیا ہوگا کہ جس طرح فلم میں ہوتا ہے کہ لوگوں کو اداکاروں سے زیادہ فلم کا سکرپٹ اور مکالمے یا گانے پسند آتے ہیں تو فلم نام کے ساتھ ساتھ پیسہ بھی کما لیتی ہے۔ پاکستانی سیاست کی یہ فلم1970ء کے انتخابات کے بعد دوبارہ چلی ہے۔ در حقیقت لوگ اپنے سماجی حالات سے اس قدر پریشان ہو گئے ہیں کہ وہ ملک، صوبے، شہر یا گاؤں کے حالات سے لاتعلق ہیں۔ انہیں کسی با ت کی فکر نہیں حتی کہ ان کے علاقے میں کون آیا، کیوں آیا کیوں گیا ، وہ اس سے بھی اپنے آپ کو لاعلم رکھتے ہیں۔ کسی بھی معاشرے کے لئے یہ خطر ناک رجحان ہے۔

عام لوگوں کو جن کی کوئی سنتا ہی نہیں ہے، جن سے ہاتھ ملانا تو درکنار، نام نہاد بڑے لوگ گفتگو کرنا اپنی توہین سمجھتے ہیں ، عمران خان انہیں یہ احساس دلانے میں کامیاب ہو گئے ہیں کہ اس ملک میں سیاست اور سیاسی ثقافت کو تبدیل کرنا ہوگا۔ اِسی لئے صرف عام لوگ ہی نہیں، معاشرے کے وہ لوگ بھی جو تعلیم یافتہ ہوتے ہیں، لیکن نام نہاد نظام انہیں آگے بڑھنے کا موقع نہیں دیتا ہے، اس جلسے میں پوری دلچسپی کے ساتھ شرکت کی۔ اس تبدیلی کے بڑے ہیرو تو عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری ہی ہیں لیکن ان سے کہیں بڑے ہیرو وہ عوام ہیں، جو دھرنے پر بیٹھے ، سیاسی جلسے جلوسوں میں شریک ہو رہے ہیں تاکہ اس ملک کے مقتدر حلقوں اور ملک کے اقتدار کی راہ داریوں میں گشت کرنے والوں کو یہ احساس دلادیا جائے کہ نوشتہ دیوار پڑھ لو۔ تاخیر اور تغافل سے کام نہیں چلے گا۔ الیکشن کمیشن کی بار بار کی وضاحتوں اور نادرا کے سابق چیئرمین طارق ملک کے بیان کے بعد کیا کسر رہ گئی کہ انتخابات میں کی جانے والی دھاندلی کو ثابت کی جائے ۔

عمران خان کا جلسہ ابھی ختم ہی ہوا تھا کہ سیاست میں نووارد نوجوان بلاول نے اپنی پارٹی سے وابستہ لوگوں سے کھلے عام معافی مانگی۔ ان کی معافی نے سب ہی کو چونکا دیا۔ بلاول آکسفرڈ کے تعلیم یافتہ ہیں۔ آکسفرڈ ایک ایسے معاشرے کا حصہ ہے جہاں تعلیم کے ساتھ طلباء کو سماجی اقدار بھی سمجھائی جاتی ہیں۔ معاشرے کی اخلاقی قدروں سے ہم آہنگ کیا جاتا ہے۔ ویسے بھی انگریز عام طور پر دنیا کی ان اقوام میں شمار کئے جاتے ہیں جو رکھ رکھاؤ اور تہذیب کے تقاضوں کا بڑی حد تک خیال رکھتے ہیں۔ آکسفرڈ کی تعلیم کا ہی نتیجہ ہے کہ بلاول نے کسی تامل کے بغیر معافی طلب کی ہے۔ ورنہ ہمارے زمیندار تو معافی مانگنا اپنی ہتک تصور کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ایسا کیا معاملہ ہو گیا کہ پیپلز پارٹی کے چیئر مین نے ضروری جانا کہ اپنے حامیوں کو باور کرا سکیں کہ پارٹی سے کوتاہیوں سر زد ہوئی ہیں، لیکن بقول ان کے ’’ اس کی سزا پاکستان اور جمہوریت کو نہ دی جائے ‘‘۔ سب ہی نے بھانپ لیا ہے کہ لوگوں نے لاتعلقی ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور آئندہ ہونے والے انتخابا ت میں لوگوں کی اکثریت ویسا ہی فیصلہ دے گی جیسا ان کے بڑوں نے 1970ء کے انتخابات کے دوران دیا تھا۔ اس زمانے میں اخبارت نے سرخیاں جمائی تھیں کہ ’’ بڑے بڑے برج الٹ دئے گئے ’’ ۔۔۔’’ بڑے بڑے بت پاش پاش ہو گئے‘‘۔

آج کے پاکستان میں جو اس وقت مغربی پاکستان کے علاقوں میں پیپلز پارٹی اور سابقہ مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ کے امیدواروں نے کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیئے تھے۔1970ء کے بعد مغربی پاکستان میں قائم ہونے والی پیپلز پارٹی کی حکومت سخت حکومت ہونے کے باوجود عام لوگوں کے لئے وہ کچھ نہیں کر سکی تھی، جس کی لوگوں نے امید باندھی تھی۔ 1970ء سے 1985ء تک فوجی یا نیم فوجی حکومت تھی۔ وہ ہی زمیندار، وہ ہی وڈیرے، وہ ہی سرمایہ دار اقتدار پر قابض تھے۔ 1988 ء کے انتخابات میں لوگوں نے قرض سمجھ کر پیپلز پارٹی کو ووٹ دیا تھا لیکن پارٹی تبدیلیاں لانے میں ناکام رہی۔ پھر 2008ء میں لوگوں نے بی بی کی شہادت کے بعد فرض سمجھ کر ووٹ دیا۔ آصف زرداری کو اپنی اس دھمکی ( یہ دھمکی انہوں نے ٹھٹہ سے انتخابی مہم شروع کرتے ہوئے ایک جلسہ عام میں دی تھی) پر کہ اگر اسلام آباد نے انتخابات کے تنائج میں ہیرا پھیری کی تو اسلام آباد کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے ، عمل کرنے کا موقع نہیں ملا اور پیپلز پارٹی کی ہی حکومت قائم ہو گئی۔ وہ خود صدر پاکستان منتخب ہوئے۔ سید یوسف رضا گیلانی وزیراعظم بنا د ئے گئے۔ صوبہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت بنی۔

بلاول نے معافی مانگی،ٹھیک کیا۔ نتائج کیا نکلتے ہیں، یہ تو انتخابات میں نظر آئے گا، وہ جب بھی ہوں۔ لیکن بلاول اگر واقعی سنجیدہ ہیں اور سمجھتے ہیں کہ انہیں سیاست ہی کرنا ہے، تو پھر انہیں نہایت برد باری کے ساتھ معالات کا جائزہ لینا ہوگا۔ وفاق میں تو جو کچھ ہوا اسے لوٹ مار سے کچھ زیادہ کا نام دیا جائے تو بھی حقیقت ہوگی لیکن سندھ میں تو ڈاکہ زنی ہوئی۔ یہ ہی تحقیقات کرنا لازمی ہے کہ ہوا کیا تھا جس کی وجہ سے لوگ پیپلز پارٹی سے اس قدر بدظن ہوئے کہ بلاول نے محسوس کیا کہ لوگ پارٹی کا ساتھ چھوڑ رہے ہیں۔ ۔ ایک تو سیدھا سادا طریقہ ہے کہ پارٹی کے تمام وفاقی اور صوبائی وزراء ، اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی ، عہدیداروں ، ان کے رشتہ دار افسران سے کہا جائے کہ وہ اپنے اثاثوں کی فہرست جمع کرائیں کہ جنوری 2008 ئمیں کیا تھا اور 10 مئی 2013ء کو کیا کچھ ہوگئے تھے ۔ دوسرا قدم یہ اختیار کرنا ضروری ہے کہ ذمہ دار اور ایماندار افسران پر مشتمل افسران کا کوئی کمیشن بنایا جائے جو یہ بتائے کہ 2008ء سے 2013ئتک کتنے منصوبوں کے لئے کتنی رقم مختص کی گئی اور ان پر کام کتنا ہوا۔ اگر نہیں ہوا تو وہ رقمیں کہاں گئیں۔ یہ بھی معلوم کیا جائے کہ سرکاری ملازمتیں کیوں فروخت کی گئیں۔ پیسے کے عوض ملازمتوں میں نااہل افراد کو کیوں بھرتی کیا گیا۔ حد تو یہ ہوئی کہ چپراسی کی ملازمتیں تک فروخت ہوئیں ۔ انہیں فارغ کیا جائے اور اہل افراد کو بھرتی کیا جائے۔

یہ بھی پتہ چلایا جائے کہ سندھ پبلک سروس کمیشن میں کن کن ممبران، افسران اور ذمہ داروں نے اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران رشوتیں حاصل کیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں میڈیکل سپرٹنڈنٹ حضرات کی تقرریاں پیسے لے کر کیوں کی گئیں۔ ایسے حضرات نے ہسپتال کی دوائیں فروخت کر کے تقرری کے لئے دی گئی رقومات وصول کیں۔ 2010ئاور 2011ئمیں آنے والے سیلاب اور بارشوں سے ہونے والی بتاہی کے بعد جو امداد آئی اور سرکاری محکموں نے جو اخراجات کئے کیا وہ واقعی کئے گئے یا پھر وہ رقومات خرد برد ہو ئیں تو کیوں؟ ریوینو والوں سے معلوم کیا جائے کہ کن کن افراد نے زرعی زمینیں خریدیں ، سب رجسٹرارکے دفاتر سے معلوم کیا جائے کہ ایک ایک ا فسر کی تقرری پر کتنی رقم وصول کی گئی اور کس کس سیاست دان نے کہاں کہاں جائیدادیں خریدیں۔ بلاول بھٹو کو سب کچھ سمجھ میں آجائے گا کہ انہیں معافی کیوں مانگنا پڑی۔ پھر وہ خود ہی سوچیں گے کہ کیا ا نہیں معافی مانگنا چاہئے یا پھر ایسے تمام لوگوں کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے اور پارٹی سے فارغ کیا جائے۔

بلاول کو ایک کام یہ بھی کرنا چاہئے کہ اپنے تمام انکلوں سے معذرت کریں اور انہیں پیپلز پارٹی کی سیاست سے فارغ کریں۔ اسی طرح جیسے ذالفقار علی بھٹو نے اپنی جیل کی کوٹھری میں شہید بے نظیر بھٹو کو ہدایت کی تھی کہ انکلوں سے فاصلہ پر رہنا۔ اپنے ہم عمر لوگوں کی ٹیم تیار کریں ۔ ضروری نہیں کہ گیلانی ، راجہ، وٹو ہی ان کے ہم رکاب ہوں۔ ان تمام اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی سے معذرت کر لی جائے کہ انہیں آئندہ انتخابات میں ٹکٹ نہیں دیا جائے گا۔ ہر قومی حلقے میں ایک صوبائی نشست کے لئے غریب کارکنوں کا نامزد کیا جائے گا۔ بلاول کے لئے ایک اور اہم مشورہ یہ بھی ہے کہ اپنے گرد خوشامدیوں کا گھیرا ہر گز ہر گز ا تنگ نہ ہونے دیں۔ انہیں جتنے فاصلے پر رکھیں گے خود ان کا مسقبل اتنا ہی تابناک ہوگا۔ یہ خوشامدی ہی در حقیقت اس ملک کی تباہی کا بڑا سبب ہیں اور ایسے لوگوں کو اپنے تک پہنچنے کی اجازت دیں جو کھری بات کرتے ہیں، لگی لپٹی رکھے بغیر کڑوی بات کرتے ہیں اور سچ بولتے ہیں۔عام لوگوں کے ساتھ ہر ہفتے ملاقات کا کوئی روز مقرر کریں تاکہ لوگ ان سے براہ راست گفتگو بھی کر سکیں۔ اگر ممکن ہو سکے تو اپنے والد محترم ، پھوپھی اور چچا سے بھی گزارش کریں کہ وہ تمام لوگ انہیں ہی سیاست کرنے دیں۔ اسی صورت میں بلاول کے معافی مانگنے کا نتیجہ نکلے گا وگرنہ یہ مشق بے مقصد اور بے نتیجہ ہی رہے گی۔

مزید : کالم