خطبہ حجۃ الوداع کی معاشرتی، دعوتی، تربیتی اور اخلاقی اہمیت

خطبہ حجۃ الوداع کی معاشرتی، دعوتی، تربیتی اور اخلاقی اہمیت
خطبہ حجۃ الوداع کی معاشرتی، دعوتی، تربیتی اور اخلاقی اہمیت

  


اسلام کے معاشرتی نظام میں خطبہ حجة الوداع کی بہت اہمیت ہے۔ خطبہ حجة الوداع کی دعوتی، تربیتی، معاشرتی اور اخلاقی اہمیت ہے۔ یہ نسل انسانی کے حقوق کا بنیادی منشور اعظم ہے۔ یہ خطبہ بے شمار مذہبی اور اخلاقی تعلیمات کا نچوڑ ہے۔ یہ خطبہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت طیبہ کا خلاصہ اور اس کی عملی تفسیر ہے۔ محمد اکبر شاہ نجیب آبادی اپنی کتاب (تاریخ اسلام، مطبوعہ الفیصل ناشران، لاہور 1988ئ) کی جلد اول کے صفحہ 227 پر رقمطراز ہیں: ”آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس خطبہ میں اس طرح کلمات فرمائے جیسے کسی سے کوئی الوداع ہوتا یا کسی کو الوداع کرتا ہے۔ اس لئے اس خطبے کا نام خطبہ الوداع مشہور ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سال خطبہ میں احکام اسلامی کی خصوصی تبلیغ فرمائی۔“

اصل میں تین خطبے تھے۔ پہلا 9 ذی الحجہ کو عرفات میں، دوسرا 10 ذی الحجہ کو منیٰ میں اور تیسرا خطبہ 11 یا 12 ذی الحجہ کو منیٰ میں ہی دیا گیا۔ خطبہ حجة الوداع کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اردگرد ایک لاکھ چوبیس ہزار یا ایک لاکھ چوالیس ہزار انسانوں کا سمندر ٹھاٹھیں ماررہا تھا۔ یہ خطبہ 10 ہجری میں دیا گیا تھا۔ سیرة خیرالانام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مرتبہ اُردو دائرہ معارف اسلامیہ کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چاروں طرف ایسے افراد مقرر کیے گئے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہر ہر جملے کو مکبروں کی طرح بآواز بلند دہراتے تھے۔ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہجرت کے بعد پہلا اور آخری حج تھا۔ یہ حج آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالتی زندگی کا اکمال اور اسلام کی تعلیمات کا اتمام ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناءکے بعد ارشاد فرمایا:”لوگو! میری باتیں سنو! شاید اگلے سال مجھے اور تمہیں ایسی محفل میں اکٹھے ہونے کا موقع نہ ملے۔ میں آج کے دن مسلمانوں کی جان و مال اور عزت و آبرو کو قیامت تک ایک دوسرے پر حرام کرتا ہوں۔ جس طرح تمہیں اس مہینے اور اس دن کا احترام ہے۔ اسی طرح تمہیں ایک دوسرے کے مال ، آبرو اور خون کا احترام کرنا چاہیے۔ کوئی چیز جو ایک بھائی کی جائز ملکیت میں ہے دوسرے پر حلال نہیں، جب تک کہ وہ خود اپنی خوشی سے اُسے نہ دے۔“

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قیامت کے دن احتساب کے بارے میں فرمایا:

”یاد رکھو! ایک دن ہم سب کو مر کر خدائے تعالیٰ کے حضور میں حاضر ہونا ہے۔ جہاں ہر ایک سے اس کے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ “

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غیر اسلامی رسوم کے بارے میں فرمایا©:

”لوگو! یاد رکھو زمانہ جاہلیت کی ہر رسم میرے قدموں کے نیچے ہے میں اسے ختم کرتا ہوں۔ زمانہ جاہلیت کے قتل و خون کے جھگڑے آج تک ختم کردیئے جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے میں خود ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب کے خون سے دستبردار ہوتا ہوں۔“

اس خطبہ شریف میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسلامی مساوات کا درس دیا:

”سب مسلمان بھائی بھائی ہیں۔ عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ۔ ہاں! صرف پرہیز گاری خدا کے نزدیک افضل ہے۔“

کمزوروں کے حقوق کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

”غلاموں اور عورتوں کے تم پر حقوق ہیں۔ ان حقوق کا خاص خیال رکھو۔ عورتوں کے ساتھ نرمی اختیار کرو اور مہربانی سے پیش آﺅ۔ غلاموں کو وہی کھلاﺅ جو خود کھاتے ہو اور انہیں وہی لباس پہناﺅ جو خود پہنتے ہو۔“

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید فرمایا:

”ہر شخص اپنے کیے کا خود ذمہ دار ہے۔ بیٹا باپ کا اور باپ بیٹے کے جرم کا ہرگز ذمہ دار نہیں۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اطاعت امیر کا حکم دیا©:

”اگر کوئی حبشی کان کٹا غلام بھی تمہارا امیر ہو اور تم کو خدا کی کتاب کے مطابق لے چلے تو اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کرو۔“

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

”لوگو! نہ میرے بعد کوئی نبی آئے گا نہ نئی امت پیدا ہوگی۔ خوب سن لو! اپنے رب کی عبادت کرو، پانچوں وقت نماز پڑھو، رمضان کے روزے رکھو، مال کی زکوٰة خوشی خوشی ادا کرو، خانہ کعبہ کا حج کرو اور اپنے حاکموں کے فرمانبردار رہو۔ اس کی جزا یہ ہے کہ اپنے پروردگار کی جنت میں داخل ہوجاﺅ گے۔ “

”اور میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جارہا ہوں کہ اگر تم انہیں مضبوطی سے پکڑ لو گے تو کبھی گمراہ نہ ہوگے اور وہ ہیں کتاب اللہ اور اس کے نبی کی سنت۔“

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

”جو لوگ یہاں موجود ہیں وہ یہ باتیں غیر حاضر لوگوں تک پہنچادیں۔ ممکن ہے بعض سامعین کے مقابلے میں بعض غیر حاضر لوگ ان باتوں کو زیادہ اچھی طرح یاد رکھیں اور ان کی حفاظت کریں۔

”اے لوگو! اللہ تعالیٰ نے میراث میں سے ہر وارث کے لئے ثابت کردہ حصہ مقرر کیا ہے اور ایک تہائی مال سے زیادہ وصیت کرنا جائز نہیں ہے۔“

”بچہ اس کا جس کے بستر پر (نکاح میں )تولد ہوا اور بدکار کے لئے پتھر! جس نے اپنے باپ کی بجائے کسی دوسرے کو باپ قرار دیا تو ایسے شخص پر اللہ اور فرشتوں اور تمام انسانوں کی طرف سے لعنت ہے۔ اس کے لئے قیامت کے دن کوئی عوض یا بدلہ نہ رکھا جائے گا۔“

اس خطبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چار قابل احترام مہینوں کا بھی ذکر فرمایا یعنی ذی القعدہ، ذوالحجہ، محرم اور رجب۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امانت کی ادائیگی کا حکم دیا: ”جس کے قبضے میں کوئی امانت ہے تو اسے اس کے مالک کو ادا کردے۔“

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سود کو حرام قرار دیا:

”دور جاہلیت کا سود کالعدم کردیا گیا ہے البتہ تمہارے لئے راس المال پر حق ہوگا۔ نہ تم کسی پر ظلم کر و نہ تم پر ظلم کیا جائے گا۔ سب سے پہلے میں اپنے چچا عباسؓ بن عبدالمطلب کے سودی مطالبات کو کالعدم کرتا ہوں۔“

خطبہ کے آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں سے پوچھا:

”کیا میں نے تمہیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچادیا؟“

سب نے بیک آواز جواب دیا آپ نے اپنا حق ادا کردیا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی انگلی آسمان کی طرف اٹھائی اور تین بار کہا:

”اے خدا! تو گواہ رہنا، اے خدا! تم گواہ رہنا، اے خدا! تم گواہ رہنا۔“

مولانا صفی الرحمن مبارکپوری اپنی تصنیف ’الرحیق المختوم‘، 2003ءایڈیشن کے صفحہ نمبر 617 پر رقمطراز ہیں: ”آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیغام کو ربیعةؓ بن امیہ بن خلف اپنی بلند آواز سے لوگوں تک پہنچارہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ سے فارغ ہوچکے تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی:

”آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لئے اسلام کو بحیثیت دین پسند کرلیا۔“

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ آیت سنی تو رونے لگے۔ اب حضرت عمر رضی اللہ عنہ سمجھ گئے تھے کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس دنیا سے الوداع ہونے والے ہیں۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس خطبہ میں اتفاق و اتحاد کا درس دیا، سود کا خاتمہ فرمایا اور ایک مکمل اور متوازن معاشی نظام کا تصور دیا۔ ایسا نظام جس پر استوار ہوکر مدینہ منورہ ایک اسلامی فلاحی ریاست بنی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ختم نبوت کے عقیدے کی بھی وضاحت فرمائی۔ صالح حاکم وقت کی اطاعت کی تلقین کی، نسلی امتیاز کا خاتمہ کیا، رنگ و نسل اور زبان کی بنیاد پر فضیلتوں کو ختم کردیا۔ خطبہ حجة الوداع مختصر ہونے کے باوجود معانی کے لحاظ سے اتنا فصیح و بلیغ ہے کہ اس میں اسلام کا مکمل نظام اقدار پنہاں ہے۔

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ خطبہ امت کے لئے وصیت کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنا انفرادی محاسبہ کریں اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بتلائے اور سکھائے ہوئے راستے پر گامزن ہونے کی سعی کریں۔

مزید : کالم


loading...