لیاقت آباد: نوجوان کی گھر یلو حالات سے تنگ آکر خود کشی نعش جلد نہ دینے پر ورثاکا احتجاج

لیاقت آباد: نوجوان کی گھر یلو حالات سے تنگ آکر خود کشی نعش جلد نہ دینے پر ...

لاہور(بلال چودھری)تھانہ لیاقت آباد کی حدود میں نوجوان نے گھریلو حالات سے تنگ آکر گندم میں استعمال ہونے والی زہریلی گولیاں کھا کر خودکشی کر لی ،نعش حوالے کرنے میں لیت و لعل کرنے پر ورثا کاجناح ہسپتال انتظامیہ کے خلاف شدید احتجاج ،مذاکرات کے بعد پولیس نے پوسٹ مارٹم کے بعد متوفی کی نعش کو ورثا کے حوالے کر دی جسے بعد ازاں سینکڑوں سوگواروں کی موجودگی میں آبائی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔تفصیلات کے مطابق لیاقت آباد کے علاقہ محمدی محلہ پنڈی راجپوتاں گلی نمبر 6کا رہائشی 18سالہ خرم شہزاد بارہویں جماعت کا طالب علم تھا۔نمائندہ’’ پاکستان‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے متوفی کے بھائی ذاکر حسین،محمد اعظم اور مبصر نے بتایا کہ خرم گھریلو حالات سے نہایت پریشان رہتا تھا۔30ستمبر کی رات کو اس نے ذہنی دباؤ اور گھریلو حالات کی وجہ سے گولیاں کھا لیں ۔ اسے نیم بیہوشی کی حالت میں فوری طور پر جناح ہسپتال میں منتقل کیا جہاں کئی گھنٹوں تک زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد وہ زندگی کی بازی ہار گیا۔ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے لواحقین کو متوفی کی نعش واپس کرنے کی بجائے لیت و لعل سے کام لیا جانے لگا ، وہ اسے خودکشی کی بجائے قتل قرار دیتے رہے جس پر اہل محلہ اور متوفی کے لواحقین نے جناح ہسپتال کے باہر انتظامیہ کے خلاف شدید احتجاج کیا جس پر پولیس نے موقع پر پہنچ کر ان سے مذاکرات کیے اور متوفی کاشک کی بنیاد پر پوسٹ مارٹم کیا گیا جسے جان بوجھ کر طول دیا گیا اور گزشتہ روز صبح کے وقت ہمیں نعش واپس کی گئی ۔انہوں نے مزید کہا کہ ہسپتال انتظامیہ اور پولیس کی وجہ سے خرم شہزاد کی میت کی بہت بے حرمتی کی گئی ہے اس کے علاوہ ہمیں بھی دکھ کے عالم میں نہایت پریشانی سے گزرنا پڑا ہے اعلٰی حکام سے اپیل ہے کہ معاملہ کی تحقیقات کی جائیں کیونکہ ہمیں شک ہے کہ پولیس نے ہسپتال انتظامیہ کے ساتھ مل کر مبینہ طور پر متوفی کی نعش سے کچھ اعضاء بیچنے کے لیے نکال لیے ہیں۔اس معاملے میں جناح ہسپتال اور تھانہ لیاقت آباد میں رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ الزامات میں کوئی صداقت نہیں ہے۔متوفی نے جاں بحق ہونے سے پہلے ڈاکٹر کو ایک گولی کھانے کے حوالے سے بتایا تھا جس پر ہمیں شک ہوا تو پولیس کی مدد لے کر پوسٹ مارٹم کروایا گیا ہے۔

مزید : علاقائی