امریکہ، افغانستان معاہدہ اور پاکستان

امریکہ، افغانستان معاہدہ اور پاکستان


بدھ کو آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے زیر صدارت جنرل ہیڈ کوارٹرز میں 175 ویں کور کمانڈر کانفرنس کے دوران امریکہ اور افغانستان کے درمیان طے پانے والے دوطرفہ امن معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس کو ہمسایہ ملک میں پائیدار امن کے لئے مثبت پیشرفت قرار دیا گیا ہے۔ وزیراعظم نواز شریف کے مشیر برائے قومی و خارجہ امور سرتاج عزیز نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے کے ذریعے افغانستان کے دفاعی اور معاشی وسائل میں اضافہ ہو گا ۔افغان صدر نے اپنی پہلی تقریر میں اپنی پالیسی بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان یا کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے اوریہی موقف پاکستان کا بھی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس طرح سرحد کو کنٹرول کرنے کا طریقہ کار بھی طے کیا جا سکے گا۔ 2012ء سے لے کر اب تک افغانستان میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ نیٹو اور امریکی فوجی موجود ہیں، لیکن اس سال کے اختتام تک ان کی تعداد 10 ہزار رہ جائے گی۔معاہدے کی تفصیلات کے مطابق یہ فوجی2024 ء تک افغانستان میں موجود رہیں گے، ان کی اولین ذمہ داری ساڑھے تین لاکھ افغان فوجیوں کی تربیت ہو گی، لیکن اس کے ساتھ ساتھ القاعدہ کے خلاف آپریشن بھی جاری رہے گا۔2015ء کے آخر تک امریکی فوجی اپنے آپ کو کابل اور بگرام بیس تک محدود بھی کر لیں گے۔ 2016 ء کے آخر تک امریکی فوج کا کردار صرف افغان فورسز کوتکنیکی معاونت اور اہم امور میں مشورہ دینے تک محدود ہو جائے گا۔اس معاہدے کے تحت امریکہ کوافغانستان کے نوزمینی اور ہوائی اڈوں تک رسائی حاصل ہو گی اور کسی افغان عدالت کے سامنے امریکی فوجی جواب دہ نہیں ہوں گے، جن میں بگرام، جلال آباد اور قندھار شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق ساڑھے تین لاکھ افغان سیکیورٹی فورسز کو مدد کی ضرورت ہے اور امریکہ اور نیٹو افواج کی موجودگی بہت مفید ثابت ہو گی۔ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ2024ء میں اس معاہدے کے ختم ہونے تک افغانستان اتنامستحکم ہوجائے گا کہ ملکی معاملات چلانے کے لئے اس کو کسی بیرونی کندھے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

اس معاہدے کو تقریباً ایک سال پہلے ہی کاغذی شکل دے دی گئی تھی، لیکن حامد کرزئی نے اس پردستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ ان کا موقف تھا کہ افغان شہریوں کی اموات کے باوجود امریکہ طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات میں دلچسپی نہیں لے رہا،اس لئے اس معاہدے کا کوئی مطلب نہیں،لیکن اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ دونوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران اس معاہدے پر دستخط کرنے کا وعدہ کیا تھا، اس لئے صدر کے عہدے کا حلف اٹھاتے ہی انہوں نے اس پر مہر ثبت کر دی۔ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے سے ہمسایہ ممالک کو کوئی خطرہ نہیں ہو گا، نہ صرف افغانستان بلکہ خطے میں استحکام پیدا ہو گا اور دہشت گردوں کی کارروائیوں کی روک تھام میں مدد ملے گی۔ امریکی صدر اوبامہ کے مطابق یہ معاہدہ امریکہ کی جانب سے متحدہ قومی حکومت کی حمایت کا اظہار ہے،وہ افغانستان میں استحکام اور ترقی کے لیے کوشاں ہے، اس کے ذریعے القاعدہ اور انتہا پسند تنظیموں کو شکست دینے میں بھی مدد ملے گی ۔عالمی برادری کے برعکس طالبان نے اس معاہدے کی شدید مخالفت کی ہے ، ان کے نزدیک افغانستان پر قابض رہنے کے لئے یہ امریکی چال ہے۔ حزب اسلامی بھی اِسی نقطہ نظر کی حامل ہے۔ اشرف غنی نے ان کوبات چیت کی دعوت دی ہے جسے وہ قبول کرنے پر آمادہ دکھائی نہیں دیتے۔یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ تمام تر مسلح جدوجہد اور مخالفت کے باوجود افغانستان میں ایک منتخب حکومت قائم ہو گئی ہے، دستور بنایا جا چکا ہے، نئے نظام کی بنیاد رکھی جا چکی ہے، افغانسان ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے، ایسے میں معاملات کو افہام و تفہیم سے ہی حل کیا جا سکتا ہے، بڑی سے بڑی جنگ کا اختتام بالآخر میز پر ہی ہوتا ہے، طالبان اور حزب اسلامی کو بھی اس راستے کی افادیت پر غور کرنا چاہئے۔

بین الاقوامی افواج کے جانے کے بعد طالبان سے مقابلہ کرنا غیر تربیت یافتہ افغان فوج کے بس کی بات نہ ہوتی۔پاکستان بھی اس کے براہ راست اثرات سے محفوظ نہ رہتا، سرحد پر مضبوط کنٹرول نہ ہونے کے باعث انتہا پسندوں کو پاکستان میں بھی کھل کر کارروائی کرنے کا موقع مل جاتا،اور آپریشن ضرب عضب کے ذریعے مطلوبہ مقاصد حاصل کرنے میں مزید دشواری ہوتی۔ پاک فوج اور حکومت کی جانب سے اس معاہدے کی حمایت سے پاکستان کی بنیادی خارجہ پالیسی کی سمت واضح ہو گئی ہے ، اسلامی اور مغربی ادارے اس حوالے سے یک سو نظر آتے ہیں۔نیک نیتی سے اس معاہدے پر عمل ہی امن و استحکام کی ضمانت ہے۔پاکستان اور افغانستان دونوں کو ہی ایک دوسرے کی طرف سے مداخلت اور حملوں کی شکایات رہی ہیں، دونوں ہی ایک دوسرے پر دراندازی کے الزامات لگاتے رہے ہیں۔اب ان کو چاہئے کہ وہ خلوص نیت سے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں تاکہ بد اعتمادی کی فضا ختم ہو۔ متحارب گروہوں سے مفاہمت کی راہ کشادہ ہو اور امن کو پائیدار بنایا جا سکے۔

مزید : اداریہ


loading...