فوج کی اہلیت اور کردار!

فوج کی اہلیت اور کردار!

کورکمانڈرز کانفرنس میں شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ضرب عضب پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کے مطابق آپریشن کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔انہوں نے اس محاذ پر برسر پیکار فوجیوں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے قربانیوں کا بھی تذکرہ کیا اور کہا جوان مادر وطن کے تحفظ کے لئے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پُرعزم ہیں، آئی ایس پی آر کی اطلاع کے مطابق کورکمانڈر میٹنگ میں پیشہ ورانہ امور اور آپریشن ضرب عضب زیر غور آئے اور آئندہ سبکدوش ہونے والے لیفٹیننٹ جنرلز (کورکمانڈرز) کی خدمات پر ان کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔بتایا گیا کہ چار لیفٹیننٹ جنرلز خالد ربانی، طارق خان، سلیم نواز اور سجاد غنی اسی ماہ ریٹائر ہو رہے ہیں، پہلے دو آج (2اکتوبر) تیسرے 20اور چوتھے 25اکتوبر کو ریٹائر ہو رہے ہیں، یوں یہ ان چاروں اعلیٰ فوجی افسروں کے لئے آخری کورکمانڈر کانفرنس تھی، جبکہ ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام 7نومبر کو ریٹائر ہوں گے۔یوں ان کا بھی یہ آخری اجلاس ہوسکتا ہے۔

پاک فوج میں تبدیلیوں کا یہ عمل آئی ایس پی آر کے مطابق معمول کا عمل ہے اور یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔لانگ مارچ اور دھرنا سیاست کی وجہ سے ملک میں بہت زیادہ افواہیں پھیلائی گئی تھیں اور اسی تناظرمیں آئی ایس پی آر کو وضاحت کرنا پڑی تھی، چنانچہ یہ عمل اسی کے مطابق مکمل ہوا ہے۔پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے اجلاس میں اور یونٹوں کے معائنہ کے دوران بھی پاک فوج کی صلاحیتوں کو سراہا اور کہاکہ پاک فوج روائتی اور غیر روائتی ہر قسم کے حالات کے لئے مکمل طور پر تیار ہے۔پاک فوج مکمل پیشہ ور فوج ہے جس کی خدمات کو عالمی سطح پر بھی سراہا جاتا ہے۔کورکمانڈرز کی میٹنگ اور اس کی کارروائی کی اطلاع بذریعہ آئی ایس پی آر میڈیا کو ملی اور شائع ہوئی۔یہ بھی اتفاق ہی ہے سابق آرمی چیف جنرل (ر) پرویز مشرف کی ایک تقریر بھی اسی روز ہوئی جو ان کی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ کے یوم تاسیس کے حوالے سے تھی، اس میں انہوں نے ملکی حالات کے حوالے سے پھر فوج کا ذکر کر دیا۔کورکمانڈرز کی میٹنگ اور اس تصدیق شدہ کارروائی سے فوج کے کردار کی پھر وضاحت ہو گئی ہے کہ فوج کا نظام درست طور پر چل رہا ہے اور فوج سیاسی معاملات سے ماورا ہے۔

مزید : اداریہ