سیاچن: امن پارک کی تجویز

سیاچن: امن پارک کی تجویز

سینٹ کی مجلس قائمہ برائے دفاع نے سیاچن پر تنازعہ ختم کر کے اسے ”امن پارک“ بنانے کی تجویز دی ہے۔ مجلس قائمہ کے ایک وفد نے گزشتہ ہفتے کے دوران دنیا کے بلند ترین محاذ سیاچن کا دورہ کیا اور کچھ وقت وہاں محافظوں کے ساتھ گزارا، واپسی پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سینیٹر مشاہد حسین نے اس محاذ پر اٹھنے والے اخراجات پر تنقید کی اور کہا دونوں ملک اپنے عوام کا پیٹ کاٹ کر سیاچن محاذ پر رقوم لگا رہے ہیں جس کا کوئی بنیادی فائدہ نہیں۔سیاچن سلسلہ ہمالیہ کا ایک بڑا گلیشیئر ہے، ضیاءدور میں بھارت نے خاموشی سے اس کے ایک حصہ پر قبضہ کر لیا تھا، پاک فوج نے جوابی کارروائی کی اور یہ باقاعدہ محاذ بن گیا۔ یہاں کئی بار جھڑپیں ہوئیں اور دونوں اطراف سے جانی نقصان بھی ہوا۔ پاکستان کے محافظ اس بلند ترین محاذ پر بھی ملکی دفاع میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ حالانکہ یہاں درجہ حرارت اتنا کم ہوتا ہے کہ مخصوص لباس اور مخصوص خیموں کے باوجود کئی جوان اپنے اعضا سے محروم ہو جاتے ہیں جو درجہ حرارت کی کمی کے باعث سن ہو کر خون کو منجمد کر دیتے ہیں مجبوراً اس حصے کو جسم سے الگ کرنا پڑتا ہے۔جہاں تک بھارت کا تعلق ہے تو اس کی مسلح افواج نے اپنی طرف سیاچن گلیشیئر کی برف کو صاف کر کے اس علاقے کو باقاعدہ ایک چھاﺅنی کی شکل دے دی ہے جہاں ہیلی کاپٹر کے علاوہ جہاز کی لینڈنگ کا انتظام بھی کیا جا رہا ہے یوں بھارت یہاں بے تحاشہ اخراجات کر رہا ہے۔

سیاچن کو محاذ جنگ بننے کی وجہ سے یہ قدرتی عطیہ شکست و ریخت کا شکار ہوا اور اس کی ہیئت میں تبدیلی آئی ہے۔ ماہرین موسمیات کے مطابق گلیشیئر پر انسانی رہائش اور سر گرمیوں کے علاوہ یہاں فوجی کارروائیوں کی وجہ سے یہ گلیشیئر بری طرح متاثر ہوا اور اس کے اثرات موسم پر مرتب ہوئے ہیں اگر یہ سلسلہ مزید جاری رہا تو گلیشیئر کی برف پگھل جائے گی اور یہ ایک بڑا موسمیاتی المیہ ہوگا۔سید مشاہد حسین نے سیاچن پر فوجی تنازعہ کی وجہ سے پیدا ہونے والی ان تبدیلیوں پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا یہاں قبضہ سے کسی فریق کو کوئی فائدہ نہیں اسے انا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہئے۔ انہوں نے اس کا نام بھی تجویز کیا کہ ”امن پارک“ رکھ دیا جائے۔ پاکستان اور بھارت مشترکہ طور پر دو طرفہ بات چیت کے ذریعے طے کر لیں تو سیاچن کو واقعی امن پارک بنایا جا سکتا ہے اور یہ غیر ملکی سیاحوں کے لئے بہت زیادہ کشش کا باعث ہوگا۔ دونوں ملک اس گلیشیئر کے تحفظ اور اسے سیاحت کے لئے زیادہ مقبول بنانے کے لئے اقدامات کر سکتے ہیں۔ بھارت یہاں کالونی اور چھاﺅنی بنانے سے گریز کرے اور دونوں مل کر اطراف میں تفریحی اسباب پیدا کریں۔ یہ ناممکن نہیں بشرطیکہ نیت امن کی ہو۔

مزید : اداریہ


loading...