بدلتا ہوا پاکستان

بدلتا ہوا پاکستان
 بدلتا ہوا پاکستان

  



پاکستان کے بارے ہونے والی ہر بحث بالخصوص جب یہ بھارت میں ہو تو اس میں پاکستان کی قیام کی منطق اور وجوہات پر ضرور بحث ہوتی ہے۔ مذہبی بنیادوں پر برصغیر پاک و ہند کی تقسیم اتنی صاف ثابت نہیں ہوئی جتنا اس کے بارے میں پاکستان کے بانی قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے پیش گوئی کی تھی۔ محمد علی جناح ایک وکیل تھے اور خود مختار انڈیا میں اس تقسیم کو آئینی مسائل کا وہ حل گردانتے تھے۔

11اگست 1947ء کو دستور ساز اسمبلی سے اپنے پہلے خطاب میں جس کو آج تقریباً67سال ہوچکے ہیں اس خطاب میں محمد علی جناح نے کہا تھا کہ میں جانتا ہوں کہ ہم میں ایسے لوگ موجود ہیں جو انڈیا، پنجاب اور بنگال کی تقسیم کے حق میں نہیں ہیں اور اس کے خلاف بہت سے لوگوں نے بہت کچھ کہا ہے لیکن اب جب اسے تسلیم کر لیا گیا ہے تو اب ہم سے ہر شخص کا یہ فرض ہے کہ اس معاہدے کی جواب مکمل ہے اور لاگو ہو چکا ہے اس کی پابندی کریں اور اس کی شرائط سے وفاداری کا ثبوت دیں۔ ہر شخص کو اس کا احساس ہے جو فرق ان دو طبقوں میں پایا جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ان دو قوموں میں ایک اکثریت میں ہے اور ایک اقلیت میں اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس واقعہ کا اونچا ہونا اس کے نہ ہونے سے بہتر تھا کیوں کہ تقسیم تو سب ہو چکی ہے اور انڈیا اور بھارت ہر دو ملکوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جو اس تقسیم سے اتفاق نہیں کرتے اور اسے پسند بھی نہیں کرتے لیکن میرے خیال میں اس مسئلے کا اور کوئی حل موجود نہ تھا اور مجھے یقین ہے کہ مستقبل میں میرے اس فیصلے کے میں حق گواہی آئے گی اور وقت یہ ثابت کرے گا کہ انڈیا کے آئینی مسائل کا اس کے سوا کوئی حل نہ تھا۔

مسٹر جناح کے بیان سے صاف ظاہر ہے کہ وہ اس سیاسی سمجھوتے کو صرف اور صرف آئینی مسائل کے حل کے طور پر ہی دیکھتے تھے اور اسے کبھی دو قوموں کے درمیان مستقل جھگڑے کی وجہ نہیں سمجھا۔ اس سے اس بات کی وضاحت ہوتی ہے کہ قائد اعظم کو یہ توقع تھی کہ انڈیا اور پاکستان بھی امریکہ اور کینیڈا کی طرح ساتھ ساتھ رہیں گے اور ایک کھلی سرحد کے ذریعے اور نظریات کی آزادی کے ساتھ ایک دوسرے سے تجارت آزادانہ طور پر ہوگی اور یہی وجہ تھی کہ قائد اعظم نے بمبئی میں اپنی رہائش گاہ مالا بارہلز پر اصرار کیا تاکہ انہیں ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اپنے گھر میں رہنے کا موقع ملے جہاں انہوں نے اپنی زندگی کے کئی سال گذارے تھے۔اب ہم سب یہ جانتے ہیں کہ تقسیم اور پاکستان کا معرض وجود میں آنا جیسا کہ قائد اعظم کا خیال تھا، دستوری اختیارات کے متعلق ایک دلیل کا اختتام نہ تھا جس کے نتیجے میں پورا ملک نسلی تشدد کا شکار ہوگیا ہزاروں لوگوں کو ذبح کر دیا گیا اور لاکھوں افراد اپنے گھروں سے محروم ہو گئے اور دونوں ملک امریکہ اور کینیڈا کی طرح اچھے پڑوسی بن کر رہنے کی بجائے ایک دوسرے کے بدترین دشمن بن کر مستقل طور پر حالت جنگ میں رہنے لگے یہ صورتحال ملک کے حق میں ٹھیک نہ تھی بلکہ اس نے پاکستان کو بہت نقصان پہنچایا۔ غیر منقسم بھارت کا وہ علاقہ جس کو پاکستان کا درجہ دیا گیا معاشی لحاظ سے بھارت کا غیر مستحکم علاقہ تھا اور جہاں کے لوگوں کو فوراً نئے ملک کی باگ ڈور سنبھالنے کے قابل نہیں بتایا جا سکتا تھا اور جہاں نہ ہی نئی فوج کا قیام ممکن تھا۔ بلووں کے نتیجے میں کئی لوگوں نے بھارت سے پاکستان ہجرت کی اور ہندوؤں اور سکھوں کو بھی ملک سے نکلنا پڑا اور کئی بھارتی لوگوں نے نئے ملک میں معاشی ترقی اور نوکریوں کے حصوں کی غرض سے ہجرت اختیار کی۔

خود مختاری کے کئی سال بعد انڈیا سے آئے ہوئے اعلیٰ تعلیم یافتہ مہاجرین کے برعکس دھرتی کے بیٹے اعلیٰ ملازمتوں پر فائز ہو گئے اور کئی سال بعد پاکستان اسلامی نظریاتی ریاست بن گیا اور پیچیدہ بین النسلی، سماجی اور اقتصادی حرکیات کو حل کرنے کے لئے ایک شارٹ کٹ تیار کر لی گئی۔ جب 1971ء میں پاکستان کا مشرقی حصہ بنگلہ دیش بنا تو پاکستان پر ایک نسلی گروہ پنجابیوں کا غلبہ رہا جو پاکستان کے لئے ایک نظریاتی نمونے کی حمایت کرتا تھا اور جس کی افواج، ذرائع ابلاغ اور افسر شاہی میں بہت زیادہ نمائندگی تھی۔ سیاسی سائنسدان بینی ڈکٹ اینڈرسن اپنی کتاب ، میجنڈ کمیونیٹیز میں ایک قوم کی تعریف کرتے ہوئے نہ صرف موروثی بنیادوں پر بلکہ حاکمیت کے اعتبار سے اسے تصوراتی سیاسی کمیونٹی قرار دیتا ہے۔ اینڈرسن کے بقول قوم سماجی بنیادوں پر تعمیر ہونے والی کمیونٹی ہوتی ہے جس میں لوگوں کی تخلیلاتی شمولیت ہوتی ہے جو ایک دوسرے کو اس جماعت کا حصہ سمجھتے ہیں۔ بہت سے مصنفین جن میں سلمان رشدی بھی شامل ہے یہ دلائل دے چکے ہیں کہ پاکستان کے قیام کا تصور ناکافی تھا اور اس کے قیام کی طلب میں بنیادی ابہام موجود ہے۔ ایک ایسے پاکستانی کی حیثیت سے جس کی پیدائش تقسیم کے فوری بعد ہوئی ہو اور جس نے کوئی دوسرا وطن نہ دیکھا ہو میں پاکستان پر ہونے والی تنقید کو خوب سمجھتا ہوں لیکن میں وطن کے نظریے کے خلاف نہیں جا سکتا اور مجھ جیسے لاکھوں افراد موجود ہیں جنہوں نے پاکستان کے علاوہ کوئی گھر نہیں دیکھا اور جو پاکستان ہی کو اپنا گھر سمجھتے ہیں ہم بامقصد طریقے سے پاکستان کی تاریخ پر بحث کرنے کو تیار ہیں اور پاکستان کے لئے ایک مختلف مستقبل کا نقشہ تیار کر سکتے ہیں لیکن جہاں تک گھر کا سوال ہے تو پاکستان ہی ہمارا گھر ہے جس کا ہمیں دفاع کرنا ہے اور جس کی ترقی کے لئے ہمیں کوشش کرنی ہے۔ (جاری ہے)

مزید : کالم


loading...