کچھ قوتیں دس پندرہ بندے یا کسی بڑے لیڈر کو مروا کر نظام کو تلپٹ کرنا چاہتی تھیں ،جاوید ہاشمی

کچھ قوتیں دس پندرہ بندے یا کسی بڑے لیڈر کو مروا کر نظام کو تلپٹ کرنا چاہتی ...

   ملتان (مانیٹرنگ ڈیسک) تحریک انصاف کے سابق صدر وسینئرسیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی نے انکشاف کیا ہے کہ دھرنے کی اب کوئی افادیت نہیں رہی،مسئلہ صرف اناکاہے،ہمارے لیڈر کانوں کے کچے ہیں ، کچھ قوتیں قوم کو آپس میں لڑا کر خانہ جنگی کرانا چاہتی تھیں ، ان کا پروگرام تھا کہ دس پندرہ بندے یا کسی بڑے لیڈر کو مروا کر نظام کو تلپٹ کر دیا جائے اور تمام سیاسی جماعتوں پر پابندیاں لگا دی جائیں، میں نے نہ صرف ملک بلکہ جمہوریت‘ تحریک انصاف اور پورے سیاسی عمل کو بچایا ہے ، ہم  نے پاکستان کو تجربہ گاہ نہیں بنانا ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنی رہائش گاہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ جاویدہاشمی نے کہا کہ میں نے اور مخدوم شاہ محمود قریشی نے کبھی نہیں کہا کہ مڈٹرم الیکشن کرائے جائیں یہ مرحلہ تو اب ضد میں آ گیا ہے اس لئے مختلف مطالبات کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت برداشت کا نام ہے اگر میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف اپنے آپ کو جمہوریت کا چیمپیئن سمجھتے ہیں تو انہیں برداشت کرنا پڑے گا ہم نے ضیاءالحق گو‘ اسحاق خان گو‘ فاروق لغاری گو اور مشرف گو کے نعرے لگائے۔ سب جانتے ہیں کہ ڈیسک بجا بجا کر ہمارے ہاتھ تھک گئے تھے لیکن یہ سب جانے کے بجائے دس سال اور پانچ سال مقرر کر رہے تھے، نواز شریف بھی گو نواز گو کے نعرے برداشت کیوں نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز وزیراعلیٰ پنجاب نے بیان دیا ہے کہ وہ اللہ کے شیروں کو روکے ہوئے ہیں میں سمجھتا ہوں کہ جمہوریت برداشت کا نام ہے آپ مغربی ممالک کو دیکھئے بعض حکمرانوں پر جوتے بھی پھینکے جاتے ہیں‘ امریکی صدر پر بھی جوتا پھینکا گیا‘ نریندر مودی پر بھی گندے انڈے پھینکے گئے لیکن انہوں نے نے برداشت کیا۔ مسلم لیگ بڑی پارٹی ہے اور اس کے پاس کارکنوں کی بڑی تعداد ہے یہی خانہ جنگی کا خوف تھا جس کی وجہ سے میں نے عمران سے منتیں کی تھیں کہ ہم اپنے کارکنوں کو خانہ جنگی کی طرف نہ دھکیلیں۔ انہوں نے کہاکہ میں نے عمران سے کہا تھا کہ کوئی بیٹی یا بیٹا مارا گیا تو ہمارے دھرنے کسی کام سے نہیں رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ضمنی الیکشن میں تحر یک انصاف نے ایسے لوگوں کو امیدوار بنایا جو رسہ گیر‘ چور اور بھتے خور تھے اور لوگوں سے پیسے لیتے تھے اس سے تحریک انصاف کے چہرے پر بھی داغ لگ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس ملک میں مارشل لاءآ جاتا ہے وہ سوکھ جاتا ہے۔ آپ دھرنے ختم کر کے لوگوں کو ایجوکیٹ کریں اور ان کو بتائیں کہ ہم طاقت رکھتے ہیں۔ دھرنے کی افادیت اب نہیں رہی۔ یہ ذاتی انا کا مسئلہ نہیں ہے۔ نوجوانوں کو آگے بڑھنے دیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے لیڈر کانوں کے کچے ہیں۔ کچھ زیادہ کچے ہیں اور کچھ کم کچے ہیں‘ یہ ہمارے مقدر میں لکھے گئے ہیں۔ وہی عمران خان قوم کا لیڈر بن چکا ہے جس نے شوکت خانم ہسپتال بنایا اور اور جس نے ورلڈ کپ جیت کر دکھایا تھا۔ پاکستانی قوم میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ اپنے ہیروز کو یاد رکھتی ہے ورنہ ورلڈکپ تو برطانیہ نے بھی جیتا ہے اور انڈیا بھی دو مرتبہ جیت چکا ہے لیکن کیا ان کے کپتان بھی وزیراعظم بنے۔ وہاں تو کوئی بی ڈی ممبر نہیں بن سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں کاروبار دنیا رک چکا ہے ہمارا قافلہ رواں دواں تھا لیکن منزل کا تعین کوئی اور کر رہا تھا۔ مجھے عمران خان کہتے تھے کہ آپ تقریر کریں۔ میں نے 9 دن تقریر نہیں کی۔ انہوں نے کہاکہ میں نے عمران خان سے کہا کہ اگر سارا نظام تلپٹ کر کے کوئی اور نظام لانا ہے تو اس میں عمران خان کا نام نہیں ہو گا اور سیاست پر پابندیاں لگ جاتیں تو ملک ٹوٹ سکتا تھا میں نے ملک ٹوٹنے سے بچایا۔ انہوں نے کہا کہ میں تحریک انصاف کا صدر ہوں اور آزاد لڑ رہا ہوں۔ میں نے جھوٹی مثال قائم نہیں کی اس لئے میں نے پارٹی کا عہدہ چھوڑدی۔ جھوٹی مثال وائس چیئرمین نے قائم کی ہے انہیں چاہیے کہ وہ بھی استعفیٰ دے کر آ جائیں کیونکہ حلقہ این اے 150 کے عوام انکے منتظر ہیں کہ انکا محبوب لیڈر ان کے پاس آئے

جاویدہاشمی

مزید : صفحہ اول


loading...