وائٹ ہاﺅس سکیورٹی تنازعہ ، امریکی سیکرٹ سروس کی سربراہ جولیا پیئرسن مستعفی

وائٹ ہاﺅس سکیورٹی تنازعہ ، امریکی سیکرٹ سروس کی سربراہ جولیا پیئرسن مستعفی

واشنگٹن(خصوصی رپورٹ) وائٹ ہاو¿س میں سکیورٹی تنازعہ پر امریکی سیکرٹ سروس کی سربراہ جولیا پیئرسن نے استعفیٰ دے دیا،جولیا نے ہوم لینڈ سکیورٹی کے سیکرٹری کو اپنا استعفیٰ ارسال کر دیا،سیکرٹ سروس' کے اسپیشل ایجنٹ جوزف کلینسی کو عبوری سربراہ مقرر کردیا گیا ہے، جولیا صدر اوبامہ کی سکیورٹی کے ذمہ دار ادارے کی سربراہ تھیں،کانگریس میں وائٹ ہاس کی سکیورٹی توڑنے کے ایک واقعے پر سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا تھا،انھیں صدر اوبامہ کے ساتھ ایک مسلح شخص کے لفٹ میں سوار ہونے کے معاملے پر سخت تنقید کا سامنا تھا۔امریکی میڈیا کے مطابق امریکہ کے صدر براک اوباما کی حفاظت کرنے والے ادارے سیکریٹ سروس کی سربراہ جویلیا پیئرسن اعلی سطح پر کئی سکیورٹی لیپس کے واقعات رونما ہونے کے بعد مستعفی ہو گئیں ہیں۔جولیا پیئرسن نے ہوم لینڈ سکیورٹی کے محکمے کے سیکریٹری کو اپنا استعفی پیش کیا۔اس سے ایک دن پہلے انھیں کانگریس میں وائٹ ہاس کی سکیورٹی توڑنے کے ایک واقعے پر سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔یہ خبریں سامنے آنے کے بعد کہ 16 ستمبر کو ایک مسلح شخص کو صدر اوباما کے ساتھ لفٹ میں جانے کی اجازت دی گئی، جولیا پیئرسن پر اپنا عہدہ چھوڑنے کے لیے دبا و¿بڑھ گیا تھا۔جبکہ 19 ستمبر کو عمر گونزالز نامی شخص بغیر کسی روک ٹوک کے وائٹ ہاں میں پہنچ گئے تھے۔ہوم لینڈ سکیورٹی کے سیکریٹری جے جاہنسن نے ایک بیان میں کہا کہ امریکہ کی سیکریٹ سروس کی ڈائریکٹر جولیا پیئرسن نے استعفی پیش کیا ہے اور میں اسے منظور کرتا ہوں۔انھوں نے مزید کہا کہ میں ان کی سیکریٹ سروس اور قوم کے لیے 30 سالہ خدمات کو سلوٹ کرتا ہوں۔وائٹ ہاس کے ترجمان جوش ارنسٹ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ صدر اوباما نے بھی جولیا پیئرسن کی لمبے عرصے کی عوامی خدمات کی تعریف کی۔جان ارنسٹ نے کہا کہ جولیا نے اپنا استعفی اس لیے پیش کیا کیونکہ وہ سمجھتی تھیں کہ اس سروس کے بہترین مفاد میں ہے جس کے لیے ان کی لمبے عرصے کی خدمات ہیں۔ایجنسی کے صدارتی حفاظت کے ڈویژن کے انچارج اب اس عہدے کو سنبھالیں گے۔منگل کو امریکی کانگریس نے جولیا پیئرسن سے اس بارے میں پوچھ گچھ کی تھی کہ کس طرح سے چاقو سے مسلح ایک شخص وائٹ ہاس کے جنگلے کو عبور کرکے عمارت میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگیا۔جولیا پیئرسن نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی مگر انھیں ڈیموکریٹک اور ری پبلکن پارٹی دونوں کے ہی ارکان کے تیکھے سوالوں اور تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ایوان نمائندگان کی نگراں کمیٹی کے ارکان کے سامنے امریکی سیکریٹ سروس کی سربراہ جولیا پیئرسن نے کہا کہ 19 ستمبر کو وائٹ ہاس کی سیکیورٹی میں رخنہ پڑنے کا یہ واقعہ ناقابل قبول ہے اور وہ پوری طرح سے اس کی ذمہ داری قبول کرتی ہیں۔امریکہ کے صدر کی حفاظت اور سکیورٹی کی ذمہ داری 'سیکرٹ سروس' کے پاس ہے جس کے اہلکاروں کو انتہائی تربیت یافتہ اور مستعد سمجھا جاتا ہے۔بیان کےمطابق 'سیکرٹ سروس' کے اسپیشل ایجنٹ جوزف کلینسی کو عبوری سربراہ مقرر کردیا گیا ہے۔

وائٹ ہاو¿س سکیورٹی تنازعہ

مزید : صفحہ اول


loading...