نیٹو کے نکلنے سے افغانستان کا عراق جیسا حال نہیں ہوگا، امریکی ترجمان

نیٹو کے نکلنے سے افغانستان کا عراق جیسا حال نہیں ہوگا، امریکی ترجمان

واشنگٹن (اظہر زمان، تجزیاتی رپورٹ) توقع کے عین مطابق افغانستان کی نئی انتظامیہ نے حلف اٹھانے کے فوراً بعد امریکہ کے ساتھ اس سٹریٹجک معاہدے کی منظوری دے دی ہے جس کے بارے میں سابق صدر حامد کرزئی ٹال مٹول سے کام لے رہے تھے۔ سکیورٹی ماہرین کے مطابق امریکہ سمیت نیٹو کے ممالک نے انخلاءکے ساتھ ساتھ افغان فورسز کو دہشت گردوں کے خلاف اپنے ملک کو خود تحفظ فراہم کرنے کے قابل بنانے کی جو حکمت عملی بنارکھی ہے اس معاہدے سے یقیناً اسے تقویت ملے گی۔

نیٹو کے انخلاءکے حوالے سے جو بحث طویل عرصے سے جاری ہے اس میں اہم ترین سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ اور نیٹو ممالک کی افواج کے افغانستان سے نکل جانے کے بعد یہ ملک دوبارہ دہشت گردوں کے قبضے میں چلا جائے گا سبھی ماہرین پورے اعتماد سے اس بات پر متفق ہیں کہ ایسا بالکل نہیں ہوگا۔ طالبان اور ان کے ہم نوا گروہوں کی شورش میں اضافہ تو ہوسکتا ہے لیکن اب ان کو نمٹنے کے لئے افغان سکیورٹی فورسز پہلے سے زیادہ چاق و چوبند اور تربیت یافتہ ہوچکی ہیں۔

چند نکتہ چیں تجزیہ نگار عراق کی مثال دیتے ہیں جہاں امریکہ کے انخلاءکے بعد سرکار کمزور پڑ گئی اور ”دولت اسلامیہ“ جیسی دہشت گرد تنظیم نے کچھ علاقوں پر قبضہ کرکے اپنے آپ کو مستحکم کرلیا۔ امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان جین ساکی کو معمول کی بریفنگ کے دوران ایسے ہی سوال کا سامنا کرنا پڑا جس کے جواب میں انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں بتایا کہ انخلاءکے بعد افغانستان میں عراق جیسی صورت حال پید انہیں ہوگی کیونکہ افغانستان کے حالات بہت مختلف اور بہتر ہیں۔ یہاں ایک مضبوط سکیورٹی فورس عمل میں آچکی ہے جس کے پاس جدید ترین اسلحہ ہے اور وہ اس کے استعمال میں مہارت حاصل کرچکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انخلاءکے بعد جنوری 2015ءمیں سٹریٹجک معاہدے کے مطابق 9800 امریکی فوج موجود رہے گی جو جنگ میں حصہ لینے کی بجائے افغان سکیورٹی فورسز کی تربیت کا سلسلہ جاری رکھے گی۔ اگر معاہدہ نہ ہوتا اور سکیورٹی فورسز کی مزید تربیت نہ ہوتی تو شاید ان کی طالبان سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت میں کمی رہ جاتی اور دہشت گرد اپنی شورش میں اضافہ کرلیتے لیکن اب یہ ممکن نہیں رہے گا۔

امریکی ترجمان نے مزید بتایا کہ انخلاءکے بعد امریکہ کے علاوہ دوسرے نیٹو ممالک کی بھی تھوڑی سی فوج موجود رہے گی جو امریکہ کے ساتھ مل کر افغان فورسز کو تربیت دے گی۔ 2015ءکے آخر میں جب امریکی اور نیٹو افواج کی تعداد میں مزید کمی ہوگی اس وقت تک افغان فورسز کی مہارت میں خاصہ اضافہ ہوچکا ہوگا۔

یہ سوال بھی اکثر پوچھا جاتا ہے کہ حامد کرزئی نے اپنے دوسرے اور آخری دور صدارت کے آخری حصے میں امریکہ اورنیٹو ممالک کی مخالفت اور سٹریٹجک معاہدے پر دستخط کرنے میں ٹال مٹول کا سلسلہ کیوں شروع کیا۔ اس کی کچھ وجوہات سطح سے اوپر ہیں اور کچھ سطح کے نیچے، سطح کے اوپر کے معاملات یعنی جن کا وہ پبلک میں اعلان کرتے رہے ان میں ان کا یہ اعتراض بھی شامل تھا کہ امریکہ نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کی لیڈر شپ افغان انتظامیہ کو دینے کی بجائے خود سنبھال لی۔ امریکی ترجمان جین ساکی نے اعتراف کیا کہ ایک وقت امریکہ نے طالبان کے ساتھ براہ راست مذاکرات کرنے کی کوشش کی۔ یہ امریکہ کی اس پالیسی سے انحراف نہیں تھا کہ افغانوں کو ہی افغانوں سے معاملات طے کرنے چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان سے براہ راست مذاکرات کرنے کی امریکی کوشش ناکام ہوگئی۔ اگر کامیاب ہوجاتی تب بھی بالآخر امریکہ نے طالبان کے ساتھ حتمی معاہدے کا معاملہ افغان انتظامیہ ہی کے حوالے کرنا تھا۔

حامد کرزئی نے اپنے دور اقتدار میں کبھی کھل کر اور کبھی دبے دبے الفاظ میں پاکستان کی فوج پر افغانستان میں مداخلت اور وہاں کچھ تخریبی کارروائیوں کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ سب سے بڑی دلیل ان کی یہ تھی کہ حقانی نیٹ ورک کو پاکستانی فوج کی پناہ حاصل ہے جو سرحد عبور کرکے افغان علاقے میں تخریبی کارروائیاں کرتا ہے۔ حامد کرزئی کو امریکہ سے یہ شکایت بھی بہت زیادہ تھی کہ وہ اس کے موقف کا حامی ہونے کے باوجود پاکستان سے تعلقات بہتر بنانے کی کوشش میں رہتا ہے۔

واقفان حال کی رائے یہ ہے کہ حامد کرزئی کی امریکہ مخالفت کی بنیاد کچھ اور ہے۔ افغانستان کیلئے امریکہ کی فوجی، اقتصادی اور مالی امداد میں مسلسل خوردبرد ہوتی رہی ہے اور جب بھی امریکی انٹیلی جنس نے اس کا سراغ لگانے کی کوشش کی اس کا بنیادی سرا حامد کرزئی اور ان کے خاندان تک جاملتا تھا۔ امریکہ چاہتا تھا کہ دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ افغانستان کی ایک شفاف جمہوری طریقے سے اقتصادی ترقی بھی ہو لیکن کرزئی انتظامیہ کا معاملہ ہمیشہ غیر شفاف اور مشکوک رہا۔ مبصرین کے مطابق حامد کرزئی کی طرف سے امریکہ کی مخالفت کا اصل معاملہ یہی سطح کے نیچے کا معاملہ تھا جس پر امریکی انتظامیہ بہت نالاں تھی۔

افغان امور کے ماہرین سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کے درمیان انتخابی مصالحت اور ایک ہی انتظامیہ میں شراکت اور اس کے بعد سٹریٹجک معاہدے کی منظوری جیسے دو اہم معاملات افغانستان کے مستقبل کیلئے بہت خوش آئند ہیں۔ حامد کرزئی پر کرپشن کے الزامات بہت لگے اور پھر انہوں نے اس پر ”وائٹ واش“ کیلئے افغان امور پر لکھنے والے چند افغان اور پاکستانی صحافیوں کو مبینہ طور پر ڈالروں کے بریف کیس دئے۔ ماہرین امید کرتے ہیں افغانستان کی نئی انتظامیہ طالبان کو قابو میں رکھ سکے گی اور کرپشن سے ممکن حد تک پاک اقتصادی ترقی لانے میں بھی کامیاب ہوجائے گی۔

مزید : صفحہ اول


loading...