سب کو مل کر چلنا ہو گا،کوئی تنہا پاکستان نہیں بنا سکتا،وقت آنے پر سب مل کر ہی بنائیں گے؛ زرادی نےسراج کو ’چھوٹا بھائی‘ قرار دے دیا

سب کو مل کر چلنا ہو گا،کوئی تنہا پاکستان نہیں بنا سکتا،وقت آنے پر سب مل کر ہی ...
سب کو مل کر چلنا ہو گا،کوئی تنہا پاکستان نہیں بنا سکتا،وقت آنے پر سب مل کر ہی بنائیں گے؛ زرادی نےسراج کو ’چھوٹا بھائی‘ قرار دے دیا

  


لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور  امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے اتفاق کیا ہے ملک میں جاری سیاسی بحران کا حل صرف مذاکرات اور مفاہمت سے ہی ممکن ہےجبکہ کوئی اکیلا پاکستان کو نہیں بنا سکتا، اس کے لئے سب کو مل کر چلنا ہو گا اور وقت آنے پر سب مل بیٹھیں گے۔ جماعت اسلامی کے ہیڈ کوارٹر منصورہ میں دونوں رہنماؤں نےاہم ملاقات کے بعد میڈیا کو بریفنگ میں بتا یا کہ ہم چاہتے کہ اسلام آباد میں جاری دھرنے جلد سے جلد ختم ہو جائیں تا کہ ملک واپس ترقی کا سفر شروع کر سکے اور جمہوریت کے ثمرات عوام تک پہنچنا شروع ہوں۔ اس موقع پر آصف زرداری کا کہنا تھا کہ کوئی شخص وزیر اعظم بننے کے لئے ملک کو نقصان نہ پہنچائے، یہ جمہوریت ہم نے بڑی قربانیوں کے بعد حاصل کی ہے، میثاق جمہوریت ہی کی وجہ یہ ممکن ہوا کہ آج ہم سب یہاں سیاست کر رہے ہیں لیکن وزارتوں کی لڑائی میں ملک کو نقصان نہیں ہونے دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی غصے کو کم کرنے کے لئے بڑے بڑے جلسے کر رہا ہےلیکن جلسے میں آنے والے حب علی سے زیادہ بغض معاویہ میں آ رہے ہیں، سراج الحق میرے چھوٹے اور نواز شریف بڑے بھائی ہیں، سب ملکر چلیں گے۔ سراج الحق کا کہنا تھا کہ آصف زرداری ملکی مسائل کو حل کرنے کی سوچ رکھتے ہیں اور ہمارے ساتھ مل کر سیاسی بحران کے حل کے لئے کوشاں ہیں کیونکہ پاکستان کے آئین کی حفاظت کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اگر ہم نے آئیں کی بالا دستی قائم کی ہوتی تو موجودہ صورتحال پیدا نہ ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کو بحال ہوئے کئی سال گزر گئے ہیں مگر عام آدمی تک جمہوریت کے ثمرات ابھی تک نہیں پہنچ سکے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان منصورہ میں   ملاقات ہوئی  جس میں ملک میں جاری سیاسی بحران سمیت کئی باہمی دل چسپی کے امور پر بات چیت کی گئی، ملاقات میں پیپلز پارٹی کی جانب سے امین فہیم, سید یوسف رضا گیلانی، منظور وٹو اور قمر زمان کائرہ بھی شریک تھے۔اس سے قبل منصورہ پہنچنے پر امیر جماعت اسلامی سراج الحق اور لیاقت بلوچ نے سابق صدر کا استقبال کیا, اس موقع پر سراج الحق کا کہنا تھا پارلیمنٹ کی حمایت کے باوجود وزیر اعظم نواز شریف مجھے پریشان نظر آتے ہیں تاہم امید ہے کہ بحران کا مثبت حل جلد ہی نکل آئے گا۔آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ پوری قوم کی خواہش ہے کہ یہ دھرنے عید سے قبل ہی ختم ہو جائیں، ان کی وجہ سے وفاقی اور صوبائی حکومتیں جمود کا شکار ہیں اور حکومتی پریشانی سب پر واضح ہے۔ اس سے قبل بھی سابق صدر نے جماعت اسلامی کے سربراہ سے منصورہ میں ملاقات کر کے پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی کے درمیان برسوں پر محیط کنارہ کشی ختم کی تھی اور اس کے بعد حکومت ، تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے درمیان مذاکرات کروانے کے لئے ایک سیاسی جرگہ قائم کیا گیا تھا ۔

مزید : قومی /اہم خبریں


loading...