ڈریکولا کو کہاں قید کیا گیا؟نئی تحقیق میں انکشاف

ڈریکولا کو کہاں قید کیا گیا؟نئی تحقیق میں انکشاف
ڈریکولا کو کہاں قید کیا گیا؟نئی تحقیق میں انکشاف

  

انقرہ(نیوزڈیسک)خوفناک کہانیوں اورفلموںکے دہشت ناک کردار ڈریکولا سے توسب واقف ہیں لیکن پہلی دفعہ ترکی کے ماہرین آثارقدیمہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے وہ کال کوٹھڑی ڈھونڈ لی ہے جہاںپر حقیقی ڈریکولا کو قید کیا گیا تھا۔

ماہرین کا کہناہے کہ پندرہویں صدی میں ولاددی امپیلر نامی ایک حکمران تاریخ کاوہ سیاح کردار ہے جسے ڈریکولا کا نام دیا جاتا ہے ۔ اس کا تعلق رومانیہ سے تھا اور اس کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ اپنے دشمنوں کے جسموں میں سے نیزے گزار کر انہیںمرنے کے لئے ٹانگ دیتا تھا اور اسکے ظلم کا شکارہونے والے بلندباسوںاورنیزوںپر تڑپ تڑپ کرجان دے دیتے تھے۔

ترک ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک کے شمالی حصے میں قلعہ توکات میں وہ کال کوٹھڑی تیارہوگئی ہے جہاں پر ولاد کوقید کیاگیا تھا۔ ترکی کے اخبار حریت ڈیلی کے مطابق یہ دریافت قلعہ کی دس ہفتوں سے جاری تعمیر نوکے دوران کی گئی تھی۔ ایک ماہرآثارقدیمہ ابراہیم سیٹن نے بتایا کہ قلعہ میں ایک سرنگ دریافت ہوئی ہے جو اس قید خانے کی طرف جاتی ہے۔ تاریخ دانوں کاکہناہے کہ سلطنت عثمانیہ کے حکمرانوں نے ولادکویہاںپرقیدکیا تھا ۔ یہ ظالم حکمران اپنے باپ اوربھائی کے قتل کے بعد اپنے دشمنوں کے خاتمہ کے لئے کمربستہ ہوگیا ۔ اسے اس کے خون آشام رویہ کی وجہ سے ڈریکل کا نام دیا گیا جوبعدمیں تبدیل ہوکر ڈریکولا بن گیا۔اسکے بارے میں مشہورہے کہ یہ اپنے شکاروں کے رستے ہوئے خون سے روٹی بھگو کر کھایا کرتاتھا۔اسکے متعلق اب تک سینکڑوں کہانیاں لکھی جاچکی ہیں اور درجنوں فلمیں بنائی جاچکی ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس