شمالی کوریا کے آمر کی حکومت پر گرفت کمزور،اپوزیشن میں خوشی کی لہر

شمالی کوریا کے آمر کی حکومت پر گرفت کمزور،اپوزیشن میں خوشی کی لہر
شمالی کوریا کے آمر کی حکومت پر گرفت کمزور،اپوزیشن میں خوشی کی لہر

  


ایمسٹرڈیم(نیوز ڈیسک) شمالی کوریاکے مطلق العنان حاکم کم جانگ اُن کی خرابی صحت کے بعد اب یہ خبریں سامنے آگئیں ہیں کہ ان کااقتدار بھی خطرے میںپڑچکاہے اوران کے مخالفین کی جانب سے ملک میں خانہ جنگی کاخطرہ پیداہوگیاہے۔

یہ بات شمالی کوریا سے فرارہوکرجلاوطنی اختیارکرنے والے ان سفارتکاروں وزراءاور سکیورٹی اہلکاروں نے بتائی ہے جو ایک وقت میں اس ملک کے اہم ترین عہدوںپرفائز تھے ۔ ایک سابقہ سفارتکار جینگ کا ہے کہ شمالی کوریا کے حکومتی ادارے آرگنائزیشن اینڈ گائیڈنس ڈیپارٹمنٹ نے کم جانگ کے احکامات سے روگردانی شروع کردی ہے اور وہ عملی طورپر ملک کے معاملات چلارہے ہیں۔ ملک کے انتظامی معاملات کے علاوہ اقتصادی معاملات پر بھی ان کاکنٹرول ہے ۔ شمالی کوریا کے سربراہی مملکت سے اختلافات رکھنے والا یہ گروپ چاہتا ہے کہ بیرونی ممالک کے ساتھ تجارت کو بڑھایا جائے اورشمالی کوریاکو ایک آزادملک بنایا جائے۔ اس وقت ملک میں دو طبقات کے درمیان اختلافات پیداہوچکے ہیں جن میں سے ایک کم جانگ کے ساتھ ہے جبکہ دوسرااس کے خلاف کھڑاہے ۔ کم جانگ اوراسکے ساتھی سخت گیر اقتدار کوجاری رکھنا چاہتے ہیں جبکہ مخالف طبقہ ملک کو بین الاقوامی روایات اورخیالات کے ساتھ ہم آہنگ کرنا چاہتا ہے ۔ ہالینڈ میں مقایم ان سابقہ شمالی کوریائی افسران کے بیانات ایسے وقت پر آئے ہیں جب کم جانگ کی صحت کے متعلق پہلے ہی شکوک و شبہات گردش کررہے ہیں۔اگر یہ خبریں سچ ثابت ہوتی ہیں تو یہ بات شمالی کوریامیں ایک بڑی تبدیلی کی طرف اشارہ کررہی ہے۔

مزید : بین الاقوامی


loading...