دنیا کے وہ ملک جہاں بزرگ سب سے زیادہ خوش اور ادا س ہیں ،سروے میں انکشاف

دنیا کے وہ ملک جہاں بزرگ سب سے زیادہ خوش اور ادا س ہیں ،سروے میں انکشاف
دنیا کے وہ ملک جہاں بزرگ سب سے زیادہ خوش اور ادا س ہیں ،سروے میں انکشاف

  

اوسلو(نیوزڈیسک)پوری دنیا میں اوسط عمر بڑھ رہی ہے۔ ایک 60 سالہ خاتون کے حوالے سے امید کی جاتی ہے کہ وہ 82 سال تک زندہ رہ پائے گی اور مردوں کے لئے یہ عمر 79 سال ہے لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ اوسط عمر تو بڑھ گئی لیکن ہر ملک میں زندگی کا معیار بتدریج گرتا چلا جارہا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق ناروے میں لوگوں کو طویل العمر پایا گیا ہے اس کے بعد سویڈن اور سوئٹزرلینڈ جیسے ممالک کا نام آتا ہے جبکہ افغانستان اور موزبیق سب سے بدتر واقع ممالک ہیں۔ اس فہرست میں انگلینڈ 8ویں نمبر پر جبکہ آسٹریلیا کی جگہ 13 ویں پوزیشن پر ہے۔ 2014ءکے ایچ واچ انڈکس میں 96 ممالک کا ذکر کیا گیا ہے۔ دنیا کے دس بہترین ممالک جہاں زندگی کو جیسا جاتا ہیں ناروے، سویڈن، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، جرمنی، ہالینڈ، آئس لینڈ، امریکہ، جاپان اور نیوزی لینڈ جیسے کا نام شامل ہے جبکہ اس کے برعکس جہاں زندگی سسکتی ہے کی فہرست میں افغانستان، موزبیق، تنزانیہ، پاکستان، اردن، یوگنڈا، زمبابوے اور عراق جیسے ممالک ہیں۔ یہ حقائق گلوبل ایچ واچ انڈکس 2014ءمیں شائع ہوتے ہیں۔ اس سروے میں چار چیزوں پر فوکس کیا گیا۔

-1فی کس آمدنی، نیشن کی صورتحال، بوڑھے لوگوں کے علاج کیلئے منصوبے، جی ڈی پی اور غربت کی شرح

-2 صحت اور نفسیاتی مسائل

-3 روزگار کی سطح اور تعلیمی معیار

-4 لوگوں کا معیار زندگی

ان نقاط کی بنیاد پر امیر ممالک اور غریب ممالک کی فہرست ترتیب دی گئی۔ اس سروے پر پروفیسر اصغر زیدی جو کہ یونیورسٹی آف ساﺅتھ ہمینٹن کے شعبہ ریسرچ آن ایچ میں اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں اس سروے پر بہت ہی فکر انگیز تبصرہ کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ یہ انڈکس دراز عمری اور بوڑھے لوگوں کو اختیار دینے یا خود مختیار بنانے والی پالیسیوں میں ایک بڑی غلط فہمی پیدا کرتا ہے۔ اس کی تائید ہیلپ ایچ انٹرنیشنل کے چیف ایگزیکٹو مسٹر ٹوبے پورٹرنے ان الفاظ میں کی۔ یہ بے نظیر شرح آبادی پالیسی بنانے والوں کے لئے ایک چیلنج ہے کہ وہ بڑھتی عمر کے لوگوں کے مسائل سے کس طرح نبردآزما ہوگی۔ ان دونوں دانشوروں کی رائے کا آسان الفاظ میں یہ کہنا ہے کہ بڑھتی عمر کے لوگوں کی ضروریات کا کیونکر خیال رکھا جاسکتا ہے۔ اس بولے گئے سچ کی روشنی میں حکومتوں کو یہ دیکھنا ہے کہ وہ لوگوں اور بڑھتی عمر کے لوگوں کے لئے کیا فلاح و بہبود کے منصوبے سامنے لاسکتی ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس