بچوں کو اپنی تصویریں فیس بک پر کیوں نہیں لگانی چاہئیں؟ بہت بڑا خطرہ سامنے آگیا

بچوں کو اپنی تصویریں فیس بک پر کیوں نہیں لگانی چاہئیں؟ بہت بڑا خطرہ سامنے ...
بچوں کو اپنی تصویریں فیس بک پر کیوں نہیں لگانی چاہئیں؟ بہت بڑا خطرہ سامنے آگیا

  

سڈنی(مانیٹرنگ ڈیسک) سوشل میڈیا ویب سائٹ ہماری زندگیوں میں اس طرح داخل ہو گئی ہیں کہ بڑے تو بڑے، بچے بھی اپنے اکاﺅنٹس بنا رہے ہیں لیکن ایک انتہائی خطرناک بات جو بچوں کی سمجھ تو شاید بالاتر ہو لیکن ان کے والدین بھی اس کو کچھ اہمیت نہیں دیتے وہ بچوں کا ان ویب سائٹس پر اپنی تصاویر اپ لوڈ کرنا ہے۔ کسی سے بھی بات کرکے دیکھ لیں ، وہ یہی کہے گا کہ کسی بچے کی تصویر اپ لوڈ کرنے سے کیا ہوتا ہے؟ یہ نئی ریسرچ ایسے لوگوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔ ماہرین نے اپنی اس تحقیق میں بتایا ہے کہ پیڈوفائلز(بچوں سے جنسی رغبت رکھنے والے افراد)کی ویب سائٹس پر موجود بچوں کی تصاویر میں سے آدھی سے زیادہ فیس بک، انسٹا گرام و دیگر سماجی رابطے کی ویب سائٹس سے چرائی جاتی ہیں۔

کیا آپ ناپسندیدہ میسجز اور کالز وصول کرنے سے تھک گئے ہیں؟ تو یہ خبر آپ کے لئے ہے

آسٹریلوی چلڈرن سیفٹی کمشنر آفس کے محققین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر پیڈوفائلز کی انڈرورلڈ موجود ہے جنہوں نے سینکڑوں کے حساب سے ویب سائٹس بنا رکھی ہیں۔ ان ویب سائٹس پر اربوں معصوم بچوں کی تصاویر پوسٹ کی جاتی ہیں اور ان تصاویر کے نیچے انتہائی گھٹیا اور فحش کمنٹس دیئے جاتے ہیں جنہیں پڑھ کر کسی بھی شخص کا دل دہل جائے۔تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ٹوبی ڈیگ کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا سے چرائی جانے والی یہ تصاویر مختلف ناموں کے فولڈرز میں ترتیب سے رکھی جاتی ہیں۔ ان فولڈرز کے نام ”My daughter's Instagram“اور ”Kids at beach“ وغیرہ رکھے جاتے ہیں۔سائبر سکیورٹی کی ماہر سوزان مک لین کا کہنا تھا کہ والدین کو ان خطرات سے آگاہ ہونا چاہیے جو انٹرنیٹ پر ان کے بچوں کو لاحق ہو سکتے ہیں۔آپ جب بھی انٹرنیٹ پر کوئی چیز پوسٹ کر دیتے ہیں، خواہ وہ محفوظ چیٹ میں ہو یا اوپن وال پر، وہ آپ کے ہاتھوں سے نکل جاتی ہے۔ ایک بار پوسٹ کردینے کے بعد آپ اسے قابو نہیں کر سکتے۔اس لیے والدین کو چاہیے کو اپنے بچوں کو تصاویر پوسٹ کرنے سے باز رکھیں تاکہ انہیں کسی قبیح مقصد میں استعمال نہ کیا جا سکے۔

آئی فون نہ لے کر دینے پر لڑکی نے بوائے فرینڈ سے سرعام شرمناک بدلہ لے لیا

مزید : ڈیلی بائیٹس