قدیم رومیوں کے دانت اتنے سفید کیوں ہوتے تھے؟ ماہرین کا تہلکہ خیز انکشاف

قدیم رومیوں کے دانت اتنے سفید کیوں ہوتے تھے؟ ماہرین کا تہلکہ خیز انکشاف

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) آج کے دور میں جب علم طب اتنی ترقی کر چکا ہے ہم اپنے دانتوں کی اس قدر بھی حفاظت نہیں کر پاتے کہ وہ زندگی بھر ہی ساتھ نبھا سکیں۔ عموماً لوگوں کے دانت بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھتے ہیں گرنا شروع ہو جاتے ہیں لیکن قدیم رومی باشندوں کے دانت اس قدر مضبوط تھے کہ 79 AD میں آتش فشاں کے لاوے کی لپیٹ میں آ کر مرنے والے 30مردوں، خواتین اور بچوں کے دانت تاحال بہترین حالت میں موجود ہیں۔

کیا آپ ناپسندیدہ میسجز اور کالز وصول کرنے سے تھک گئے ہیں؟ تو یہ خبر آپ کے لئے ہے

79 ADمیں روم کا شہر پومپائی(Pompeii) آتش فشاں پہاڑ کے لاوے اور راکھ کی نذر ہو گیا تھا اور ان قدیم رومی باشندوں کی ملنے والی 30لاشیں آج بھی لاوے میں جکڑی ہوئی ہیں۔ سائنسدانوں نے سی ٹی سکین کے ذریعے ان کے جسموں کا معائنہ کیا ہے۔ اس دوران پتا چلا کہ ان کے دانت آج بھی بہترین حالت میں موجود ہیں۔دانتوں کی ماہر ایلیسا ویناکور کا کہنا ہے کہ پومپائی کے باشندے پھل اور سبزیاں کثرت سے کھاتے تھے جب کہ ان کی خوراک میں میٹھے کا عمل دخل بہت کم تھا۔وہ ہم سے کہیں زیادہ بہتر خوراک کھاتے تھے اس لیے ان کے دانت آج بھی محفوظ ہیں۔ ایلیسا کا کہنا تھا کہ ان قدیم رومی باشندوں کے دانتوں کے مزید مطالعے سے ان کی زندگی کے بارے میں مزید انکشافات متوقع ہیں۔

بیوی کا شوہر کے ساتھ بہت بڑا دھوکہ، سالوں تک جسے اپنا بچہ سمجھتا رہا وہ۔۔۔

مزید : ڈیلی بائیٹس

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...