راوی پر نیا پل نہ بننے سے ٹریفک جام معمول ، شہری گھنٹوں خوار ہونے پر مجبور

راوی پر نیا پل نہ بننے سے ٹریفک جام معمول ، شہری گھنٹوں خوار ہونے پر مجبور

 لاہور(اقبال بھٹی) راوی کے پل پر شاہدرہ موڑتک ٹریفک بلاک ہونا معمول بن گیا، جی ٹی روڈ پر آنے جانے والے گھنٹوں ٹریفک میں پھنسنے پر مجبور ہو گئے ۔ میٹرو بس بھی راوی پل پر رینگتی ہوئی دکھائی دیتی ہے ،پارکنگ اتھارٹی اور ضلعی انتظامیہ بے بس نظر آتی ہے ۔تفصیلات کے مطابق جب سے میٹرو بس سروس کا آغاز ہوا ہے تب سے راوی پل سے شاہدرہ موڑ تک ٹریفک کا بلاک ہونا ایک معمول بن چکا ہے جس سے شیخو پورہ ،گجرات ،گجرانوالہ ،سیالکوٹ ،اسلام آباد آنے جانے والے مسافربے حد پریشان ہو گئے ہیں 5منٹ کا یہ سفر ایک ایک گھنٹے میں طے ہوتا ہے جبکہ شاہدرہ کی مقامی آبادیاں جن میں مقبرہ جہانگیر،شاہدرہ ٹاؤن ،رانا ٹاؤن ،امامیہ کالونی کے علاوہ جیا موسی ،بیگم کوٹ اور کوٹ عبد المالک کے رہائشی بھی تکلیف سے دوچار ہیں ۔ٹریفک بلاک رہنے سے بچے اکثر سکول سے لیٹ ہو جاتے ہیں جبکہ کسی مریض کو لے جانے میں بھی کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ذرائع نے بتایا ہے کہ میٹرو بس سروس کے لیے دریائے راوی پر ایک علیحدہ پل بنایا جانا تھا جو صرف میٹرو بس سروس کے لیے بنانا مقصود تھا مگر گورنمنٹ پنجاب کے بلند بانگ دعوؤں کے باوجود بھی یہ پل نہ بن سکا ۔پرانا پل جو عام ٹریفک کے لیے بنایا گیا تھاوہ پہلے ہی ٹریفک کے لیے ناکافی تھا اس کے باوجود میٹرو بس سروس بھی اسی پل سے گزاری جا رہی ہے جس سے ٹریفک کا برا حال ہے اس حوالے سے جب ایل ڈی اے (ٹیپا) کے افسران سے پوچھا گیا کہ جب آپ کے میٹرو بس سروس کے ڈیزائن میں دریائے راوی پر پل بنانا تھا تو یہ پل کیوں نہیں بنایا جا سکا تو ان کا کہنا تھا کہ میٹرو بس سروس بڑے تھوڑے وقت میں عوام الناس کے لیے تیار کی گئی تھی اور اس وقت پل بنانے میں کچھ قانونی پیچیدگیاں آڑے آ رہی تھیں جو اب دور ہو گئی ہیں اور اب بہت جلد ہائی وے اور ایریگیشن کی باہمی رضا مندی سے دریائے راوی پر پل بنایا جا رہا ہے جس کا پی سی ون منظور ہو چکا ہے اور بہت جلد کسی بھی اچھی شہرت والی ملکی یا غیر ملکی کمپنی کو اس کا ٹھیکہ دیا جائے گا اور اس کے بعد موقع پر کام شروع کر دیا جائے گا ۔ایل ڈی اے ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ شہر لاہور کی ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے کے لیے دریائے راوی پر میٹرو بس سروس پل کے علاوہ بھی ایک بہت بڑا پل بنایا جا رہا ہے جس کی آٹھ لائنیں ہوں گی اس کی تکمیل کے بعد شہر لاہور کی ٹریفک میں روانی آ جائے گی۔

مزید : میٹروپولیٹن 1