پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن نے عطائیت کے خلافمہم تیز کر دی

پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن نے عطائیت کے خلافمہم تیز کر دی

لاہور( نامہ نگار)پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کے کو چیف آپریٹنگ آفیسر ڈاکٹر اجمل خان نے کہا ہے کہ عطائیت کے خاتمے کے لئے مہم تیز کر دی ہے،عطائیت اِنسانی صحت اور زندگی کے لئے خطرے کے ساتھ ساتھ ایک سنگین جرم بھی ہے ۔ کمیشن نے راولپنڈی ، لاہور ، سرگودھا ، فیصل آباد، اور ساہیوال میں 2700سے زائد عطائیت کے اڈے ضلعی انتطامیہ کے اِشتراک سے بند کر دےئے ہیں اور یہ مہم آجکل زوروں پر ہے۔صرف یکم جولائی 2015سے ابتک 918ایسے جعلی کلینکس سیل کئے جا چکے ہیں اِن میں سے صرف 310 عطائیوں نے اِسے کھولنے کی درخواست کی ہے جو اِس بات کا بھی مظہر ہے کہ یہ غیر قانونی اور غیر اخلاقی کام کتنے زوروں پرجاری تھا اِس کے علاوہ220 کیسز پرباقاعدہ سماعت کی گئی۔ واضح ہو کہ ایسے غیر مستند، غیر قانونی اور غیر معیاری صحت کے مراکز جو عطائیت کے زمرے میں آتے ہیں، کو 33 لاکھ روپے کے جرمانے بھی عائد کئے گئے۔ پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن نے اِس مقصد کے لیے ایک اعلٰی سطح کی عطائیت کے کیسز کے خلاف سماعت کی کمیٹی تشکیل دی ہے جو ماہرین، ڈاکٹر اور وکلاء پر مشتمل ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1