پاکستان کیلئے مستقبل میں ڈرون پر کشش ہتھیار یا آلہ ہو سکتے ہیں ،امریکی میڈیا

پاکستان کیلئے مستقبل میں ڈرون پر کشش ہتھیار یا آلہ ہو سکتے ہیں ،امریکی میڈیا

واشنگٹن(اے این این)امریکی میڈیانے دعویٰ کیاہے کہ دنیا میں ڈرون جنگ غیر متوقع طور پر پھیل رہی ہے، امریکہ اور برطانیہ کے برعکس پاکستانی فوج نے اپنے علاقے میں ہی دشمن کو ختم کرنے کیلئے ڈرون کا استعمال کیا، مستقبل میں ڈرون پاکستانی حکومت کیلئے پرکشش ہتھیار یا آلہ ہو سکتے ہیں تاہم زمینی آپریشنز پر خون اورپیسے کو خطرے میں ڈالنے کے بارے میں بھی پاکستان محتاط ہے، پاکستان کی طرف سے اپنے ڈرون کے استعمال پر داخلی سطح پر خاموشی اس حقیقت کی نشان دہی کرتی ہے کہ ڈرون پر پاکستان میں سیاسی تنازعہ صرف امریکا کی طرف سے پاکستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی پر ہے ۔ امریکی بزنس جریدے ’’فورچون‘‘ کی رپورٹ مطابق پاکستانی ڈرون براق کے حملے میں عسکریت پسندوں کی ٹارگٹ کلنگ ثابت کرتی ہے کہ ڈرون جنگ غیر متوقع طور پر پھیل رہی ہے ۔ امریکا ،برطانیہ اور اسرائیل کے بعد پاکستان دنیا کاچوتھا ملک ہے جومسلح ڈرون کے ذریعے اپنے ٹارگٹ کوکامیابی سے نشانہ بناسکتا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ اور برطانیہ کے برعکس پاکستانی فوج نے اپنے علاقے میں ہی دشمن کو ختم کرنے کیلئے ڈرون کا استعمال کیا۔یہ حملے وزیرستان میں امن و امان قائم کرنے کی پاکستان کی طویل عرصے سے جاری مہم کا حصہ تھے، پاک فوج اگست کے بعد سے عسکریت پسندوں کو وادی شوال سے نکالنے میں مصروف ہے جو افغانستان کیلئے ہتھیار اور افرادی قوت کا راستہ ہے۔ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل عاصم سلیم باجوہ کے مطابق ڈرون حملے ہائی پروفائل دہشت گردوں کیخلاف ہیں، اسے عسکریت پسندوں کی کمر توڑنے اور علاقے کو صاف کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی طرف سے مسلح ڈرون کا استعمال اس طرح بھی شروع ہو سکتا ہے کہ ہمسایہ ممالک بھارت اور افغانستان بھی خطرہ محسوس کریں، یہ عمل ان ممالک کی طر ف سے زیادہ جارحانہ کوششیں شروع کراسکتا ہے کہ وہ اپنے ڈرونزتیا ر کریں۔ ایک سطح پر یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ڈرون جنگ غیر متوقع طور پر پھیل رہی ہے۔ چند نے پیشگوئی کی تھی کہ مغربی ممالک کے علاوہ دنیا میں صرف پاکستان ہوگا جو منظم ٹارگٹ کلنگ کیلئے مسلح ڈرونز کا استعمال کرے گا۔خاص طور پراس نفرت کی وجہ سے جو بہت سے پاکستانی امریکی ڈرون حملوں سے کرتے ہیں۔ پاکستان کی طرف سے اپنے پہلے ڈرون کے استعمال پر داخلی سطح پر ردعمل میں خاموشی ہے جو اس حقیقت کی نشان دہی کرتی ہے کہ ڈرون پر پاکستان میں جو سیاسی تنازع ہے وہ امریکا کی طرف سے پاکستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی پر ہے ڈرون ٹیکنالوجی سے نہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اگرداخلی سطح پر ڈرون جنگیں قابل قبول ہیں تو پاکستان اور دیگر ممالک یہ راستہ اپنا سکتے ہیں کہ طویل عرصے سے جاری عسکریت پسندی ،دراندازی اور سول تنازعات کے حل کیلئے ٹارگٹ کلنگ پروگرام شروع کریں جو قابل عمل اورمقبول ہے۔

مزید : علاقائی