امریکی صحافی کا بینظیرسے متعلق بیان جھوٹ کا پلندہ ہے،پرویز مشرف

امریکی صحافی کا بینظیرسے متعلق بیان جھوٹ کا پلندہ ہے،پرویز مشرف

کراچی /اسلام آباد ( آئی این پی ) آل پاکستان مسلم لیگ کے چیئرمین اور سابق صدر جنرل(ر)پرویز مشرف نے امریکی صحافی مارک سیگل کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کا بیان حقائق کے برعکس محض جھوٹ کا پلندہ ہے،بیان پر حیرت ہوئی ،مارک سیگل اگر سچے ہیں تو انہوں نے اپنی زیرادارت شائع ہونے والی بے نظیر بھٹو کی کتاب میں اس سچائی کا ذکر کیوں نہیں کیا؟اگر بے نظیر بھٹو کومجھ سے خطرہ ہوتا تو وہ مجھ سے سیکیوریٹی کیوں مانگتیں؟مخالفین مارک سیگل کے بیان کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنا چاہتے ہیں،اس بیان کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر محمد امجد سے ٹیلی فونک گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ ان کا امریکہ میں کوئی ٹیلی فونک رابطہ نہیں تھا اور نہ ہی انہوں نے2007میں بے نظیر بھٹو کو ٹیلی فون کال کی ۔جس کال کا حوالہ امریکی صحافی مارک سیگل نے دیا وہ جھوٹ پر مبنی ہے اور ایسے جھوٹے بیان کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔اس کا بیان سچائی پر مبنی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کے مخالفین کی ایک سازش ہے کہ وہ مارک سیگل کے بیان کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنا چاہتے ہیں۔سمجھ نہیں آتی کہ باربار مارک سیگل سے ہی انکوائری کیوں ہو رہی ہے۔انہوں نے اس اہم پہلو کی طرف توجہ دلائی کہ اگرمارک سیگل اتنے ہی سچے ہیں تو انہوں نے اپنی ادارت میں شائع ہونے والی بے نظیر بھٹو کی کتاب میں اس ٹیلی فونک کال کا تذکرہ کیوں نہیں کیا؟جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کو اگر مجھ سے خطرہ ہوتا تو وہ مجھ سے سیکورٹی مانگنے کے لئے رجوع نہ کرتیں۔ان کا کہنا تھا کہ 2007میں پاکستان واپس آنے سے پہلے بے نظیر بھٹو نے تحریری طور پر ان سے سیکیوریٹی کے لئے رجوع کیا تھا اور ان کی سیکیوریٹی انہی کے نامزد سیکیوریٹی افسر ان کو دی گئی تھی۔انہوں نے کہا کہ میں سچائی پر مکمل یقین رکھتا ہوں،حق اور سچ کو کوئی عار نہیں ہوتی۔مارگ سیگل جیسے جھوٹے اور بدنیتی پر مبنی بیانات اصل حقائق کو جھٹلا نہیں سکتے۔

مزید : صفحہ اول