’’کامیابی کی کہانی، پیف سکالرز کی زبانی‘‘

’’کامیابی کی کہانی، پیف سکالرز کی زبانی‘‘

لاہور(خبر نگار خصوصی) پنجاب ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈ کے زیراہتمام ایک لاکھ طلبا و طالبات کو تعلیمی وظائف کی فراہمی کا ہدف مکمل ہونے پر ایوان اقبال میں منعقدہ تقریب میں پیف سکالرز نے پنجاب کے وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف کو پنجاب ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈ کے قیام پر زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا اور تعلیم کیلئے وسائل کی فراہمی پر وزیراعلیٰ کا شکریہ ادا کیا۔ رنگساز حاجی غلام فرید کے بیٹے پیف سکالر ڈاکٹر محمد مرتضیٰ نے تقریب میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میں ایک رنگساز مزدور کا بیٹا ہوں۔ حصول تعلیم میرا خواب تھا جو پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف کی بدولت ممکن ہوا کہ ایک رنگساز کا بیٹا ڈاکٹر بن گیا ہے۔ ایک ریٹائرڈ معلم کی بیٹی پیف سکالر خوشنود یاسین نے بتایا کہ میں نے کیمسٹری میں ایم فل کیا ہے اور گولڈمیڈل حاصل کیا ہے۔ اس نے کہا کہ میرے والد نے مجھ سے کہا ہے کہ یہ گولڈمیڈل شہبازشریف کے گلے میں ڈال دینا کیونکہ وہی اس کے حقدار ہیں اور ان کی بدولت ہی تمہیں یہ اعزاز ملا ہے۔ میں اپنے والد کی خواہش کی تکمیل میں اپنا گولڈمیڈل پنجاب کے وزیراعلیٰ شہبازشریف کے نام کرتی ہوں جن کے سینے پر پہلے ہی کئی قیمتی گولڈمیڈلز سجے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرا غریب گھرانے سے تعلق ہے اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا میرا خواب تھا جو پیف نے پورا کیا ہے۔ پنجاب ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈ کے ذریعے انجینئر بننے والے پیف سکالر محمد اکرام نے اپنی داستان سناتے ہوئے کہا کہ میرے والد محنت کش ہیں جو محنت مزدوری کرکے گھر کے اخراجات پورے کرتے ہیں۔ اعلیٰ تعلیم کیلئے اخراجات کی فراہمی میرے لئے ممکن نہ تھی۔ اس بات کا کریڈٹ شہبازشریف کو جاتا ہے جن کی بدولت ایک مزدور کا بیٹا آج انجینئر بن چکا ہے۔ ایک اور پیف سکالر سیماب حسن نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنے تعلیمی اخراجات پورے کرنے کیلئے صبح 5 بجے سے 7 بجے تک اپنے والد کے ساتھ سبزی منڈی میں محنت مزدوری کرتا تھا۔ میرے باپ کی خواہش تھی کہ اگر مجھے اپنا گھر بھی بیچنا پڑا تو بھی میں تجھے تعلیم ضرور دلاؤں گا۔ میری اور میرے والد کی یہ خواہش پیف نے پوری کردی اور آج میں عوام الناس کی فلاح و بہبود کیلئے امریکہ میں کام کرنے والے ہیلتھ ایجوکیشن کے ادارے میں بطور ڈائریکٹر کام کر رہا ہوں اور یہ سب کچھ وزیراعلیٰ شہبازشریف اور پیف کی بدولت ہی ممکن ہوا ہے۔ خاکروب شمعون مسیح کے بیٹے عرفان سیموئیل نے اپنی داستان سناتے ہوئے بتایا کہ میں پیف کی بدولت بی ایس سی الیکٹریکل انجینئر بن چکا ہوں اور این ٹی ڈی سی واپڈا ہاؤس میں اسسٹنٹ مینجر کے طو رپر اپنے فرائض سرانجام دے رہا ہوں۔ فاسٹ یونیورسٹی سے ماسٹر کرنے والی پیف سکالر صبا صفدر نے کہا کہ میں آج جس مقام پر کھڑی ہوں یہ مقام مجھے پیف کی بدولت ہی ملا ہے۔ اعلیٰ تعلیم کے حصول کا خواب شہبازشریف نے پورا کر دیا ہے۔ پ۔ فاٹا سے تعلق رکھنے والی پیف سکالر ماریہ نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میرے والد ایک کسان ہیں جو مجھے کسی صورت تعلیم نہیں دلا سکتے تھے تاہم میں نے پیف کی بدولت بی ایس سی کر لی ہے اور میں حیران ہوں اور خوش بھی کہ لاہور میں بیٹھے ہوئے ایک لیڈر جس کا نام شہبازشریف ہے، وہ مہمند ایجنسی کی بیٹی کے مسائل سے آگاہ ہے۔ پنجاب کے وزیراعلیٰ شہبازشریف نے ہم پر جو شفقت اور عنایت کی ہے اسے ہم ہمیشہ یاد رکھیں گے۔ محنت میں عظمت کی داستانیں سن کر محنت میں عظمت کی داستانیں سن کر وزیراعلیٰ سمیت تمام شرکاء دنگ رہ گئے۔

مزید : صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...