پاک بھارت تعلقات، کشیدگی میں اضافہ اور میڈیا کا کردار

پاک بھارت تعلقات، کشیدگی میں اضافہ اور میڈیا کا کردار

تجزیہ : چودھری خادم حسین

وزیراعظم محمد نوازشریف کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب اور پاکستانی وفدکی سرگرمیوں کے حوالے سے نیویارک سے پاکستانی صحافیوں کی خبریں اور تجزیئے عوام تک پہنچ چکے اور اندرون ملک بھی ٹاک شوز سے تجزیوں تک سب کچھ ہو چکا، اس سلسلے میں مزید کچھ لکھناکچھ عجیب سا لگتا ہے لیکن پھر بھی یہ ایک پہلو ہے کہ ہر دو ممالک کے میڈیا سے تعلق رکھنے والے حضرات بڑھ چڑھ کر اپنے اپنے ملک کے موقف کی تائید اور دوسرے کی خرابیوں کی نشاندہی میں لگے رہے اور اب بھی ہیں، یوں یہ حضرات بھی سیاسی چپقلش کی رو میں بہہ گئے۔ حالانکہ رپورٹ اور تبصروں میں اعتدال کا پہلو نمایاں کیا جا سکتا تھا، اس سے کشیدگی میں کمی نہ بھی ہوتو اضافہ رک جاتا لیکن ایسا ہو نہیں سکا اور جنرل اسمبلی کا یہ اجلاس دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھانے کا ذریعہ بن گیا۔ ہم خود بھی بھارتیہ جنتا پارٹی اور بھارتی وزیراعظم مودی کے حوالے سے کسی خوش فہمی کا شکار نہیں اور خیر سگالی وفود کے تبادلے کی وجہ سے کئی بار بھارت کا دورہ کر چکے اور یہاں بھارتی دانشوروں کا استقبال کرکے ان کے ساتھ تبادلہ خیال بھی ہوتا رہا ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کئی سالوں کی کوشش کے بعد ان حضرات کی کاوش گٹر میں بہہ گئی، اگرچہ کانگرس حکومت بھی کچھ کم نہیں تھی لیکن بی جے پی سے تو بہتر توقعات ہو بھی نہیں سکتیں تاہم تنقید حد اعتدال ہی میں مناسب رہتی ہے دونوں ممالک کے صحافیوں نے ایک سے زیادہ بار اس اعتدال پر صاد کیا اور وعدے بھی کئے کہ وہ ایسا کریں گے بوجوہ یہ بھی ممکن نہ ہوا، اب پاک بھارت تعلقات ایک ایسی نہج پر ہیں جہاں سے مذاکرات کی طرف مراجعت مشکل لگتی ہے۔

پاکستان نے احتیاط کی، اپنا کیس موثر طور پر پیش کیا تاہم وزیراعظم کی تقریر کے بعد پاکستان کے خلاف معاندانہ رویے کے ثبوت یوں کھلے عام نہیں دیئے بلکہ طریق کار کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو ڈوزئیرز کی صورت میں پیش کئے کہ اب وہی مندرجات ظاہر کرنے کے مجاز ہیں اس طرح جواب الجواب کا سلسلہ شروع نہیں ہوا، ماسوا اس تقریر کے جو سشما سوراج (بھارتی وزیر خارجہ) نے کی اور پاکستان پر دہشت گردی کا پرانا الزام لگایا جسے اب اقوام عالم اس حوالے سے نہیں تسلیم کرتیں جیسے بھارت پیش کرتا ہے۔ اب تو واضح طور پر خطے کے حالات کی روشنی میں تشویش پائی جاتی ہے لیکن کوئی کسی کے پھڈے میں ٹانگ کیوں اڑائے؟ جہاں تک دہشت گردی کا تعلق ہے تو بھارتی میڈیا کو احساس ہونا چاہیے کہ پاکستان اس حوالے سے خود نشانہ ہے اور ہمارے چیف آف آرمی سٹاف نے برطانیہ میں عالمی پلیٹ فارم پر پالیسی بیان دیا ہے کہ ایک بھی دہشت گرد گوارا نہیں، اس حوالے سے سیاسی اور عسکری قیادت ایک پیچ پر ہے۔

وزیراعظم واپس آ چکے، آتے ہی دوسرے مسائل میں الجھ جائیں گے حلقہ این اے 122 میں امکانی طور پر 9اکتوبر کو خطاب کریں گے۔

مزید : تجزیہ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...