پنجاب حکومت وکلاء کے بارے سرد مہری سے کام لے رہی ہے،اشتیاق احمد

پنجاب حکومت وکلاء کے بارے سرد مہری سے کام لے رہی ہے،اشتیاق احمد

لاہور(نامہ نگار)لاہور بار کے صدر کا کہنا ہے کہ وکلاء کے مسائل حل کرنے میں پنجاب حکومت سنجیدہ نہیں ہے اور نہ ہی حکو مت کی جانب سے وکلاء کی فلاح و بہبود کے لئے کوئی فنڈز جاری کئے گئے حکومت وکلاء کے بارے میں انتہائی سرد مہری سے کام لے رہی ہے جبکہ جگہ جگہ پھیلی ہوئی عدالتوں کو ایک جگہ اکھٹا کرنے کے معاملہ میں بیورو کریسی بلا وجہ آڑے آرہی ہے ہم انتباہ کرتے ہیں کہ ایسا مت کرو ورنہ وکلاء راست اقدام اٹھانے پر مجبور ہو جائیں گے ۔لاہور بار ایسوسی ایشن کے صدر چودھری اشتیاق احمد خان نے گزشتہ روزایک ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ لاہور ایک بڑا ضلع ہے ،یہاں مقدمات بہت زیادہ ہیں اور اس کے علاوہ ماتحت عدالتیں پورے لاہور میں پھیلی ہوئی ہیں جس کی وجہ سے وکلاء کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ایک عدالت سے نکل کر دوسری عدالت میں پہنچنا مشکل ہوتا ہے اور یہی وجہ مقدمات کے التواء کا سبب بن رہی ہے جس پر ہائیکورٹ نے خصوصی توجہ دی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت لاہور میں 46 ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کام کر رہے جبکہ مزید تعینات ہونے ہیں ان کے لئے عدالتی کمروں کی کمی ہے۔ایل ڈی ے کمپلیکس اور ایوان عدل کی بلڈنگ کے درمیان کواپریٹو کی ایک بلڈنگ ہے جو تقریباً گزشتہ 20سال سے حکومت پنجاب کے پاس کرایہ پر تھی جسے عدلیہ نے زائد کرایہ ادا کرنے کے ایگریمنٹ پر حاصل کیا جسے30 ستمبر کو عدلیہ کے حوالے کیا جانا تھا جبکہ اس میں بیوروکریسی ٹانگیں اڑا رہی ہے اور انہوں نے ایک مقامی اخبار میں اشتہار بھی شائع کرایا ہے کہ وکلاء ان کی بلڈنگ پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں جو کہ سراسر جھوٹ پر مبنی ہے۔صدر لاہور بار نے کہاکہ چونکہ عدلیہ نے یہ بلڈنگ کرایہ پر حاصل کی ہے اور وہ خالی پڑی ہے ،اگر 8 اکتوبر تک اسے عدلیہ کے حوالے نہ کیا گیا تو وکلاء راست اقدام کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔

مزید : صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...