73 کروڑ روپے کی گیس چوری میں ملوث ملزم کی میڈیکل رپورٹ مسترد

73 کروڑ روپے کی گیس چوری میں ملوث ملزم کی میڈیکل رپورٹ مسترد

لاہور(نامہ نگارخصوصی )لاہورہائیکورٹ میں کوٹ لکھپت کے علاقہ میں فیکرٹری میں 73 کروڑ روپے کی گیس چوری کے مقدمہ میں ملوث ملزم کی میڈیکل رپورٹ مسترد کرتے ہوئے ایم ایس سروسز ہسپتال کوطلب کرکے ملزم کے دوبارہ طبی معائنے کے لئے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم دے دیاجو اس کا معائنہ کرکے 9 اکتوبرکو رپورٹ پیش کرے گا۔جسٹس ارم سجاد گل کی عدالت میں 73 کروڑ روپے کی گیس چوری میں گرفتار ملزم طارق عزیز کی درخواست ضمانت کی سماعت ہوئی، ملزم کے وکیل کی جانب سے موقف اختیارکیا گیا کہ اس پر سیاسی بنیادوں پر مقدمہ بنایاگیا۔ملزم ضعیف العمر اوربیمار ہے ،، عرصہ سے جیل میں ہے انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزم کی طبی بناء4 پردرخواست ضمانت منظورکی جائے۔عدالت میں محکمہ سوئی گیس کے لیگل ایڈوائزر رانا ضیاء السلام اورایڈیشنل پراسیکیوٹرجنرل عبدالصمد پیش ہوئے ، سرکاری وکلاء کا کہناتھا کہ ملزم کوٹ لکھپت کے علاقہ میں پاک پیپر اینڈ بورڈ مل کا مالک ہے، اورعدم ادائیگی اورچوری پر اس کی فیکرٹری کی بجلی کا 2010ء اور گیس کا کنکشن 2013ء میں کاٹ دیاگیا ، اس کے باوجود زیرمین پائپ لگا کر گیس کی مین لین سے چوری کررہاتھا جس پر محکمہ سوئی گیس اورضلعی انتظامیہ کے اس کی فیکٹری پر ریڈ کرکے چوری پکڑ لی ، ملزم عادی گیس چورہے اسے پہلے بھی پچانوے کروڑ روپے کی گیس چوری پر بل ڈالا گیا اورمقدمہ درج کرایاگیا ہے اب پھر ملزم نے گیس چوری کی جس کا تہتر کروڑ بل بھیجتے ہوئے اس کے خلاف تھانہ لیاقت آباد میں مقدمہ درج کرایاگیا،ملزم کی صحت بہتر ہے اوراس کی عمر بھی بہت زیادہ نہیں ہے۔ عدالت میں ملزم کے طبی معائنے کی رپورٹ پیش کی گئی جسے عدالت نے مسترد کرتے ہوئے ایم ایس سروسز ہسپتال ڈاکٹرعمر فاروق بلوچ کوطلب کرکے ملزم کے دوبارہ طبی معائنے کے لئے میڈیکل بورڈ تشکیل دے کر نو اکتوبرکو رپورٹ پیش کرنے کاحکم دے دیا۔

مزید : صفحہ آخر