پنجاب کے سرکاری اداروں میں پابندی کے باوجود بھرتیوں پر افسران سے وضاحت طلب

پنجاب کے سرکاری اداروں میں پابندی کے باوجود بھرتیوں پر افسران سے وضاحت طلب

لاہور(شہبا زاکمل جندران//انوسٹی گیشن سیل) پنجاب حکومت نے پونے تین برس بعد نوٹس لے لیا۔ پابندی کے باوجود سرکاری اداروں میں ہونے والی بھرتیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سینئیر ممبر بورڈ آف ریونیو اور صوبے کے تمام ایڈمنسٹریٹو سیکرٹریوں ،مختلف اداروں کے ڈائریکٹر جنرلز ،نیم سرکاری اداروں اورٹی ایم ایز سے وضاحت طلب کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں تاحکم ثانی ہر طرح کی نئی بھرتیاں کرنے سے روک دیا ہے۔17جنوری 2013کو جاری ہونے والے لیٹر کے تحت صوبے بھر میں ہائر ایجو کیشن کے علاوہ تمام سرکاری و نیم سرکاری اداروں میں نئی بھرتیوں پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔معلوم ہواہے کہ پنجاب حکومت نے پونے تین سال بعد صوبے میں پابندی کے باوجود بھرتیوں کا نوٹس لے لیا ہے۔اور صوبے کے تمام انتظامی سیکرٹریوں ، ڈی جیز ، بورڈ آف ریونیو کے سینئر ممبر ، ٹی ایم ایز اور نیم سرکاری اداروں کے سربراہوں سے ایک طرف وضاحت طلب کی ہے تودوسری طرف انہیں تاحکم ثانی نئی بھرتیوں سے روک دیا ہے۔معلوم ہواہے کہ 17جنوری 2013کو صوبائی حکومت نے لیٹر نمبر SOR-IV(S&GAD)10-5/2013کے تحت صوبے میں ہر طرح کی نئی ریکروٹمنٹ پر پابندی عائد کردی تھی۔ وضاحت طلب کئے جانے اور نئی بھرتیوں پر پابندی برقرار رکھنے کا خط موصول ہونے کے بعد صوبائی محکموں کے سربراہوں میں پریشانی کی لہر دوڑ گئی ہے کہ کیا وضاحت پیش کریں۔

مزید : صفحہ آخر