امریکہ، کالج میں قتل ہونیوالے زیادہ طلبہ کرسچن تھے، حملہ آور نے مذہب پوچھ کر گولیاں ماریں

امریکہ، کالج میں قتل ہونیوالے زیادہ طلبہ کرسچن تھے، حملہ آور نے مذہب پوچھ کر ...

واشنگٹن (اظہرزمان، بیوروچیف) امریکی ریاست اوریگون کے ایک کالج کیمپس میں جمعرات کے روز ہونے والی فائرنگ کی آج مزید تفصیلات معلوم ہوئی ہیں، ان اطلاعات کے مطابق حملہ آور نوجوان نے مبینہ طور پر زیادہ تر کرسچین طلباء اور طالبات کو نشانہ بنایا اور بعد میں موقع پر ہی پولیس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں خود بھی مارا گیا۔ تمام میڈیا نے روز برگ شہر میں واقع امپقوا کمیونٹی کالج میں ہلاک ہونے والے طلباء و طالبات کی تعداد دس اور زخمیوں کی تعداد 20 کے قریب بتائی ہے، تاہم اوریگون کے اٹارنی جنرل ایلن روز تبلم نے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 13 بتائی ہے۔ کاؤنٹی کے پولیس شیرف جان ہینلن نے حملہ آور کا نام نہیں بتایا لیکن میڈیا رپورٹس کے مطابق اس 26 سالہ نوجوان کا نام کرس ہارپر مرسر ہے۔ زخمیوں اور عینی شاہدین کے ذریعے اب تفصیلات ملی ہیں اور اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ حملہ آور کی اس کارروائی کا مقصد کیا تھا جو ابھی مکمل طور پر واضح نہیں ہے۔ ان اطلاعات کے مطابق کا سکڈ کے پہاڑوں کے مغربی کونے پر واقع 20 ہزار کی آبادی والے شہر روزبرگ میں جس کے امپقوا کمیونٹی کالج میں یہ سانحہ پیش آیا، وہ عمارت لکڑی کی پیداوار کے حوالے سے معروف ہوتا تھا۔ حملہ آور دوپہر کے قریب جب کیمپس میں داخل ہوا تو اس کے پاس متعدد بندوقیں تھیں۔ عینی شاہدوں کے مطابق جب وہ ایک کلاس روم میں داخل ہوا تو اس نے کرسچین طلباء اور طالبات کو نشانہ بنایا۔ ایک زخمی لڑکی اناٹیسبا بوائیلن کے والد سیٹسی بوائیلن کے بقول حملہ آور نے طلباء سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’’اچھا تم لوگ کرسچین ہو تو پھر تم ایک سیکنڈ میں اپنے خدا کے پاس پہنچ جاؤ گے۔‘‘ اس کے بعد اس نے فائرنگ کرکے انہیں ہلاک کر دیا۔ ایک اور بچ جانے والے عینی شاہد کے مطابق حملہ آور ایک کلاس روم میں داخل ہوا اور پروفیسر پر بندوق تان لی اور اس کے بعد طلباء کو کھڑے ہوکر اپنا مذہب بتانے کی ہدایت کی اور ایک ایک کرکے ان کو مار دیا۔ ایک اور دوسرے کلاس روم میں طلباء نے جب فائرنگ کی آواز سنی تو ٹیچر نے انہیں کلاس سے چلے جانے کی ہدایت کی۔ اس کے بعد کیمپس میں افراتفری مچ گئی اور پناہ کی رش میں طلباء بھاگ کھڑے ہوئے۔ اوریگون کی ریاست میں اس خوفناک سانحہ کے بعد اس کالج کی سیکیورٹی کے بارے میں شہریوں میں بحث شروع ہوگئی ہے جہاں تین ہزار کے قریب سٹوڈنٹس پڑھتے ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ حملہ آور اسی شہر کا رہنے والا تھا۔ اس کالج کا سٹوڈنٹ تھا یا نہیں اس کی تصدیق نہیں ہوئی، جس کے ایک پڑوسی نے بتایا کہ اس کے ساتھ رہنے والی اس کی ماں سانحے کے بعد روتی ہوئی پائی گئی۔ حملہ آور کے بارے میں اس کا کہنا تھا کہ اس کا پڑوسیوں کے ساتھ بڑا غیر دوستانہ رویہ وتا تھا اور وہ عموماً بالکونی میں اندھیرے میں بڑے پراسرار اندر سے بیٹھتا تھا۔

مزید : صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...