تھیٹر انٹریٹمنٹ سوشل اور پیس میں اہم کردار ادا کرتا ہے ، شاہد محمود ندیم

تھیٹر انٹریٹمنٹ سوشل اور پیس میں اہم کردار ادا کرتا ہے ، شاہد محمود ندیم

لاہور(فلم رپورٹر) تھیٹر انٹریٹمنٹ سوشل اور پیس میں اہم کردار ادا کرتا ہے ، نیو دہلی میں ہونے والا تھیٹر فار پیس فیسٹیول بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اس میں ہم نے اپنے ڈراموں کے ذریعے پاکستان کا سوفٹ امیج کو موثر انداز میں پیش کیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار اجوکا تھیٹر کے روح رواں شاہد محمود ندیم نے ادبی بیٹھک الحمراء ہال میں گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ شاہد محمود ندیم نے بتایا کہ 14ستمبر سے17ستمبر تک نیو دہلی کی یونیورسٹی میں ہونے والا پاکستانی پہلا تھیٹر فیسٹیول تھا جس میں ہم نے ’’بلھا‘‘ ، ’’دارا‘‘ ، ’’کون ہے یہ گستاخ‘‘ اور ’’ لو پھر بسنت آئی‘‘ پیش کئے ، جن کے شوز میں آٹھ سو سے زائد افراد دیکھنے آئے۔ عوام کے علاوہ تجزیہ نگاروں اور میڈیا سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے ہمارے سکرپٹ ، ڈائریکشن ، پروڈکشن ، اداکاری اور لائٹنگ کی بے حد تعریف کرتے ہوئے بھرپور کوریج دی۔ اس فیسٹیول کا افتتاح انڈین یونین کلچر منسٹر مہیش شرما نے شمع روشن کرکے کیا ۔ ہم نے فیسٹیول میں پہلا ڈرامہ ’’بلھا‘‘ پیش کیا ۔ڈرامہ دیکھنے کے لئے آنے والے ہمارے موضوعات سے بھی متاثر ہوئے جن سے انہیں اندازہ ہوا کہ پاکستان میں ثقافتی لحاظ سے بھی آگے بڑھ رہا ہے ۔ شاہد محمود ندیم نے کہا کہ اجوکا تھیٹر 26سال سے مشکل حالات میں بھارت جارہا ہے، اس بار بھی جب دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی پائی جارہی ہے مگر وہاں کی عوام اور میڈیا نے مثبت رسپانس دیا ۔ فیسٹیول کے بعد سیمینار کیا جس میں پران نویلی ، اوشا گنگولی ، بنسی کول جبکہ پاکستان کی طرف سے مدیحہ گوہر ، اصغر ندیم سید اور میں تھا ۔شاہد محمود ندیم نے کہا کہ ہمسایہ تھیٹر فیسٹیول دونوں ممالک کی عوام کو قریب لانے میں ایک اہم پیش رفت تھی جس کے ذریعے ہم نے بتایا ہے کہ پاکستانی عوام انتہا پسند نہیں کھلے دل والے ہیں۔ اس موقع پر اجوکا تھیٹر کی جنرل سیکرٹری زارا سلمان اور سنیئر اداکار ارشد درانی بھی موجود تھے۔ بعدازاں میڈیا کو فیسٹیول کے حوالے سے بنائی گئی ڈاکومنٹری دکھائی گئی ۔

مزید : کلچر