حجاج کی آمد۔۔۔ کوریج پر پابندی کیوں؟

حجاج کی آمد۔۔۔ کوریج پر پابندی کیوں؟

منیٰ میں بھگدڑ والے سانحہ کو کئی روز گزر چکے، لیکن ابھی تک اس کی باز گشت سنائی دے رہی ہے۔ حجاج کرام کی واپسی شروع ہے، وہ جو واقعات اور انتظامی امور کے بارے میں بیان کرتے ہیں وہ کوئی خوش کن نہیں ہیں، ان کی گفتگو سے اندازہ ہوتا ہے کہ بھگدڑ کی وجہ وہی دیرینہ شارٹ کٹ اختیار کرنے والے حضرات ہی ہیں، تاہم اب تک عوامی سطح پر معاملات پہنچانے میں بخل سے کام لیا جا رہا ہے، اور نہ صرف حقائق سے آگاہ نہیں کیا جا رہا، بلکہ لاپتہ حجاج کے بارے میں بھی درست اطلاعات نہیں دی جا رہیں،حتیٰ کہ نعشوں کی شناخت بھی مسئلہ بنی ہوئی ہے۔یہاں حکومت کی طرف سے حجاج کرام کی واپسی پر ایئر پورٹ کوریج پر پابندی لگا دی گئی ہے، جو آزادئ صحافت پر قدغن ہے، اس پر میڈیا مالکان سے کارکنوں کی تنظیموں تک کو احتجاج کرنا چاہئے۔ یہ درست کہ آنے والے حجاج کرام سانحہ کے حوالے سے اور پاکستان کی وزارتِ حج کے حوالے سے شکایات بتائیں گے، لیکن ایسا پہلی مرتبہ تو نہیں ہو گا۔ ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے۔ اب فرق اتنا ہے کہ ایک بڑا سانحہ ہو گیا اور لوگ اِس بارے میں بات کریں گے، تو سعودی انتظامیہ پر بھی تنقید ہو گی۔ سعودی عرب قابلِ اعتماد برادر اسلامی مُلک ہے اس کا احترام واجب ہے، اس کے باوجود کوریج روکنا مناسب عمل نہیں ہے۔ البتہ میڈیا سے یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ وہ احتیاط سے کوریج کریں کہ تعلقات متاثر نہ ہوں، لیکن یہ بھی زیادتی ہے کہ اب تک کئی خاندان سعودی عرب میں صرف اِس لئے پڑے ہیں کہ ان کے پیاروں کے بارے میں حتمی اطلاع مل جائے۔ لاپتہ قرار دینے سے جو اذیت ہوتی ہے، اس کا اندازہ انہی خاندانوں سے لگایا جا سکتا ہے، جن کے حجاج کرام لاپتہ کی فہرست میں ہیں، بہتر عمل کوریج اور اِس کے لئے احتیاط ہے، صرف اِسی طریقے سے اخلاقی دباؤ بڑھے گا اور امدادی کارروائیوں میں تیزی آئے گی اور شناخت کا مسئلہ حل ہو گا۔

مزید : اداریہ