مردم شماری۔۔۔ تاخیر ہی سے سہی!

مردم شماری۔۔۔ تاخیر ہی سے سہی!

حکومت نے مردم شماری کے لئے ابتدائی طور پر 6کروڑ روپے مختص کر دیئے ہیں، مردم شماری اگلے سال مارچ میں شروع ہو گی اور مکمل ہونے تک جاری رہے گی۔ یہ مردم شماری17سال کے بعد ہو رہی ہے، جبکہ آئینی طور پر یہ کام بہرحال دس سال پورے ہونے سے قبل ہونا چاہئے۔مردم شماری (خانہ شماری) ہر قسم کی منصوبہ بندی کا ایک بہت ہی اہم جزو ہے، جس کی بنیاد پر مُلک کے تمام منصوبے مرتب ہوتے ہیں۔ اِسی بنا پر محاصل کی وصولی اور پھر تقسیم کا کام بھی ہونا ہوتا ہے، جو اب تک عبوری این ایف سی ایوارڈ کے تحت چلایا جا رہا ہے۔ یہ ایک اچھا فیصلہ ہے، جس کی تائید کی جانا چاہئے کہ پہلے ہی تاخیر ہو چکی۔آپ اس حقیقت سے اندازہ لگائیں کہ 17سال قبل لاہور کی آبادی57لاکھ قرار پائی اور کراچی ایک کروڑ10لاکھ افراد کا شہر تھا، ان 17برسوں میں نوبت یہاں تک آ گئی کہ اندازوں کے مطابق اِن دونوں بڑے شہروں کی آبادیوں میں دو گنا سے بھی زیادہ اضافہ ہو چکا ہے تاہم دستاویزات میں اِن دونوں شہروں سمیت دوسرے شہروں کی آبادی بھی17سال پہلے والی مردم شماری کی بنیاد پر قرار دی جا رہی ہے۔ اِسی لئے مُلک کی آبادی بار بار18کروڑ کہی جاتی ہے،جو اس سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔مردم شماری کے لئے عام طور پر سکول کے اساتذہ یا کلرکوں کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔ یہ ایک تھکا دینے والا کام ہے کہ آپ گھر گھر جا کر فارم تقسیم کریں اور پھر ان کو واپس بھی لیں، اس میں گھرانے والوں کی طرف سے بھی تاخیر ہوتی ہے کہ فارم لے کر رکھ لیتے اور بھرتے نہیں ہیں، بعض زیادہ سرگرم ٹیمیں تو کم ترقی اور تعلیم یافتہ علاقوں میں خود فارم بھرتی ہیں اور صاحبِ خانہ سے دریافت کرتے چلے جاتے ہیں۔ اِس میں کئی بار صاحبِ خانہ تعاون نہیں کرتے، اِس لئے یہ بہت ضروری ہے کہ ابھی سے ایسی تمام خامیوں کا ادراک کر لینا چاہئے، تشہیری مہم کیسی ہو گی اور اس کے لئے کون سے ذرائع اختیار کئے جائیں گے۔ یہ بھی طے کِیا جائے اور عملے کی تربیت کا بھی اہتمام کِیا جائے۔ بہتر ہو گا کہ پاکستان کے شہریوں کو یہ احساس دِلایا جائے کہ یہ اعداد و شمار اور مردم شماری ان کے بھی فرائض میں شامل ہے اور تعاون نہ کرنے والوں کو سزا بھی مل سکتی ہے۔ توقع ہے کہ اِن تمام پہلوؤں کا خیال رکھا جائے گا۔

مزید : اداریہ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...