جہادی تنظیموں کی کشمکش اور افغانستان میں امن: جنوبی ایشیا پر اثرات؟

جہادی تنظیموں کی کشمکش اور افغانستان میں امن: جنوبی ایشیا پر اثرات؟
جہادی تنظیموں کی کشمکش اور افغانستان میں امن: جنوبی ایشیا پر اثرات؟

  

دہشت گرد ، عسکری یا جہادی تنظیمیں جو نام بھی دے دیں خبریں بناتے ہیں یا خبروں میں رہتے ہیں، لیکن شاید ایمن الظواہری واحدمثال ہوں گے جو نہ خبر بنتے ہیں نہ بناتے ہیں۔ القاعدہ کے یہ رہنما ایک سال سے خاموش اور منظر سے اوجھل رہے ہیں ،بالآخر یہ کہہ کر سامنے آئے کہ وہ ملا اختر محمد منصور کو طالبان کا نیا سربراہ تسلیم کرتے ہیں۔ ستمبر2014ء کے بعد ایمن الظواہری کا یہ پہلا بیان ہے۔ القاعدہ کے مشرق وسطیٰ کے دو اہم رہنماؤں کی موت جو امریکی فضائی حملوں کا شکار ہوئے اور اسلامی ریاستآئی ایس آئی ایس اور داعش کا بھرپور طریقے سے منظر عام پر آنا، یمن میں سعودی عرب اور اتحادیوں کی کارروائی اور مُلا عمر کی موت ایسے واقعات ہیں، جنہوں نے القاعدہ اور اس کے رہنما کو پس منظر میں رہنے پر مجبور کر دیا تھا۔

الظواہری نے اپنے حالیہ بیان میں بھی ان میں سے کسی موضوع پر بات نہیں کی، البتہ شہداء کی ایک لمبی فہرست کو خراج عقیدت پیش کیا، جنہوں نے ’’جہاد‘‘ میں اپنی جانیں قربان کیں۔ انہوں نے صرف القاعدہ کے ایک پرانے ساتھی الزرقاوی کا ذکر کیا، جس نے ’’اسلامی ریاست‘‘ کی بنیاد رکھی ،وہ اس سے پہلے عراق میں القاعدہ کا سربراہ تھا۔ دوسرا نام ابو حمزہ المہاجر کا تھا، جن کو شہداء کی فہرست میں رکھا گیا ہے کہ انہوں نے القاعدہ کے رکن کی حیثیت سے جان دی۔ یہ ایک پیغام تھا ابوبکر البغدادی کے نام کہ تم نے اپنے پیشرو کے مقصد سے بغاوت کی ہے، جس کے لئے وہ شہید ہوئے۔ مُلا عمر کی موت کو چھپا کر رکھنا بھی الظواہری کے لئے اچھا شگون نہیں ہے۔ اگر ان کے علم میں نہیں تھا تو بھی سوچنے کی بات ہے کہ طالبان میں سے کسی نے انہیں اس قابل ہی نہیں سمجھا کہ اعتماد میں لیا جائے۔ یہ سب ظاہر کرتا ہے کہ القاعدہ بطور ایک تحریک یا تنظیم اپنا اثر کھو رہی ہے۔

حالیہ ویڈیو میں بھی الظواہری ایک کمزور بوڑھا نظر آیا جو نہ اسلامی ریاست کو چیلنج کر رہا تھا، نہ امریکہ کے خلاف ’’جہاد‘‘ کے موضوع پر للکار رہا تھا، صرف اتنا ہی کہہ رہا تھا کہ القاعدہ جس مقصد کے لئے قائم کی گئی تھی، وہ اپنی جدوجہد جاری رکھے گی ،طالبان اور القاعدہ اتحادی رہیں گے، جو اسلامی خلافت قائم کریں گے، ناانصافی کا خاتمہ کریں گے، مسلمانوں پر دُنیا میں جہاں بھی ظلم ہو رہا ہے اسے بزور قوت روکیں گے۔ اُن کے حقوق بحال کریں گے، لیکن بہت دھیمے انداز میں یہ سب کہا گیا۔ نومبر 2014ء کے بعد سے ابوبکر البغدادی کے پیغامات میں دھمکی، چیلنج، کلاشنکوف لہرانا شامل ہوتا ہے۔۔۔’’اسلامی ریاست‘‘ کے غازیو جہاد کا آتش فشاں پوری دُنیا میں پھیلا دو، دُنیا کو حق کی روشنی سے منور کر دو، اللہ کے باغیوں کو عبرت کا نشان بنا دو، بڑھتے چلو کہ تم حق پر ہو، بڑھتے چلو کہ تم افضل ہو، بڑھتے چلو کہ تم فاتح ہو، اللہ کی نصرت اور مدد تمہارے ساتھ ہے، لیکن الظواہری کی تقریر میں سیاسی انداز نمایاں رہا۔

لیکن یہ سب متوقع تھا۔ الظواہری میں وہ کرشمہ، وہ خوبیاں اور صلاحیتیں نہیں ہیں جو بن لادن میں تھیں۔ اگرچہ اُس نے نو عمری میں ہی مصر سے اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔مصری افواج کے حملے ،پھر القاعدہ کے اندر کی کشمکش، امریکی ڈرون اورHell Fire Missile سے محفوظ رکھنا بھی بڑا کارنامہ ہے۔ ایک اور حقیقت جو ظاہر ہوئی وہ یہ ہے کہ اس کا بیان اُسی وقت سامنے آیا جب ملا منصور کی سربراہی کا اعلان کیا گیا، یعنی اب القاعدہ کے پاس اپنا ذریعہ پیغام رسانی نہیں رہا، البتہ ساتھ والے غار میں جو رہتا ہو، اُس سے بات کی جا سکتی ہے، یعنی الظواہری اور القاعدہ اب صرف Survive کر رہے ہیں، کبھی کبھی ان سے وابستہ گروہوں کی کارروائیاں ضرور سامنے آتی ہیں، البتہ اس کی مخالف داعش بڑے بھرپور طریقے سے سامنے آئی ہے۔ بغدادی نے تحریک میں ایک نئی جان ڈال دی ہے، جوش بھر دیا ہے کہ القاعدہ اب صرف باتیں کرتی ہے،جبکہ آئی ایس آئی ایس مصروف عمل رہتی ہے۔ اُن کے حامیوں کی تعداد اور دائرہ کار بڑھتا جا رہا ہے۔ نائیجیریا، لیبیا، یمن، افغانستان اور شاید پاکستان میں بھی۔۔۔القاعدہ کے عروج کے دور میں صومالیہ میں الشہاب، شام میں النصرہ مصروف کار تھیں، اور وہ عالمی سطح پر مغرب ، بالخصوص امریکہ کے خلاف جہاد کا نعرہ دیتے تھے، لیکن اب مقامی عسکریت پسند اپنے اپنے علاقے میں کارروائیوں میں مصروف رہتے ہیں اور اکثریت ’’اسلامی ریاست‘‘ یا خلافت آئی ایس آئی ایس سے وابستگی رکھتی ہے، بن لادن اور الظواہری کا دور قریب قریب ختم ہو چکا ہے۔

داعش عالمی سطح پر آپریٹ کرنے کی بجائے مشرق وسطیٰ میں اپنے مفتوحہ علاقوں میں ’’ایک ریاست‘‘ قائم کرنا چاہتی ہے ، جہاں باقاعدہ انتظام و انصرام ہو، اپنا قاعدہ قانون اور ضابطہ ہو اور سب کچھ شریعت کے مطابق ہو یا شریعت کے نام پر ہو، وہ خطے کے علاوہ اسلامی ممالک ،خصوصاً مغرب میں مقیم مسلمان نوجوانوں پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں اور اپنی پوزیشن مستحکم کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں ،ان کے ایجنڈے پر نائن الیون کی طرز کا کوئی منصوبہ نہیں ہے، لیکن افغانستان میں صورت حال مختلف ہے، وہاں القاعدہ کا وجود ہے۔ ایمن الظواہری کی طرف سے طالبان کے نئے امیر ملا اختر منصور کو باقاعدہ تسلیم کرنے کا اعلان القاعدہ اور طالبان کے درمیان قریبی تعلق کی نشاندہی ہے، جس سے افغانستان میں امن اور ماضی قریب میں مذاکرات کا مستقبل غیر یقینی ہو گیا ہے۔ طالبان کے ترجمان کی طرف سے ’’جہاد کی آواز‘‘ ریڈیو سے الظواہری کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی گئی کہ امریکہ کے خلاف جہاد میں ہم آپ کے شانہ بشانہ رہیں گے۔ امریکہ شکست کھا کر اور شرمندگی کے ساتھ 2016ء میں واپس چلا جائے گا، پھر طالبان ، القاعدہ اور الشہاب افغانستان میں اپنی آزاد اور خود مختار حکومت قائم کریں گی، جس کا مطلب ہے خانہ جنگی۔۔۔ نائن الیون کی منصوبہ بندی بھی القاعدہ اور بن لادن کو طالبان کی طرف سے افغانستان میںSafe Heaven کی وجہ سے ممکن ہو سکی تھی۔ افغان طالبان بالخصوص حقانی گروپ نے القاعدہ سے اپنے قریبی روابط کو کبھی خفیہ رکھنے کی کوشش نہیں کی، ملا عمر کے بعد حقانی گروپ افغانستان میں اور مضبوط ہو گیا ہے۔

*۔۔۔ داعش کی افغانستان میں آمد مُلا منصور کے لئے ایک چیلنج بن سکتی ہے، کیونکہ ’’خلیفہ ابوبکر البغدادی‘‘ کے ہمدرد بھی ہیں، لیکن فی الحال ایسی صورت حال نہیں ہے۔ القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کی جانب سے ملا منصور کو طالبان کا امیر تسلیم کرنے سے اُن کی حیثیت مضبوط ہوئی ہے، کیونکہ افغانستان میں خصوصاً الظواہری کو اسامہ بن لادن کے جانشین کی حیثیت سے آج بھی عزت اور احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے، جو ’’جہاد‘‘ کی شمع سمجھے جاتے رہے ہیں۔ ملا عمر کی موت کی خبر سے پہلے افغان طالبان کے ساتھ جو ’’امن مذاکرات‘‘ ہو رہے تھے، یہ مذاکرات پاکستان میں امریکہ اور چین کی زیر نگرانی اور معاونت سے ہو رہے تھے، ان میں تعطل پیدا ہو گیا ہے۔ دوسری طرف اس تعطل کے بعد طالبان نے اپنی سرگرمیاں تیز تر اور دائرہ بڑھا دیا ہے۔ حال ہی میں انہوں نے ہلمند کے قلعہ موسیٰ کا انتظام سنبھال لیا ہے۔ افغان فوج نے اگرچہ سخت مقابلہ کیا، لیکن بالآخر انہیں وہ ضلع چھوڑنا پڑا ہے، جو موجودہ افغان حکومت کے لئے ایک بڑا دھچکا ہے اور اس کی کمزوری کا ثبوت بھی۔ 26اگست کو نیٹو کی زبردست بمباری اور 40/50 طالبان ہلاک ہونے کے باوجود طالبان کی پیش قدمی نہیں روکی جا سکی۔ یہ علاقہ پوست کی کاشت کا مرکز ہے۔ اب اس علاقے میں فوج ، پولیس کے ہیڈ کوارٹر طالبان کے قبضے میں ہیں اور انتظامی امور ان کی نگرانی میں جاری ہیں۔

اس علاقے میں صوبہ ہلمند کے علاقے ضلع نوارد اور ضلع باگھران بھی طالبان کے قبضے میں ہیں، اس علاقے میں2001ء میں برطانوی فوج نے ایک خون ریز جنگ کے بعد طالبان کو شکست دی تھی، لیکن 2014ء میں برطانوی فوج اور نیٹو کے اکثر فوجیوں کی واپسی کے بعد افغان فوج بمشکل طالبان کو روک پائے گی۔ برطانوی افواج نے بھی 500فوجیوں کی قربانی دے کر یہ علاقہ خالی کروایا تھا۔ موسیٰ قلعہ میں طالبان کمانڈر محمد شریف نے دعویٰ کیا ہے کہ نئے حملے پوری تیاری اور منصوبہ بندی سے کئے جائیں گے اور کابل تک محدود افغان حکومت انہیں روکنے کی سکت نہیں رکھتی۔ موسیٰ قلعہ کی زمین بہت زرخیز ہے۔

دریائے موسیٰ قلعہ، دریائے ہلمند اور کاجکی ڈیم اس کے صوبائی دارالحکومت کے آس پاس ہیں۔ یہاں معیار اور مقدار کے اعتبار سے بہترین پوست کاشت ہوتی ہے جو ہیروئن بن کر اربوں ڈالر اکٹھے کرنے کا سبب بن جاتی ہے۔ مقامی آبادی بھی ہمیشہ ان کی ہمدرد رہی ہے۔ رضیہ بلوچ نے، جو اس علاقے میں صوبائی کونسل کی رکن ہے، کہا کہ افغان حکومت نے آج تک اس علاقے میں تعمیر و ترقی، عوامی بنیادی ضروریات کی فراہمی کی طرف توجہ نہیں دی،اس لئے ہم طالبان کو اپنا نجات دہندہ سمجھتے ہیں۔اس کے علاوہ13سال تک نیٹو کے مسلسل فضائی حملوں میں ہزاروں مقامی بے گناہ باشندے بھی اس وحشیانہ بمباری کا شکار ہوئے، اس لئے بھی مغرب سے ہمدردی رکھنے والا ہر شخص اس کے نزدیک قابلِ نفرت ہے۔ عبدالحئی اخونزادہ ، جو ہلمند سے افغان پارلیمنٹ کے رکن ہیں، انہوں نے بھی ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا، لیکن افغان حکومت صوبہ ہلمند کو واپس لینے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔

*۔۔۔ بھارتی طیاروں کی سعودی عرب میں لینڈنگ، مودی کی یو اے ای سے دوستی، ایران ایٹمی معاہدہ، کنٹرول لائن پر خلاف ورزی، بے گناہ شہریوں کی شہادت۔۔۔ یہ سب کچھ حکومت، عوام اور وزارت خارجہ سے سنجیدگی اور گہری نظر سے دیکھنے کا تقاضہ کرتا ہے، لیکن اس کے برعکس پاکستان کی مسلح دلیر اور جاں باز افواج بھارت کی طرف سے بھی اور ریاست کو اپنی حکومت پر قربان کرنے والے سیاست دانوں کی طرف سے تنقید کا نشانہ بنانے کی روش جاری ہے۔ اللہ ہم پر رحم کرے اور ہم سب کو حالات کو سمجھنے اور ان کا مقابلہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

مزید : کالم