مارک سیگل کا بیان: محترمہ دلیر اور بہادر خاتون تھیں!

مارک سیگل کا بیان: محترمہ دلیر اور بہادر خاتون تھیں!
مارک سیگل کا بیان: محترمہ دلیر اور بہادر خاتون تھیں!

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

یہ اِسی لاہور کا واقع ہے،ہمارے محترم نثار عثمانی قیادت کر رہے تھے۔ ان دِنوں محترمہ بے نظیر بھٹو لاہور آتیں تو گلبرگ گلزار ہاؤس میں ٹھہرتی تھیں، روزنامہ ’’مساوات‘‘ پیپلزپارٹی کا اخبار ہے اس کے ملازمین کی تنخواہوں کا مسئلہ تھا، اِس سلسلے میں محترمہ سے بات کرنے کا فیصلہ ہوا۔ نثار عثمانی صاحب نے وقت لیا اور ہم دونوں (عثمانی صاحب اور مَیں) مغرب کے بعد گلزار ہاؤس گئے، محترمہ سے ملاقات ہوئی۔ کھانے کا وقت تھا، ہمیں بھی شامل کر لیا گیا، سادہ کھانا تھا اور ڈرائنگ روم سے ملحق ٹی وی لاؤنج کے ایک کونے میں تپائی پر کھانا لگا دیا گیا۔ روزنامہ ’’مساوات‘‘ کے حوالے سے بات ہوئی تو محترمہ نے مجبوریوں کی بات کرنا شروع کی۔ نثار عثمانی لحاظ نہیں کرتے تھے وہ اصرار کرتے رہے۔ ہم نے تجویز کیا کہ محترمہ اپنی جماعت کے دفاتر اور رہنماؤں کو اخبار خریدنے کی ہدایت کریں اور جو چھوٹے تاجر یا بڑے سرمایہ دار ہیں ان کو اشتہاروں کے لئے ہدایت دیں۔ یوں چھوٹے بڑے اشتہار مل کر اخبار کو اگر منافع بخش نہ بھی بنا سکے، تو نقصان سے بچا لیں گے۔ بہرحال ان سے کارکنوں کی بھلائی اور وعدے لے لئے گئے۔

اس کے بعد محترمہ نے اپنا دِل پسند موضوع منتخب کیا اور ہمارے ساتھ مُلک کی صورت حال اور پیپلزپارٹی کے بارے میں تبادلہ خیال شروع کر دیا۔ نثار عثمانی ننگی تلوار تھے، انہوں نے یہ فقرہ بھی کہہ دیا ’’محترمہ! جو پارٹی اپنا اخبار نہ چلا سکے وہ مُلک کیا چلائے گی؟ یہ بات ان کو بری تو لگی، لیکن انہوں نے جوابی اظہار نہیں کیا، اور پارٹی مسائل کا بھی ذکر کرنے لگیں، محترمہ کے مطابق پارٹی میں چندے کی کوشش کامیاب نہیں ہو سکی، انتخابات کے وقت بہت لوگ سامنے آ جاتے ہیں، جو بہت کچھ کرنے کے دعوے کرتے ہیں کہ ٹکٹ مل جائے، لیکن جماعت کے لئے چندہ دینے کو تیار نہیں ہوتے۔ مجبوراً جو بھی عہدیدار ہوں وہ خود بوجھ اٹھاتے یا پھر دوستوں سے مدد لیتے ہیں، اِسی دوران محترمہ نے امن و امان کی بات کی اور خدشات کا اظہار کیا اور شکوہ کیا کہ یہاں حفاظتی انتظامات بہتر نہیں ہیں، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کو بھی خطرات لاحق ہیں تاہم جیالے حفاظت کے لئے موجود ہوتے ہیں۔یہ ملاقات اور گفتگو محترمہ کے بیرون مُلک روانہ ہونے سے پہلے ہوئی تھی اور اس وقت بھی ان کو خدشات تھے۔صرف یہی نہیں، محترمہ کی اپنی کتاب کے مطابق جنرل ضیاء الحق نے جب ماں بیٹی کو اسیر رکھا تو اس وقت بھی یہ خطرہ موجود تھا کہ ان کو مروا نہ دیا جائے اور زہر خورانی کا کیس نہ بنا دیا جائے۔

یہ سب یوں یاد آیا کہ مارک سیگل کا ویڈیو بیان ہو گیا، جس میں انہوں نے محترمہ کی اس ای میل کا ذکر کیا، جو ان کو ملی اور بے نظیر بھٹو (شہید) نے اپنی سیکیورٹی کے بارے میں خدشات ظاہر کئے۔ مارک سیگل کے مطابق جنرل(ر) پرویز مشرف نے ان کو پاکستان واپس آنے سے منع کیا تھا۔ اس وقت کے ایک طاقتور حکمران جو صدر کے ساتھ آرمی چیف بھی ہو وطن واپس آنے سے منع کرنا اور مرضی کے خلاف آنے پر سلامتی یا سیکیورٹی کی ذمہ داری نہ لینا کسی کے لئے بھی ایک بہانہ ہو سکتی تھی، لیکن محترمہ ایک نڈر لیڈر تھیں، اس لئے وہ اس دھمکی یا انتباہ کو خاطر میں نہ لائیں اور پاکستان پہنچ گئیں، یہاں آتے ہی ان کو کار ساز کراچی کے قریب دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑا، اس کے باوجود وہ اندر گھس کر نہ بیٹھیں اور میدان میں رہیں اور پھر وہ دن بھی آ گیا، جو قضا نے لکھا تھا اور27دسمبر 2007ء کو شہید ہو گئیں، اس روز بھی ان کو جلسہ گاہ میں آنے سے منع کیا گیا تھا، لیکن وہ نہ مانیں اور لیاقت باغ پہنچ گئیں اور ایک تاریخی تقریر کی جو ترقی پسندانہ پروگرام کی غماز تھی، ہمیں اپنے فرائض منصبی کے باعث محترمہ کی تقریبات اور بہت سے دوروں کی کوریج بھی کرنا پڑی اور ہم نے ان کے ساتھ بہت وقت گزارا۔ انہوں نے بہت بڑے بڑے اجتماعات سے خطاب کیا، اور بھروسہ خود اپنی سیکیورٹی پر کیا تھا۔

جب2007ء میں وہ واپس آئیں تو جاں نثار جیالے تو موجود ہی تھے، لیکن بڑی تبدیلی یہ تھی کہ عبدالرحمن ملک محترمہ کے چیف سیکیورٹی ایڈوائزر یا آفیسر بن چکے تھے۔ باقی سب دیوار پر لکھے کے مانند ہے کہ یہ سیکیورٹی اور سیکیورٹی چیف کتنے موثر اور کتنے منظم تھے کہ کئی بار محترمہ ہجوم میں پھنس گئی تھیں، اب مارک سیگل کا بیان ہو گیا اور انہوں نے ای میل کی تصدیق کرنے کے علاوہ یہ بھی بتایا کہ محترمہ کو حقیقی خدشات تھے، اور پھر وہی ہوا جس کا اندیشہ وہ ظاہر کرتی تھیں، لیکن اس تمام تر صورت حال کا تقاضہ یہ تھا کہ ذمہ داری کا ثبوت دیا جائے اور ان کی حفاظت کا انتظام جماعتی سطح پر ہو، اب مارک سیگل نے بہت کچھ واضح کیا اور مزید جرح کے جواب میں بتائیں گے،لیکن عوام اور جیالوں کے ذہن میں گھسے سوال کا جواب کون دے گا؟ کہ محترمہ بے نظیر بھٹو(شہید) کے چیف سیکیورٹی آفیسر عبدالرحمن ملک کو کیوں عدالت میں نہیں بلایا جاتا اور ان سے ان کے انتظامات اور کردار کے بارے میں دریافت نہیں کیا جاتا،وہ کیسے چیف سیکیورٹی آفیسر تھے کہ موقع واردات ہی سے بھاگ گئے اور پھر آج تک وہ خودکو بری الذمہ قرار دیتے ہوئے یہ کیوں نہیں بتاتے کہ انہوں نے حفاظت کے لئے کیا انتظامات کئے تھے؟ اور کیوں یہ حادثہ پیش آیا اور وہ بھی محترم سابق صدر جنرل(ر) پرویز مشرف کی طرح یہ کیوں کہتے ہیں کہ محترمہ کو جلسہ میں جانے سے منع کیا گیا تھا۔ کیا ان کو یہ معلوم نہیں تھا کہ محترمہ دلیر اور بہادر خاتون ہیں، جو کار ساز والے خود کش حملے اور دہشت گردی کے باوجود چین سے نہ بیٹھیں، اور سیاسی سرگرمیاں جاری رکھیں ان سے کیسے یہ توقع کی جا سکتی تھی کہ وہ نہ آئیں، معاملہ عدالت میں ہے، رائے زنی سے گریز اور یہ بتا کر بات ختم کرتے ہیں، عبدالرحمن ملک اور محترمہ کی پولیٹیکل سیکرٹری بیگم ناہید خان کو تو سوالات کے جوابات دینا ہی ہوں گے۔

مزید : کالم