جنرل جنجوعہ کی کوششیں کامیابی کے قریب آ گئیں

جنرل جنجوعہ کی کوششیں کامیابی کے قریب آ گئیں

بلوچستان کی سیاست کا حقیقی آغاز اس وقت ہوا جب جنرل یحییٰ خان نے ون یونٹ ختم کیا اور صوبہ تاریخ میں پہلی بار وجود میں آ گیا 1969ء سے پہلے پاکستان کے چار صوبے تھے ان میں پنجاب سندھ صوبہ سرحد اور مشرقی پاکستان شامل تھے بلوچستان صوبہ بننے کے مرحلے سے قبل مختلف صورتوں میں موجود تھا۔ تقسیم سے قبل بلوچ ریاستوں اور برٹش بلوچستان کی صورت میں موجود تھا بعد میں بلوچ ریاستیں پاکستان میں ضم ہوگئیں تو اس کو قلات ڈویژن اور کوئٹہ ڈویژن میں تقسیم کردیا گیا۔ 1947ء سے 1969ء تک صوبہ ہی موجود نہ تھا 1970ء میں صوبہ بلوچستان بن گیا 1970ء سے خان عبدالولی خان اور خان عبدالصمد خان شہید کی سیاسی راہیں جدا ہوگئیں۔ خان شہید کا تاریخی موقف یہ تھا کہ پشتون تاریخ میں کبھی بھی بلوچ ریاستوں کے ماتحت نہ تھے ریاست قلات افغانستان کی باجگزار تھی اور پشتون حصے افغانستان کی سرزمین تھی ڈیورنڈ لائن نے تاریخی طور بہت کچھ بدل کر رکھ دیا اور 1947ء میں برصغیر ہی تقسیم ہو گیا اور عظیم مملکت پاکستان وجود میں آگئی نہ برٹش انڈیا موجود رہا نہ وہ افغانستان رہا گنڈامک معاہدہ اور ڈیورنڈ لائن معاہدہ اب تاریخ کی کتابوں میں موجود ہے۔ ان معاہدوں میں پاکستان فریق ہی نہیں تھا اور اب برٹش انڈیا بھی ماضی کی تاریخ بن کر رہ گیا ہے معاہدہ جن کے درمیان تھا۔ ان میں ایک فریق ہی غائب ہوگیا ہے اور تیسرا فریق ریاست قلات تھا وہ بھی اب موجود نہیں ہے۔

1972ء میں سردار عطاء اللہ خان مینگل وزیراعلیٰ بنے اور نو ماہ حکومت میں ٹہر سکے۔ نواب بگٹی کشمکش کا فائدہ بھٹو نے اٹھایا اور اس کے علاوہ اور بہت سی وجوہات تھیں ان کو صرف نظر کرتے ہوئے اپنے تجزیہ پر نظر مرکوز رکھنا چاہتا ہوں یہ ایک خوشگوار حقیقت تھی کہ تاریخ میں پہلی بار صوبائی خودمختاری حاصل ہوئی اور بلوچ حکمران بن گئے اور جلد ہی سازش کا شکار کردیئے گئے۔اس کے بعد نواب بگٹی وزیراعلیٰ بنے یہ بھی دلچسپ سیاسی نقشہ تھا بلوچستان نیشنل موومنٹ جو ایک سیاسی پارٹی تھی اس کا معاہدہ ایک نواب سے ہوا اس وقت تک نواب بگٹی نے کوئی پارٹی نہیں بنائی تھی ایک نواب اور سیاسی پارٹی کے اتحاد کا نام بلوچستان نیشنل الائنس رکھا گیا اور نواب وزیراعلی بن گئے سیاست کی یہ کھچڑی بھی زیادہ دیر تک نہ چل سکی اس اتحاد میں جمعیت علماء اسلام بھی شریک تھی جمعیت نے اپنی سیاست کی بنیاد قوم پرست سیاست کے خلاف رکھی اور اقتدار میں آئے اور وزارتوں کی خاطر ہمیشہ بلوچ قوم پرست وزیراعلیٰ کا دامن تھاما اور باہم شیر وشکر ہوکر حکومت سے لطف اٹھایا ہے۔اس کے بعد تیسرے قوم پرست وزیراعلیٰ سردار اختر مینگل بنے اس حکومت میں جمہوری وطن پارٹی اور جمعیت علماء اسلام شریک تھے یہ حکومت بھی اپنی مدت پوری نہ کرسکی اس حکومت میں نواب بگٹی اور اخترمینگل کے درمیان کشمکش شروع ہوگئی اور انجام حکومت کاخاتمہ ہوگیا۔

بلوچستان میں یہ تین ادوار تھے جن میں بلوچ قوم پرست وزیراعلیٰ بنے اور کوئی بھی اپنی حکومت پوری نہ کرسکا۔ یہ عجیب اتفاق ہے کہ ان تینوں قوم پرست بلوچ وزرائے اعلیٰ کا دور حکومت آپس کی کشمکش سے عبارت ہے 1972ء کا سیاسی سفر 2013ء تک چلتا رہا اور 2013ء میں بالکل ہی مختلف نکلا اور اس بار ایک سابق طالب علم لیڈر عبدالمالک بلوچ کے نام وزیراعلیٰ کا قرعہ نکلا، حالانکہ وہ اقلیت میں تھے اور پشتون قوم پرست پارٹی اس سے زیادہ اکثریت میں تھی اور مسلم لیگ ان دونوں سے زیادہ ووٹ رکھتی تھی مگر اس بار نواز شریف نے مختلف فیصلہ کیا اور خان محمود خان سے مشوروں کے بعد حکومت بلوچ اور پشتون قوم پرستوں کے حوالے کر دی یہ تاریخ کا کامیاب ترین تجربہ تھا 2013ء سے 2015ء تک ان کی حکومت جس خوش اسلوبی سے چلی اب وہ تاریخ کا ایک لحاظ سے سنہرا دور کہلایا جاسکتا ہے میری مراد اس اتفاق اور اتحاد سے ہے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اس لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ اس پورے عرصہ میں پشتونخوا کا مثالی تعاون حاصل رہا اور اس پورے عرصہ میں ن لیگ درد سر بنی رہی اور اپنے ڈھائی سال کا ترانہ گاتی رہی۔ اور بے چین رہی۔ صوبہ کی سیاسی تاریخ میں یہ بات اب ایک حقیقت بن کر ابھر گئی ہے کہ پشتون بلوچ کا سیاسی اتحاد اور حکومت میں اشتراک انتہائی مفید اور اہم ثابت ہواہے اور پشتونخوامیپ نے کوئی سیاسی محاذ آرائی نہیں کی ہے اور مثالی اتحاد کا اظہار کیا ہے اور اس کا کریڈٹ عبدالمالک اور ان کے مخلص رفقاء کو جاتا ہے کہ وہ بلوچ پشتون محاذ آرائی کو درمیان میں نہیں لائے ‘ بلوچستان کے سامنے بے شمار مسائل ہنوز تشنہ ہیں وفاق میں اپنے حقیقی حقوق سے محروم ہی چلا آرہا ہے۔ 18ویں ترمیم کے مثبت اثرات نظر نہیں آرہے ہیں صوبہ اب تک وفاق کے حوالے سے اپنے حقوق سے محروم ہی ہے۔

سردارعطاء اللہ خان مینگل، نواب بگٹی اور اختر مینگل اس لحاظ سے خوش قسمت وزیراعلی نہ تھے کہ انہیں فوج اورپنجاب کی اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل نہ تھی اس لحاظ سے عبدالمالک بلوچ خوش قسمت ہیں کہ ان دونوں کو اور ان کی پارٹی کو فوج کی مکمل حمایت حاصل ہے اور پنجاب ان کی پشت پر کھڑا نظرآرہا ہے اور ان دونوں پارٹیوں کی خوش بختی کہ انہیں لیفٹیننٹ جنرل ناصر جنجوعہ کی رفاقت حاصل ہے۔ جنرل جنجوعہ نے ان کی کھلے دل سے حمایت کی ہے اور ہر مرحلہ پر مکمل پشت پناہی کی ہے اور ان پارٹیوں کا رویہ بھی بڑا معاون اور مددگار ثابت ہوا ہے ان دونوں قوم پرست پارٹیوں نے ماضی کی تلخ تاریخ اور محاذ آرائی سے سبق سیکھا ہے اور ان کے لئے یہ سیاسی پیش رفت معاون بنی ہے اور ان کی حکومت نے آپریشن میں مکمل معاونت کی ہے اور کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی۔قوم پرستوں نے بھی کھل کر جنرل کی حمایت کی جنرل بہت زیادہ متحرک شخصیت کے مالک نظر آئے قوم پرست حکومت نے انہیں فری ہینڈ دیا ۔میری ان سے پہلی ملاقات تھی مجھے فروری 2014ء میں نصیر کاکڑ نے دعوت دی کہ جنرل صاحب صحافیوں کے ساتھ نشست رکھنا چاہتے ہیں موسم بہت خوشگوار تھا بارش ہلکی ہلکی ہورہی تھی لگا کہ موسم بہار ہے کچھ دیر بعد کور کمانڈر کے دفتر پہنچ گیا وہاں اور بھی صحافی آچکے تھے چند لمحوں بعد ہم سب ان کے دفتر پہنچے تو گیلری میں جنرل کھڑے مہمانوں کا استقبال کررہے تھے ۔

مجھے اندازہ ہی نہیں ہوا کہ یہ کور کمانڈر تھے جو گیلری میں مہمانوں کا استقبال کررہے تھے بڑی حیرت ہوئی اندازہ ہوا کہ وہ گھل مل جانے والی شخصیت کے مالک ہیں اس کے بعد ہم سب ہال میں پہنچے اور اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھ گئے تلاوت کے بعد جنرل جنجوعہ نے بریفنگ شروع کی،دیوار پر بڑی سکرین لگی ہوئی تھی طویل ترین بریفنگ تھی کوئی تھکاوٹ نہیں ہوئی ان کا انداز گفتگو بہت موثر اور دلچسپ تھا نقشوں کی مدد سے وہ اپنی بات کو آگے بڑھا رہے تھے انہوں نے بلوچستان کے تمام مسلح گروہوں کے بارے میں وضاحت کی بڑی تفصیل سے ایک ایک پہلو کو کھول دیا یہ بھی بتلایا کہ بھارت کا کیا کردار ہے اور کون کون سے ممالک اس طرف نگاہ کئے ہوئے ہیں چین اور امریکہ کے حوالے سے بھی تفصیل سے تجزیہ کیا اس کشمکش کا بھی ذکر کیا جو مستقبل میں گوادر کے حوالے سے ہونے والی تھی انہوں نے اس قبائلی شخصیت کا بھی ذکر کیا جنہیں Hope of Pakistanسمجھتے ہیں۔اب جبکہ ایک سال سے زیادہ کا عرصہ ہوگیا ان کی بریفنگ ذہن میں موجود ہے 80 فیصد معلومات کا علم پہلے سے تھا بعض معلومات فوجی نقطہ نگاہ سے میرے لئے نئی تھیں ان کو صرف نظر کرتے ہوئے بات آگے بڑھانا چاہتا ہوں انہوں نے کھل کر کہا کہ ہم عبدالمالک بلوچ کی حکومت کے مکمل پشت پناہ ہیں اور انہیں کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں جس نے بھی کہا درست کہاکہ سیاستدان فوجی وردی میں ان کی شخصیت میں کوئی تکبرنہ تھا ۔

اب یہ سیاسی جنرل اپنے رخصتی کے مرحلہ میں داخل ہوگیا ہے ان کا دور کمانڈر شپ یادگار رہے گا بلوچ اور قوم پرست حکومت میں شامل پارٹیاں اور ان کی لیڈر شپ کے تعلقات تاریخی تھے اور یادگار رہیں گے اور جناب جنجوعہ بھی خوشگوار یادیں ساتھ لے جائیں گے اور وہ بلوچ اور پشتون قوم پرستوں کے تعلقات کو بھلا نہ سکیں گے۔ ان کے تعلقات کی ایک دنیا آباد تھی بلوچستان کی تاریخ میں یہ خوش قسمت لمحہ تھا کہ لیفٹیننٹ جنرل جنجوعہ کور کمانڈر ایسٹرن کمانڈ تھے ایک خوبصورت باب اپنے اختتام پذیر لمحوں میں داخل ہوگیا ہے ڈاکٹر مالک بلوچ کی حکومت کی ڈھائی سال پورے کئے ہیں تو اس کا کریڈٹ بھی جنرل جنجوعہ ہی کو جاتا ہے اور ان کی پشت پر جنرل راحیل شریف کی مکمل حمایت تھی ان کی تائید انہیں حاصل تھی قوم پرستوں کو ان دونوں کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ انہوں نے بڑے اطمینان سے حکومت کی۔

یہ کالم بھی اس وقت لکھا جب ان کی رخصتی قریب ہے، قوم پرست انہیں بھلا نہ سکیں گے۔ ان کا کمال تھا کہ انہوں نے بلوچ اور پشتون قوم پرست لیڈروں کو اپنے حسن اخلاق اور رویہ سے اتنا قریب کردیا۔جنرل جنجوعہ کی دو کوششیں کامیابی کے قریب آگئی تھیں ایک خان قلات کی واپسی دوسری براہمدغ بگٹی کا واپس لوٹنا اب مستقبل بتلائے گا کہ ان دونوں میں سے پہلے کون اپنے وطن لوٹتا ہے۔

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...