افغانستان کا مستقبل ؟

افغانستان کا مستقبل ؟
افغانستان کا مستقبل ؟

صدر باراک اوباما نے کہا ہے کہ طاقت اور پیسے کے زور پر کسی ملک میں امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔ جب امریکی صدر نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں یہ الفاظ کہہ رہے تھے اس وقت افغانستان میں قندوز کے شہر میں طالبان سرکاری عمارات پر پرچم لہرا رہے تھے۔ اس کے بعد امریکی طیاروں نے اس شہر کو نشانہ بنایا۔ کچھ اطلاعات کے مطابق طالبان کو ان عمارات پر اپنا کنٹرول چھوڑنا پڑا۔ بے شمار افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔ تباہی اور بربادی کے چند نئے باب رقم ہوئے۔ ان خبروں کو دیکھ کر صدر بارک اوباما کو اپنے وہ الفاظ یاد آئے ہوں گے، جو انہوں نے کچھ عرصہ قبل وہائٹ ہاؤس میں کہے تھے کہ جنگ شروع کرنے کی نسبت جنگ ختم کرنا زیادہ مشکل ہے۔

امریکہ نے عراق اور افغانستان میں امن و امان قائم کرنے کے لئے تین ٹریلین ڈالر سے زائد خرچ کئے، مگر آج یہ خطے دُنیا کے انتہائی خطرناک خطوں میں شمار ہوتے ہیں۔ امریکہ نے اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لئے تین ٹریلین ڈالر ہی خرچ نہیں کئے، بلکہ ان ممالک میں ہزاروں امریکی فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے۔ صدر اوباما عراق اور افغانستان سے فوجوں کی واپسی کا نعرہ لگا کر برسراقتدار آئے تھے اور انہوں نے عراق سے فوجیں نکال لی ہیں اور افغانستان میں وہ بتدریج فوجیں کم کر رہے ہیں۔ امریکہ نے سوویت یونین کے خلاف جنگ میں 5 بلین ڈالر خرچ کئے تھے اور اس کا ایک سپاہی ہلاک یا زخمی نہیں ہوا تھا، مگر اب افغانستان میں جو خونی جنگ جاری ہے اس کا خاتمہ ہوتا ہوا نظر نہیں آتا۔ امریکی فوجیوں کی تعداد افغانستان میں ضرور کم ہوئی ہے، مگر امریکہ کے تیور بتا رہے ہیں کہ وہ کابل میں کسی ایسی حکومت کو برسراقتدار نہیں آنے دے گا جو کسی طرح بھی اس کے مفادات کے لئے خطرہ بنے۔

امریکی سوویت یونین کے خاتمے کا کریڈٹ لیتے ہیں۔ وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ امریکی پالیسیوں کی وجہ سے سوویت یونین ٹکڑے ٹکڑے ہوا اور امریکہ دنیا کی واحد سپرپاور بن کر ابھرا، مگر اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ اس جنگ میں کوئی امریکی فوجی ہلاک یا زخمی نہیں ہوا تھا کیونکہ امریکیوں نے عملی طور پر وہ جنگ نہیں لڑکی تھی محض اس پر رقم خرچ کی تھی۔ چند ارب ڈالر خرچ کر کے امریکہ، سوویت یونین کی افغانستان میں شکست کو یقینی بنانے میں کامیاب ہو گیا، مگر جب افغانوں نے سوویت فوجوں کو اپنی سرزمین سے نکال دیا تو امریکہ نے افغانستان کو بری طرح نظرانداز کر دیا۔ اسلام آباد میں ایک فوجی افسر نے ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار سے کہا کہ اس جنگ میں افغانستان بری طرح تباہ ہوا ہے۔ لوگوں کے پاس بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لئے کچھ نہیں ہے۔ امریکہ کو افغانوں کی مددکرنی چاہئے۔ اس پر امریکی عہدیدار نے طنزیہ کہا کہ امریکہ میں ڈالر درختوں پر نہیں لگتے ہیں۔

افغانستان میں جنگ جو تباہی و بربادی لائی تھی اس کے نتیجہ میں ہی طالبان پیدا ہوئے اور اس کی وجہ سے ہی عالمی سطح پر ایسے واقعات پیش آئے کہ ا مریکہ کو افغانستان میں واپس آنا پڑا۔ یوں امریکہ نے افغانستان میں جس ایجنڈے کو نامکمل چھوڑا تھا اس نے عالمی امن کے لئے سنگین خطرت پیدا کئے۔ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں نے تسلط حاصل کر لیا تھا ان میں سے ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی بھی تھی، جو افغان نہیں تھے۔ ان میں ازبک بھی تھے، جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ جہاں افغان کا غصہ ختم ہوتا ہے وہاں ازبک کا رحم شروع ہوتا ہے۔

ایک افغان ضرب المثل ہے کہ شیطان کو جب جنت سے نکالا گیا تو وہ کابل میں گرا تھا۔ شیطان کابل میں اگر گرا بھی تھا تو اس نے صدیوں اس خطے میں وہ تباہی نہیں پھیلائی جس کا مشاہدہ گزشتہ چند عشروں سے ہو رہا ہے۔ روسی جب یہاں آئے تو انہیں اپنی کامیابی ہر چیز تباہ کرنے میں نظر آئی۔ کے جی بی کے ایک افسر کے مطابق ’’افغانستان میں ہمارا مسئلہ یہ تھا کہ ہم اس علاقے کو نہیں سمجھتے تھے۔ ہم نے ہر چیز کو تباہ کرنے کی کوشش کی۔ دیواریں‘ گاؤں سب کچھ۔‘‘ہرات میں ایک جہاد میوزیم ہے، جس میں سوویت افغان جنگ میں اس علاقے کے 45 ہزار افراد کے متعلق بتایا گیا ہے اور ان میں سے اکیس سو کے نام بھی لکھے ہوئے ہیں۔ امریکیوں نے بھی افغانستان پر کارپٹ بمباری کی۔ کتنے افغان ہلاک ہوئے؟ اس کے متعلق کسی کے پاس درست اعداد و شمار نہیں ہیں۔ جب بھی امریکیوں کو افغانوں پر غصہ آتا تھا وہ بھی سوویت حکمت عملی اختیار کرتے تھے۔ کرسٹینا لیمب کے مطابق افغانستان میں جنرل پیٹریاس نے جولائی اور نومبر 2010ء میں 3500مرتبہ بمباری کرائی تھی۔ افغانستان کا مستقبل کیا ہو گا؟ کیا طالبان دوبارہ اپنا اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے؟ یا یہ جنگ مسلسل جاری رہے گی۔ افغان جوان ہلاک ہوتے رہیں گے۔ افغان عورتیں بیوہ ہوتی رہیں گی۔ افغان بچے یتیم ہوتے رہیں گے۔

افغانستان میں سب کچھ ہونے کے امکانات ہیں، مگر پائیدار امن دور دور تک نظر نہیں آ رہا۔ افغانستان کو عالمی سطح پر میڈیا کے ذریعے ایک جنگی مسئلہ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ جہاں پر ہر وقت‘ ہر شخص بندوق اٹھائے کسی نہ کسی کو ہلاک کرنے کی کوشش کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ مگر ایسا نہیں ہے۔ افغان مائیں بھی اپنے بچوں کی خوشیاں دیکھنا چاہتی ہیں۔ افغان بچے سکول جانا چاہتے ہیں، مگر بظاہر امن اس خطے سے روٹھ چکا ہے۔ جنگ کے ذریعے امن قائم کرنے کی تمام کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔ امریکہ کی مدد سے کابل میں جو حکومت قائم ہے‘ اس کی کرپشن کی داستانیں اکثر عالمی میڈیا میں گردش کرتی رہتی ہیں۔جو رقم افغانستان میں ہسپتالوں‘ سڑکوں اور سکولوں کی تعمیر کے نام پرآتی ہے‘ اس کا بڑا حصہ کرپٹ سیاستدان اور افسر دبئی پہنچا رہے ہیں اور یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ دبئی میں بہت سے افغانوں نے بڑے بڑے گھر خرید لئے ہیں۔ شاید یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی پوزیشن کا فائدہ اٹھا کر افغانستان کے مستقبل کو بہتر بنانے کی بجائے اپنے بچوں کا مستقبل شاندار بنانے کے لئے کوشاں ہیں۔

گزشتہ تین عشروں سے افغانستان حالت جنگ میں ہے۔ افغان کبھی روسیوں سے لڑتے ہیں‘ کبھی آپس میں لڑتے ہیں۔ کبھی امریکیوں سے لڑتے ہیں۔ افغان آبادی کے بڑے حصے پر الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ امن کے ساتھ رہنا بھول چکے ہیں۔ بچے کھلونوں کی بجائے آتشیں اسلحہ سے کھیلتے ہیں۔ اپنے مخالف کے قتل سے خوشی حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ افغانستان میں جو آگ لگی ہے اس کو بہرحال ختم کرنا ہو گا۔ افغانوں سے بہت غلطیاں ہوئی ہیں، مگر اب امریکہ اور مغرب میں یہ احساس بھی پیدا ہو رہا ہے کہ ان سے بھی بڑی غلطیاں ہوئی ہیں۔ 11 ستمبر کے سانحے کے بعد جس طرح امریکہ نے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے کوششیں کیں اس سے دہشت گردی مزید پھیلی۔ جب کسی عام شخص کے گھر پر بم گرتا ہے‘ خواہ وہ غلطی سے ہی گرتا ہے تو اس گھر سے دہشت گرد پیدا ہوتے ہیں، جو خود کش بمبار بننے کے لئے بھی تیار ہوتے ہیں۔ دُنیا کو دہشت گردی کے سلسلے کو ازسرنو دیکھنا ہے۔ امریکہ، صدام حسین کو ایک بڑی برائی قرار دیتا تھا۔ مگر صدام کے بعد اس خطے میں جو نئی دہشت گردی کی لہر آئی ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ داعش ایک نئی تنظیم کے طور پر سامنے آئی ہے۔ اسے ایک ایسی تنظیم قرار دیا جا رہا ہے، جس کے پاس بے پناہ مالی وسائل ہیں۔ اس کے پاس تیل کی کثیر دولت ہے۔ گزشتہ سال کے اواخر تک اس کا عراق اور شام کے جن علاقوں پر کنٹرول تھا اس کا رقبہ برطانیہ کے برابر تھا اور اس کے 20ہزار سے زائد جنگجو بیرونی ممالک سے آئے تھے۔ ان میں برطانیہ سے آنے والوں کی تعداد سات سے زائد تھی۔ داعش سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی دہشت بھی پھیلا رہی ہے۔ دنیا بتدریج اتنی خوفناک جگہ بنتی جا رہی ہے، جس میں 11 ستمبر کے سانحے کے نقصانات انتہائی معمولی نظر آ رہے ہیں۔ مگر اس وقت یہ ایک بڑا سوال پیدا ہو رہا ہے کہ کیا عالمی رہنماؤں کے پاس واقعی وہ بصیرت اور جرات موجود ہے جس سے دہشت گردی کے عفریت پر قابو پایا جا سکے۔ بے پناہ اسلحہ اور بمباری نے اس عفریت کو کمزور یا تباہ نہیں کیا، بلکہ اس کی قوت اور اہمیت میں اضافہ ہوا ہے اور یہ حقیقت واضح ہو چکی ہے افغانستان کے مسئلے کا حل افغان تاریخ اور روایات کو سمجھے بغیر ممکن نہیں ہے۔

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...