66ملین سال قبل ڈائنوسارز کا خاتمہ کئی قدرتی آفات بیک وقت آنے کی وجہ سے ہوا

66ملین سال قبل ڈائنوسارز کا خاتمہ کئی قدرتی آفات بیک وقت آنے کی وجہ سے ہوا
 66ملین سال قبل ڈائنوسارز کا خاتمہ کئی قدرتی آفات بیک وقت آنے کی وجہ سے ہوا

  

واشنگٹن (ویب ڈیسک)66ملین سال قبل ڈائنوسار سمیت بہت سے جانور کرہ ارض سے مٹ گئے تھے لیکن اس کی وجہ صرف بھاری شہاب ثاقب نہیں تھے (جیسا کہ پہلے مفروضہ قائم کیا گیا تھا) بلکہ ان کے ساتھ ساتھ یکلخت آجانے والی بہت سی قدرتی آفات تھیں۔ ایک بڑے شہاب ثاقب کے گرنے کے بعد بہت بڑے پیمانے پر آتش فشاں ابل پڑے تھے۔سائنسدانوں نے کہا ہے کہ انہوں نے ان سانھات کے وقت کا تعین درستگی کے ساتھ کر لیا ہے جب خلا سے 6میل لمبی ایک چٹان میکسیکو کے یوکاتان علاقے میں گری میں اور پھر اس کے ساتھ ہی نصف کرہ دور بھارت میں آتش فشاں پھٹنا شروع ہوگئے۔ ان دونوں واقعات کے نتیجے میں زمین نہ صرف گرد، راکھ اور کاربن ڈائی آکسائیڈ اور سلفر آکسائیڈ جیسے مضر دھوئیں نے موسم بدل دیا جس کے نتیجے میں زمین سے75فیصد انواع کا خاتمہ ہوگیا۔ محققین کا کہنا ہے کہ شہاب ثاقب کے ذمین سے ٹکرانےکا واقعہ 66.04ملین سال پہلے پیش آیا لیکن اس تخمینے میں 30ہزار سال کی کمی بیشی ہوسکتی ہے۔سائنسدانوں کے مطابق اس واقعے سے پہلے ہی دکن کے علاقے میں موجود آتش فشاں ابلنے کے قریب تھے لیکن اس شہاب ثاقب کے گرنے کا طاقتور اثر ہوا اوریہ پھٹ پڑے اور اس طرح یہ دونوں بڑے سانحات ایک ہی وقت میں ہوئے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس