مطالبات نہ ماننے پر پالپا نے مذاکرات سے انکارکردیا

مطالبات نہ ماننے پر پالپا نے مذاکرات سے انکارکردیا
مطالبات نہ ماننے پر پالپا نے مذاکرات سے انکارکردیا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)پی آئی اے اور پالپا کے درمیان تنازعہ شدت اختیار کرگیا ۔ پالپانے پی آئی اے سے مذاکرات کرنے سے انکار کردیا ۔ پی آئی اے اور پالپا کے درمیان مذاکرات وزیراعظم کے مشیرِ ہوابازی شجاعت عظیم کی سربراہی میں آج اسلام آباد میں ہونا تھے۔

نجی ٹی وی اے آروائی نیوز کے مطابق پی آئی اے حکام نے پالپا کے مطالبات قبول کرنے سے انکار کردیا ہے ۔ پی آئی حکام کا کہنا ہے کہ پالپا کے مطالبات ماننے سے قومی ایئر لائن کو3 ارب 30 کروڑروپے سالانہ کا اضافی بوجھ اٹھانا پڑے گا۔ پی آئی اے اور پالپا کے درمیان تنازعہ سے 20 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان ہوچکا ہے جبکہ 55 سے زائد پروازیں منسوخ ہوچکی ہیں جس کی وجہ سے مجموعی طورپر ساڑھے 5 ہزار سے زائد مسافر متاثر ہوئے۔

ترجمان پی آئی اے کے مطابق پائلٹس کے لائسنس ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر سول ایو ایشن اتھارٹی نے منسوخ کیے جس سے پی آئے اے کا کوئی تعلق نہیں۔ملک کی خاطر پالپا سے غیر ذمہ دارانہ رویہ ختم کرنے کی درخواست کی۔پالپا کے دباؤکی وجہ سے 2 پائلٹس نے جہاز اڑانے سے معذرت کرلی۔پی آئی اے کی پہلی ترجیح حج آپریشن کو بخیر و خوبی مکمل کرنا ہے۔

پالپا کے صدرکیپٹن عامر ہاشمی نے موقف اپنایا ہے کہ کوشش ہے کہ حج آپریشن متاثرنہ ہو۔فلائنگ کرنے کی حدہوتی ہے لیکن پائلٹس کا خیال نہیں رکھا جارہا۔ایک آدمی 4 کام کررہاہے جس کی وجہ سے پائلٹس پی آئی اے چھوڑ کر دوسری ایئرلائنزمیں جارہے ہیں۔چیئرمین پی آئی اے کو ایوی ایشن کا کوئی تجربہ نہیں،شجاعت عظیم نے ذاتی کاروبار کیلئے پی آئی اے کو سائڈ لائن کررکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ پی آئی اے خود مسئلہ حل کرنا نہیں چاہتی،ہرروز پی آئی اے کا نیا نمائندہ آتا ہے۔

سول ایوی ایشن ترجمان شیر علی خان کا کہنا ہے کہ پالپا سے تین روز سے مذاکرات جاری ہیں امید ہے کہ آج معاملات طے پاجائیں گے،قوم کو آج بریک تھرودیں گے۔

مزید : کراچی /اہم خبریں