امریکی صدر باراک اوباما کی فلسطینی ریاست کے خلاف ”ویٹو پاور“ استعمال نہ کرنے کی یقین دہانی

امریکی صدر باراک اوباما کی فلسطینی ریاست کے خلاف ”ویٹو پاور“ استعمال نہ ...
امریکی صدر باراک اوباما کی فلسطینی ریاست کے خلاف ”ویٹو پاور“ استعمال نہ کرنے کی یقین دہانی

  

یروشلم (اے این این) اسرائیلی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر باراک اوباما نے سلامتی کونسل میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے مستقبل میں ہونے والی رائے شماری میں ”ویٹو پاور“ کا حق استعمال نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ عبرانی اخبار ”معاریف“ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی صدر نے یہ فیصلہ اس وقت کیا تھا جب رواں سال مارچ میں انہیں علم میں لائے بغیر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرایاگیا تھا۔

نیتن یاہو کے کانگریس سے خطاب پر صدر اوباما سخت برہم تھے اور انہوں نے یہ طے کیا تھا کہ آئندہ سلامتی کونسل میں فلسطینی ریاست کی حمایت کو اسرائیل کے حق میں ”ویٹو“ نہیں کیا جائے گا۔خیال رہے کہ رواں سال جنوری میں عالمی سلامتی کونسل میں فلسطینی ریاست کی حمایت کے حوالے سے ایک قرارداد پیش کی گئی تھی تاہم امریکا کی جانب سے ویٹو کیے جانے کے باعث فلسطینی ریاست کو تسلیم نہیں کیا جاسکا تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حال ہی میں ایوان نمائند گان کے اجلاس کے دوران ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما ہاری ریڈ نے سلامتی کونسل میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے خلاف ویٹو پاور کے استعمال کی تجویز پیش کی تھی جسے صدر اوباما نے مسترد کردیا تھا۔ اخبار نے لکھا ہے کہ ہاری ریڈ نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا معاملہ ویٹو کیے جانے کی تجویز دو بار پیش کی اور صدر اوباما نے دونوں بار اسے مسترد کردیا تھا جس کے بعد اسرائیل نواز رکن کانگریس ہاری ریڈ اجلاس سے واک آو¿ٹ کرگئے تھے۔ویب سائٹ ”فولیٹیکو“ کی رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ صدر باراک اوباما کو غصہ اس بات پرہے کہ انہیں بتائے بغیر کانگریس نے اسرائیلی وزیراعظم کو اجلاس سے خطاب کی دعوت کیوں دی۔ خاص طورپر نیتن یاہو نے اپنے اجلاس میں ایران کے متتازع جوہری پروگرام کے حوالے سے ہونے والی بات چیت اور ممکنہ معاہدے کی سختی سے مخالفت کی تھی،جس کے نتیجے میں صدر اوباما کو کانگریس میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

مزید : بین الاقوامی