اسرائیل کو مسجد اقصی کے خلاف جرائم کی بھاری قیمت چکانا ہو گی: رجب طیب اردگان

اسرائیل کو مسجد اقصی کے خلاف جرائم کی بھاری قیمت چکانا ہو گی: رجب طیب اردگان
اسرائیل کو مسجد اقصی کے خلاف جرائم کی بھاری قیمت چکانا ہو گی: رجب طیب اردگان

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

انقرہ (اے این این) ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ مسجد اقصیٰ کے خلاف اسرائیلی فوج، پولیس اور یہودی شرپسندوں کے جرائم ناقابل معافی ہیں، صہیونی ریاست کو ان جرائم کی بھاری قیمت چکانا ہوگی۔ انہوں نے غزہ کی پٹی پرعائد معاشی پابندیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔

ایک انٹرویو میں ترک صدرنے کہا کہ اسرائیل کو یہ مان لینا چاہیے کہ مسجد اقصیٰ کے خلاف اس کی ظالمانہ کارروائیاں دیگر جرائم میں ایک نیا اضافہ ہے۔ اسرائیل آگ سے کھیل رہا ہے اور جو کچھ مسجد اقصیٰ کے خلاف کیا جا رہا ہے وہ ناقابل معافی ہے اور اسرائیل کو اس کی بھاری قیمت چکانا ہوگی۔ مسجد اقصی کا معاملہ صرف تنہا فلسطینیوں کا نہیں بلکہ قبلہ اول کا دفاع پورے عالم اسلام کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔رجب طیب اردوان نے کہا کہ اسرائیل ایک جھوٹا ملک ہے۔ ہم نے اسرائیل کے بارے میں آج تک جو کچھ سیکھا وہ یہی کہ یہ ایک مکار ریاست ہے۔ مسجد اقصیٰ کے خلاف اس کے اقدامات جرائم میں شمار ہوتے ہیں جن پرخاموش رہنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

خیال رہے کہ پچھلے چند ہفتوں کے دوران مسجد اقصیٰ اور بیت المقدس میں اسرائیلی فوج کی پرتشدد کارروائیوں میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔ اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے جہاں ایک طرف فلسطینیوں کو مسجد اقصی میں داخل ہونے سے روکا گیا وہیں یہودی آباد کاروں کو قبلہ اول میں داخل ہونے اور مقدس مقام کی بے حرمتی کی کھلی چھٹی دی گئی۔ترک صدر نے غزہ کی پٹی کے مسلسل محاصرے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس حوالے سے عرب لیگ کے کردار پربھی کڑی نکتہ چینی کی۔ انہوں نے کہا کہ افسوس تو یہ ہے کہ غزہ کی ناکہ بندی کو مزید سخت کرنے میں مصرنے اسرائیل کا ساتھ دیا ہے۔ اسی لیے ہم کہتے ہیں کہ مصر میں کوئی منصفانہ اور عادلانہ نظام حکومت نہیں۔ غزہ کے لاکھوں مسلمان بھائیوں کوتنہا چھوڑنے کا کیا جواز ہے؟۔

ترک صدر نے شام میں روسی فوج کے فضائی حملوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ حملے دہشت گرد گروپ دولت اسلامی ”داعش“ کے خلاف نہیں بلکہ اعتدال پسند اپوزیشن قوتوں کے خلاف ہو رہے ہیں۔ انہوں نے شام میں روسی فوج کی کارروائی پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شام اور روس کی سرحدیں بھی نہیں ملتیں۔ اس کے باجود ماسکو کو شام میں کارروائی کی ضرورت کیوں پڑ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شام میں صدر بشارالاسد کی رخصتی تک امن قائم نہیں ہوسکتا۔

مزید : بین الاقوامی