جسٹس (ر) جاوید اقبال کی نماز جنازہ میں اہم شخصیات کی شرکت ،رسم قل 4اکتوبر کواداکی جائے گی

جسٹس (ر) جاوید اقبال کی نماز جنازہ میں اہم شخصیات کی شرکت ،رسم قل 4اکتوبر ...
جسٹس (ر) جاوید اقبال کی نماز جنازہ میں اہم شخصیات کی شرکت ،رسم قل 4اکتوبر کواداکی جائے گی

لاہور(نامہ نگار)حکیم الامت مصور پاکستان حضرت علامہ محمد اقبال کے صاحبزادے ، سپریم کورٹ پاکستان کے سابق سینئر جج ڈاکٹر جاوید اقبال انتقال کرگئے ۔مرحوم کو بیگم پورہ میں حضرت ایشاں کے مزار کے تاریخی قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا ۔ڈاکٹر جاوید اقبال کی نماز جنازہ میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سمیت اعلیٰ عدلیہ کے ججوں ،سینئر صحافیوں ،سماجی وعلمی شخصیات اور مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔

مرحوم کی نماز جنازہ ڈاکٹر نعیم نظامی نے پڑھائی ۔بعدازاں سپریم کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے ان کی قبر پر پھولوں کی چادریں چٹرھائی گئیں ۔مرحو م کی رسم قل 4اکتوبر کو شام 4بجے ان کی رہائش گاہ61 گلبرگ مین بلیوارڈ کے قریبی پارک میں ادا کی جائے گی ۔سابق سینئر جسٹس ڈاکٹر جاوید اقبال کی عمر 91برس تھی ۔وہ گزشتہ کچھ عرصے سے علیل اور شوکت خانم ہسپتال میں زیرعلاج تھے جہاں وہ ہفتہ کی صبح حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کرگئے۔جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال پانچ اکتوبر 1924 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے،آپ نے ابتدائی تعلیم لاہور سے حاصل کی اور 1944 میں گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے آنرز کیا۔جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے ایم اے انگریزی بھی کیا اور 1948 میں ایم اے فلاسفی میں نمایاں کامیابی پر طلائی تمغہ حاصل کیا ،1954ءمیں کیمبرج یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی اور 1956ءمیں بارایٹ لاءکی ڈگری حاصل کی ۔

جسٹس جاوید اقبال 1965ءمیں ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن کے نائب صدر منتخب ہوئے جس کے بعد وہ 1971 میں لاہور ہائیکورٹ کے جج بنے اور 8 مارچ1982سے 5 اکتوبر 1986 تک لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے عہدہ پر فائز رہے، جس کے بعد انہیں سپریم کورٹ کا جج مقرر کر دیا گیا اور بعد ازاں وہ عدالت عظمیٰ کے سینئر جج بنے۔جسٹس جاوید اقبال مسلم لیگ (ن) کی طرف سے سینیٹ کے رکن بھی رہے۔شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے فرزند جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال انگریزی اور اردو کی متعدد کتابوں کے مصنف بھی تھے۔ نظریہ پاکستان، قائداعظم کا ورثہ، افکار اقبال، اسلام اور پاکستان کی شناخت، اسلام میں ریاست کا تصور، اپنا گریبان چاک ان کی شہرہ آفاق تصانیف شمار کی جاتی ہیں۔ڈاکٹر جاوید اقبال ریٹائرمنٹ کے بعد ایک دانشور کی حیثیت سے سرگرم عمل رہے ، ملک اور بیرون ملک مختلف موضوعات پر انہوں نے متعدد لیکچر بھی دیئے۔ آپ کی خدمات کے اعتراف میں آپ کو ہلال امتیاز سے بھی نوازا گیا۔

مرحوم کی نماز جنازہ میں چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس انور ظہیر جمالی ، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس منظور احمد ملک ،سابق چیف جسٹس پاکستان تصدق حسین جیلانی، مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار، مسٹر جسٹس آصف سعید کھوسہ، مسٹر جسٹس اعجاز احمد چودھری ،مسٹر جسٹس امیر ہانی مسلم ، مسٹر جسٹس اعجاز الاحسن ،مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ، مسٹر جسٹس یاور علی ، مسٹر جسٹس شاہد وحید، مسٹر جسٹس عاطر محمود، مسٹر جسٹس محمود مقبول باوجوہ ،روزنامہ پاکستان کے چیف ایڈیٹر مجیب الرحمن شامی ، سینئر صحافی عارف نظامی ،اجمل نیازی اٹارنی جنرل پاکستان سلمان بٹ ،حامد خان ، سابق صدر ہائی کورٹ بار شفقت محمود چوہان ، سابق سینیٹر صفدر عباسی ،معروف سماجی شخصیت رانا نذر الرحمن ،خواجہ احمد احسان ، زعیم قادری ، سابق گورنر چودھری سرور، پی ٹی آئی کے شفقت محمود، پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں محمود الرشید،علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے رجسٹرار نعیم قریشی ، پروفیسر شاہد اقبال کامران ، ڈائریکٹر اوورسیز پروفیسر ماجد رشید، ریجنل ڈائریکٹر ز احسن شکور اور رسول بخش بہرام سمیت وکلاءسیاستدانوں ،سماجی شخصیات ،سرکاری افسروں اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ بڑی تعداد میں شریک ہوئے ۔

مزید : لاہور

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...