گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔قسط نمبر 39

گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ ...
گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔قسط نمبر 39

  


جب میں وزیر مقرر ہوا تو مجھے لوکل سیف گورنمنٹ کا محکمہ دیا گیا۔ جس میں انڈین سول سروس کے مسٹر بینر لے سرکاری سیکرٹری تھے۔ ایک معاملے میں وہ اپنے خیال پر سختی سے جمے ہوئے تھے۔ میری رائے ان سے مختلف تھی ۔ سرمیلکم نے میرا فیصلہ منظور کیا اور جب مسٹر بینر لے نے احکام جاری کیے تو اپنے مسودہ میں میرے ہی خیال کی صراحت انتہائی قابل تعریف پیرائے میں کی۔ برطانوی عہدے کے سرکاری ملازموں میں نظم و ضبط کو رہنما اصول کا درجہ حاصل تھا۔ اور اس چیز کا میرے دل میں پہلے ہی بڑا احترام تھا لیکن اس واقعہ سے یہ احترام اور بھی بڑھ گیا اور ذہن پر ایک ایسا نقش مرتسم ہو گیا جو ہمیشہ باقی رہا۔

ایک دن کا ذکر ہے میں کراچی کے ہوائی اڈہ کے ویٹنگ روم میں بیٹھا کسی معزز مہمان کی آمد کا انتظار کر رہا تھا۔ اسی وقت ایک جاپانی سفارتی افسر رخصت ہو رہے تھے اور ویٹنگ روم کے ایک گوشہ میں کھڑے تھے۔ جب جاپانی سفارتی عملے کے دوسرے ارکان وہاںآئے تو وہ صف بستہ کھڑے ہو گئے اور انہوں نے اس افسر کے سامنے متعدد بار تعظیم سے سرخم کیا۔ افسر خود بھی جواب میں اسی طرح اپنا سرخم کرتا تھا ۔ ایک دوست میرے پہلو میں کھڑے تھے۔ میں نے ان سے کہا’’ نظم و ضبط کا یہ احساس آپ نے ملا حظہ کیاہے وہ چیز جس نے انہیں ایک عظیم قوم بنا دیا ہے یہ ان کی روایات ہیں اور یہ عملہ سر نیہوڑا ئے کھڑا ہے تو ان میں سے کسی ایک کے دل میں بھی کمتری کا احساس نہیں۔ یہ ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں اور اس پر فخر کرتے ہیں۔ ‘‘

گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔قسط نمبر 38  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

بدقسمتی سے بعض لوگوں میں کمتری کا احساس اس قدر شدید ہوتا ہے کہ وہ ایک دوسرے کی عزت کرنے سے معذور ہوتے ہیں، جو شخص اوپر ہے اور بااختیار ہے۔ اس کی کماحقہ عزت نہیں کی جاتی۔ اسی طرح بااختیار افراد ان کی عزت نہیں کرسکتے جو ان کی خدمت پر مامور ہوتے ہیں۔ عزت اسی کی ہوتی ہے جو دوسروں کی عزت کرتا ہے۔ یہ ایک ایسا سبق ہے جو ہمارے عوام کو ابھی سیکھنا ہے۔

ایک دن دیوان چمن لال، جو ہندوستان کی مرکزی اسمبلی کے رکن تھے، تقریر کررہے تھے اور سر میلکم ہیلی جو وزیر داخلہ تھے، سرکاری بنچوں پر بیٹھے بحث سن رہے تھے۔ اتنے میں ایک مکھی سرہیلی کے گنجے سر پر آکر بیٹھی تو انہوں نے اس کو اُڑانے کے لئے سر کو خفیف ساجھٹکا دیا۔ دیوان چمن لال کو یہ گمان گزرا کہ ہیلی ان کی تقریر کے متعلق اظہار ناپسندیدگی کررہے ہیں چانچہ انہوں نے زبردست احتجاج کیا۔ سرمیلکم نے نہایت نرمی اور متانت سے ایوان کے سپیکر کو خطاب کرتے ہوئے کہا ’’جناب عالی! میں تو صرف مکھی اُڑارہا تھا۔‘‘

لارڈہیلی کی خدمات اور صفات پر دفتر کے دفتر قلمبند کیے جا سکتے ہیں ۔ وہ پہلے گورنر تھے جن کے ساتھ مجھے کام کرنے کا موقع ملا اور میں نے ان سے نیز سر فضل حسین سے بہت کچھ سیکھا ۔ میں ہر دو صاحبان سے اکثر مشورے کرتا تھا۔ اگر میں کوئی بات نہیں جانتا تھا تو اس کے متعلق پوچھ لینے میں ہر گز کسی طرح کی جھجک میں نے محسوس نہیں کی۔ کوئی شخص ماں کے پیٹ سے عالم فاضل بن کر نہیں آتا اور جو لوگ پوچھتے ہوئے شرماتے ہیں وہ کبھی کچھ نہیں سیکھتے۔

میں اس بات سے ڈرتا تھا کہ چونکہ نوجوان ہوں اور نیاہوں۔ اس لیے گورنر میرے نظم و نسق کے دائرے میں بھی اپنی ہی من مانی کریں گے۔ لیکن میں نے اپنے محکمہ کے معاملات میں جب مشورہ دیا۔ انہوں نے ایک بار بھی کسی مشورہ کو رد نہیں کیا۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں خطاو نسیان سے مبرا ہونے کا دعویٰ کر رہا ہوں۔مطلب یہ ہے کہ وہ ایک آئینی گورنر تھے اور اپنے وزیر مملکت کی سرکاریہ ہدایات کا پورا احترام کرتے تھے کیونکہ جو محکمے منتخب وزراء کے سپرد ہو چکے ہیں۔ ان میں وزراء کے مشوروں کی منظوری گورنروں پر لازم آتی ہے۔ وزراء کو یہ موقع دیا جاتا تھا کہ وہ امن کے ساتھ وقت گزاریں اور سیکھیں ۔ وہ نو منتخب اسمبلی کے استحکام میں مدد دیتے تھے اور اس کے ارکان کی حوصلہ افزائی کرتے تھے ۔ کیونکہ اسمبلی کامیابی ان کی اپنی کامیابی تھی اور لندن کی پارلیمنٹ کی کامیابی تھی۔ جس نے ایک ایسے ایشیائی ملک میں جمہوریت کے تجربہ کاآغاز کیا تھا۔ جس کی ہزاروں برس پرانی تاریخ میں منتخب شدہ پارلیمانی اداروں کا کوئی وجود نہ تھا۔

سر میلکم ہیلی نے ایک بار مجھے بتایا کہ جب کوئی ملاقاتی میرے پاس آتا ہے تو میں اسے پوری بات شرح و بسط کے ساتھ بیان کرنے کا موقع دیتا ہوں اور وہ شخص مطمئن واپس جاتا ہے۔ ان کی گفتگو کا طریقہ بڑا حکمت آمیز تھا۔ کبھی یہ نہیں کہتے تھے کہ یہ کر و یا وہ کرو۔ میں نے اپنے تجربہ سے یہ سیکھا کہ اگر ایک سرکاری ملازم اپنے ملاقاتیوں کو دل کی بھڑاس نکالنے کا موقع دیتا ہے تو پھر یہ اس کی مرضی ہے کہ وہ ان کے لیے کچھ کرے۔ ورنہ وہ اس کے بغیر بھی مطمئن اور خوش رہیں گے ۔گورنر صوبہ کی ملازمتوں میں اپنے وزیر کے احترام اور وقار کا بول بالا رکھتا تھا اور ان کے بارے میں کوئی فقرہ ہر گز چست نہیں کرتا تھا۔ حکومت کے سربراہ کو اپنے رفقائے کار کے خلاف جب تک کہ وہ اس کی خدمات میں شریک ہیں، ہر گز کوئی بات نہیں کرنی چاہیے۔ بعض ملاقاتی نہایت آزردہ ہوتے ہیں اور خاصا وقت ضائع کرتے ہیں ۔ لیکن ایک سرکاری ملازم کو اس بات کا معاوضہ ملتا ہے کہ وہ لوگوں کی بات سنے۔ لہٰذا عوام کو مطمئن رکھنا اس کا فرض ہے۔(جاری ہے )

گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔قسط نمبر 40 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : فادرآف گوادر


loading...