پاکستان کب تک افغان مسئلہ کا شکار رہے گا؟

پاکستان کب تک افغان مسئلہ کا شکار رہے گا؟
پاکستان کب تک افغان مسئلہ کا شکار رہے گا؟

  

یہ وقت بھی آنا تھا کہ پاکستان کو افغانستان کے سامنے جواب دہ ہونا پڑے گا۔۔۔یہ وقت کیونکر آیا،اس میں کوئی بات چھپی نہیں ہے۔پاکستان کے آرمی چیف جنرل باجوہ اور آئی ایس آئی کے چیف افغانستان کا دورہ کرکے آ چکے ہیں انہین وہاں کس صورتحال کا سامنا کرنا پڑا یہ الگ بحث نہیں بلکہ اس کا تعلق اب پاکستان کی مجموعی خارجہ پالیسی سے جڑ چکا ہے۔ وزیر خارجہ خواجہ آ صف کے بیانات نے فوج کو اچھی خاصی خفت کاباعث بنایا ہے۔ان حالات میں دیکھا جائے توپاکستان آرمی اور پاکستان کی سویلین حکومتیں ساتھ کھڑی نظر نہیں آتیں۔ پاکستان کی سرحد پر مسلسل ہونے والے واقعات اور پاکستان کے اندر دراندازی نے پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرات پیدا کررکھے ہیں۔پاکستانی افواج ایک طرف افغان سرحد پر مکمل طور پر مصروف ہیں تو دوسری طرف انڈیا بھی سرحد پر دباؤ قائم رکھے ہوئے ہے ایسے میں پاکستان نے نہ صرف اقتصادی محاذ پر بلکہ عالمی سیاسیات میں بھی بہت نقصان برداشت کر رہا ہے۔ 

اس ساری صورتحال میں سب سے خطرناک حقیقت یہ ہے کہ تمام امریکی اور انڈین امداد کے باوجود افغانستان پر چالیسفیصد کنٹرول مختلف گروپس کا ہے ۔اس ناکامی کا سبب بھی پاکستان کو قرار دیا جاتا ہے جس کا الزام امریکی ، انڈین اور یورپی میڈیا پاکستان پر لگاتے آئے ہیں۔ان کے مطابق پاکستان افغانستان میں اپنی مرضی کی حکومت چاہتا ہے ۔اسی لیے اس نے کچھ گروپس کو پناہ دے رکھی ہے ۔پاکستان نے اس مسئلہ کی خاطر بہت نقصان اٹھایا ہے اور ابھی بھی پاکستان کو اس صورتحال میں ہر طرف سے الزامات کا سامنا رہتا ہے ۔اب اگر پاکستان کے باہر سے الزام لگے تو پاکستان کے لیے صورتحال مختلف ہوتی ہے لیکن خود پاکستان کے اندر سے اعلٰی عہدوں پر فائز لوگ متنازع بیانات دیں تو افواج پر مزید دباؤ بڑھتا ہے ۔یہی دشمن چاہتا بھی ہے۔

پاکستان کو دہشت گردی کا شدید خطرہ لاحق رہتا ہے پاکستان کی سکیورٹی فورس ہر وقت اسی صورتحال میں مصروف نظر آتی ہیں۔ اب افغانستان میں داعش بھی اپنے قدم جما رہی ہے اور دیگر گروپس پہلے سے ہی متحرک ہیں ۔ایسے میں پاکستان کی سلامتی کے لیے نئے چیلنجز پیدا ہو چکے ہیں۔پاکستان بتیس لاکھ افغان مہاجرین کا بوجھ برداشت کرتا آیا ہے جن کی واپسی کی تاریخ اس سال کے اختتام پر ہے جو ممکن ہوتی ممکن نظر نہیں آتی کیونکہ پاکستان کے اندر اور باہر زیادہ تر قوتیں پاکستان کو اس مسلے میں الجھائے رکھنا چاہتی ہیں۔پاکستان کی سویلین حکومت کے کمزور فیصلوں اور عالمی طاقتوں کو راضی رکھنے کے لیے اپنے لوگوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالنا یقیناً عقل مندی نہیں۔پاکستان کو اب یہ فیصلہ لینا ہو گا کہ افغانستان کے باعث آخر کب تک اپنے ملک اور اپنے لوگوں کے مفادات قربان کرتا رہے گا.

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -