جناتی، جنات کے رازداں اور دوست کے قلم سے۔قسط نمبر25

03 اکتوبر 2017 (20:17)

زندگی کسی پر رحم نہیں کھاتی،ہر پل رواں دواں رہتی ہے چاہے کسی بھی پہلو پر دوڑتی رینگتی ہوئی کیوں نہ چل رہی ہو۔اچھائی برائی سب اسکے سنگ ہوتا ہے ۔کس کے مقدر میں کس طرح سے چلنا لکھا ہے اور وہ کس عقیدے کے ساتھ سوچتا ہے ،زندگی اس سے بے پرواہ ہے .... وہ اپنا آپ انسان کے عمل سے ظاہر کرتی ہے ....میں جس دنیا میں پیدا ہوا اور مجھے جس طرح سے جینے کا سبق دیا گیامیرے لئے وہی سب کچھ تھا ،بھلا ایک بچہ کیسے اس بات کو جان سکتا ہے کہ سچائی کیا ہے ۔جو اسکے لاڈدیکھتا ہے اور جو اسکو سبق دیتا ہے وہ اسکو اپنا سب سے اچھا استاد اور رفیق سمجھتا ہے۔

میرا باپ شیطان تھا،شیطان کا چیلا تھا لیکن ماں تو مقدس تھی،ایک نیک روح ۔میں اکثر سوچتا ہوں کہ آگ اور پانی کا ملاپ کیسے ہوگیا ۔اچھی اور بری روح کیسے ایک دوجے کی جیون ساتھی بن گئیں اور پھر یہ کہ دونوں ایک تیسری روح کو دنیا میں لانے کا باعث بن گئیں۔میں پیدا ہوگیا ان کے ملاپ سے۔ بھائی یہ اللہ کی قدرت ہے،اسکی کاریگری ہے ۔وہی جانتا ہے کہ جو آج برا ہورہا ہے تو اس برائی میں سے آنے والے کل میں کیا اچھا جنم لے گا،میں آپ کے سامنے ہوں ،اسی کاریگری کا نمونہ ہوں ۔

میں ایک بات کہہ دوں کہ انسان بہت سے معاملات میں بے اختیار ہونے کے باوجود بااختیار ہوسکتا ہے لیکن اس کے لئے اس انسان کے اندر اچھائی کی قوت ہونی چاہئے،اسکی روح کا پاکیزہ ہونا ضروری ہے ۔چاہے جتنے بھی برے حالات کیوں نہ ہوں،اسکی روح اچھی ہوگی تو بدترین حالات میں بھی وہ برے بندے کو اچھا کام کرنے پر مجبور کرسکتی ہے ۔

اس روز جب مجھے ہوش آیا اور میں اپنے باپ کے سرہانے بیٹھا تھا،اس استھان کو دیکھ کر گھبرایا بھی تھا کیونکہ یہ سب میں پہلی بار دیکھ رہا تھا ۔میرے منہ سے سب سے پہلے جو لفظ نکلا وہ تھا” گرو ۔۔۔“

جناتی، جنات کے رازداں اور دوست کے قلم سے۔۔۔ قسط نمبر24

میں نے گرو کا کندھا ہلایا” گرو ،اٹھو“ میں سمجھ رہا تھا کہ وہ سو رہا ہے ۔کیا معلوم کہ بے ہوشی کیا ہوتی ہے۔

جب گرو نے آنکھیں نہیں کھولیں اور میں نے دوبارہ اسکو ہلایا تویکدم ماحول کی وحشت سے گھبرا کر میں سسک پڑا” ابو اٹھو ۔میں نے اماں پاس جانا ہے “

ایک چھوٹے سے بچے کے پاس اپنی ماں کے سوا کونسی طاقت ہوتی ہے جو اسکو گھبراہٹ سے بچا سکتی ہے۔بچے کے لئے اسکی ماں اورباپ ہی واحد قوت اور سہارا ہوتے ہیں ۔اس اجنبی ماحول میں ماں اور باپ کو پکارنا ہی تو بنتا تھا ۔

پتا گرو نے مجھے روتے دیکھا تو بولا” ببر پتر ابھی تیرا گرو جاگ جائے گا“

میں نے اس کو پہلی بار دیکھا اور بڑا عجیب لگا تھا وہ شخص جو بعد میں میرے لئے قابل تعظیم گرو بن گیا تھا ۔لیکن اس وقت میں بہت گھبرایا ہوا تھا ۔مجھے اسکی پہچان نہیں تھی ” میری اماں کہاں ہے ،مجھے اماں پاس جانا ہے“

” نہیں ببراس کلموئی کا نام نہ لے ورنہ تیرا گرو اٹھے گا نہیں“ پتا گرو نے لاڈ سے کہا” میں اور تیرا گرو ہی تیری ماں بھی ہیں “

” نہیں میں نے اپنی اماں پاس جانا ہے“ یہ کہہ کر میں نے گرو کا کاندھا ہلانا چاہا تو یکایک پتا گرو کے پاس بیٹھا ایک بالشتیا پھدک کر گرو کے پیٹ پر آبیٹھا ۔

میں حیرت سے اسکو دیکھنے لگا ،اسکی شکل میرے جیسی تھی ۔کئی لمحے منہ کھولے میں اس کو دیکھتا رہا” میں تیرے ساتھ ہوں ببر “ وہ سرکتا ہوا میرے پاس آیا ۔اس کا قد یہی کوئی ایک فٹ ہوگا،انتہائی دبلا پتلا۔کپڑوں سے آزاد ۔اس نے ہاتھ آگے بڑھایا ”مجھ سے دوستی کرلو ،پھر ہم دونوں کھیلا کریں گے“ اس نے ہاتھ بڑھایا ۔لیکن میں نے اسکا ہاتھ نہیں تھاما ۔

” ببر میرا ہاتھ پکڑو لو“ اس نے باریک سی لجاجت بھری آواز میں کہا” میں تمہارا بہت خیال رکھوں گا ۔تمہیں ایسی ایسی میٹھی چیزیں لا کر دوں گا جو تم نے پہلے نہیں کھائی ہوں گے“

میں اسکو خاموشی سے دیکھتا رہا،ہاتھ پھر بھی آگے نہیں بڑھایا تو اس نے گردن موڑ کر پتا گرو کو دیکھا ۔” پتا جی ببر دوستی نہیں کررہا ہے“

” کر لے گا ،مچلتا کیوں ہے“پتا گرو جو چند قدم پرے کھڑا تھا وہ میرے پاس آیا اور سر پر ہاتھ رکھ کر کہا” ببر پتر تو ہمارا شیر ہے ۔“ اس نے بالشتئے کی طرف اشارہ کیا ” یہ گنگو ہے ،تیرا مکھ ،تیرے جیون کی پرچھائیں ۔“ میں ان لفظوں کے معنی نہیں جانتا تھا اس لئے ان لفظوں نے مجھ پر کوئی تاثر نہیں چھوڑا لیکن بعد میں جب بھید کھلے تو مجھے گنگو اور اپنے درمیان تعلق کی سمجھ آگئی کہ وہ ایک پرچھائیں ہی تھا مگر کتنی بڑی ....جو پھیلتی تو کہاں کہاں نہیں اس کا سایہ دراز ہوتا تھا ۔

” تو اس سے یاری گانٹھ لے ببر “ پتا نے اپنے ہاتھ سے میرے سرکو سہلاتے ہوئے کہا۔میں نے محسوس کیا کہ جب پہلی بار اس نے میرے سر پر ہاتھ دھراتھا تو اتنا نرم اور مائم نہیں تھا،اس کی انگلیوں کی سختی صاف طور پر محسوس ہوئی تھی لیکن اب کی بار جیسے وہ ہاتھ نہ ہو کوئی روئی کا گُڈا ہو۔میں نے سر اٹھا کر اسکی طرف دیکھا ”میرے پتر ہم سب تیرے ہیں .... گنگو کو تو اپنا بھائی سمجھ “ میں نہیں جانتا کہ اس بار پتا گرو کے لہجے میں اور اسکے ہاتھ میں کیسا تاثر تھا کہ میں اس کا گھائل ہوگیا اور اپنا ہاتھ گنگو کی جانب بڑھایا ۔

میں اس وقت کو نہیں بھول سکتا ۔گنگو نے اپنا ہاتھ میری جانب بڑھایا تو اس کا چھوٹا سا ہاتھ میرے ہاتھوں میں آتے ہی کسی فولاد ی چمچے کی طرح سیدھا ہوگیا ۔میں نے حیران ہوکر دیکھا کہ میرے ہاتھ میں کیا چیز آگئی ہے ۔

گنگو بالشتیا ہی دکھائی دیتا تھا اور اسکا ہاتھ چپٹا ہوا چمچے کی طرح .... گنگو میرے تاثرات دیکھ کر بولا ” تو نہیں جانتا لیکن میں تجھے بتائے دیتا ہوں کہ میں تجھ سے بڑا ہوں ۔پورے نو مہینے بڑا ہوں “ اس نے پتا گرو کی طرف شرارت سے دیکھا ” کیوں پتا جی میں ببر سے بڑا ہوں ناں “

پتا گرو نے سرہلایا تو گنگو نے ہاتھ پیچھے کھینچ لیا اور میرے باپ کے سینے پر چڑھ گیا ۔اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے اسکی مونچھیں صاف کرنے لگا ،منہ سے پھونکیں مار کر اسکے چہرے سے خاک سی اڑانے لگا۔یہ اسی جیون راکھ کے ذرے تھے جو پرماتما اور اسکی سندریا نے اگنی میں بیٹھ کر بلیدان کی تھی ۔

” منڈپ سجاو¿“ میرے پاس کھڑے پتا گرو نے دیوارکی جانب رخ کرکے پرچھائیوں کو مخاطب کیا ” ہم نے اپنے پتر کو جگانا ہے اب “ پتا گرو نے گنگو کو مخاطب کیا ” گنگو تیرے وچار کیا کہتے ہیں ببر اب ٹھیک ہے “ یہ کوئی رمزیہ بات تھی جس کا مجھے بعد میں علم ہوا کہ اس کا مطلب کیا تھا۔پتا گرو کے پوچھنے کا مقصد تھا کہ میرے بے ہوش ہونے اور دوبارہ جیون پانے کے دوران گنگو کے جسم کا کو ئی حصہ میرے اندر تو نہیں رہ گیا۔میرے بدن سے باہر نکلتے ہوئے اسکا کوئی بال یا ذرّہ ،اگر میرے بدن میں رہ جاتا تو آنے والے دنوں میں اسکا اثر بالکل ایسے ہوتا جیسے مسان اثر کرتا ہے۔

یہ تو آپ جانتے ہیں کہ مسان کیا ہوتا ہے۔مردوں کی راکھ جو جنتر منتر کے بعد کسی کو کھلادی جائے تو اس بندے کو بیمار کردیتی ہے اور وہ سسک سسک کر اسی موت سے مرتاہے جس میں وہ مردہ مرا ہوتا ہے۔

گنگو نے اپنے جسم کو دیکھا ،سر کے ایک ایک بال کو گننے لگا اور ساتھ ساتھ کسی انجان زبان میں گنتی پڑھتا رہا ہے۔اس کو بال گننے میں ا تنی مہارت تھی کہ شاید ہی کوئی عام انسان یہ کام کرسکتا ہوگا ۔گنگو کے چہرے پر ہلکی سی تشویش کی لہر پیدا ہوئی۔

” باپو “

” کیا ہوا “ پتا گرو نے پوچھا ۔

” ایک ناخونہ اندر رہ گیا ہے“ اس نے چپٹے ہوئے ہاتھ کی چھوٹی سی انگلی کی طرف دیکھتے ہوئے گڑگڑا کر کہا ” یہ تو ابھی نکالنی ہوگی باپو“

” اچھا“ اس نے ایک نظر میرے باپ کے چہرے پر ڈالی اور پرچھائیوں سے کہا” منڈپ روشن کرو اور ناگفنی بجاو“

اس کا حکم سنتے ہی استھان میں روشنی پھیل گئی ۔مجھ سے دس قدم دور ایک چھوٹی سی انگیٹھی میں چار صندلی لکڑیاں جل اٹھیں اور تین پرچھائیاں ہاتھوں میں ناگ کے منہ والے آلے لیکر منڈپ کے پاس بیٹھ گئیں ۔پتا گرو نے اپنا ہاتھ اوپر کیا اور شبد پڑھتے ہوئے آلاپ دیا تو منڈپ میں بیٹھی پرچھائیوں نے ناگفنی کو اپنے منہ میں دباکر بجاناشروع کردیا۔ اچانک فضا میں سو ں سوں کرتی پھنکاریں سی سنائیں دیں۔ ایسے جیسے بہت سے سانپ پھنکار رہے ہوں۔ لیکن دوسرے ہی لمحے ان سوں سوں کی پھنکاروں میں ردھم ،راگ ،آلاپ سے جاگ اٹھے ۔ان آوازوں کو سن کر مجھے بہت اچھا لگا لیکن اچانک مجھے لگا کوئی شے میری ناف پر رینگ رہی ہے ۔ میں نے جھٹ سے ہاتھ ناف پر رکھا اور دیکھا گنگو کا پورا وجود دھویں میں بدل رہا ہے اور یہ دھواں میری ناف میں گھس رہا ہے۔یہ دیکھ کر میں ڈر گیا اور میری چیخ نکل گئی ۔میرا دل ڈوبنے لگا اورسینے پر منوں بوجھ سا پڑگیا ۔سر چکرانے لگا ۔مجھے صاف طور پر محسوس ہورہا تھا میرے پورے بدن کے اندر کوئی شے بڑی تیزی سے گھوم رہی ہے۔ اور پھر اچانک میں نے ایک ہاتھ سے پیٹ کو دبایا اور دوسرے ہی لمحے قے کردی ۔

قے کی پچکاری سیدھی گرو یعنی میرے باپ کے پیٹ پرجاپڑی ۔میرا پورا وجود جو نادیدہ عمل سے جھنجھنا چکا تھا اور حواس ختم ہوگئے تھے قے کرتے ہی سنبھل گیا ۔میری آنکھیں اس وقت پھٹی کی پھٹی رہ گئیں جب دیکھا کہ قے کا ذرہ ذرہ سمٹ کر گنگو کی صورت میں متشکل ہوگیا ہے۔ا س نے ہانپتے ہوئے اپنا ہاتھ پتا گرو کی جانب بڑھایا ” پتا جی ۔یہ لیں“ وہ ناخونہ میرے اندر سے نکالنے میں کامیاب ہوگیا تھا وہ مگر اس کوشش میں وہ بری طرح ہانپ گیا تھا ۔

پتا گرو نے ناخونہ پکڑا اور اسکو منڈپ کی آگ میں جھونک دیا ۔ (طلسم ہوشربا کہانی جناتی....جاری ہے)

پراسرارعلوم اور ماورائی دنیا کی سلسلہ وار کہانی۔قسط نمبر26 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزیدخبریں